بجٹ کا لفظ ہمارے لیے اس قدر خوف ناک بن چکا ہے کہ ہر سال جون میں نئے سال کے بجٹ کا اعلان ہونے سے قبل لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ عوام کو اگرچہ کبھی کبھی ریلیف بھی دے دیا جاتا ہے لیکن عام تاثر یہی ہے کہ ہر نئے بجٹ میں لوگوں پر بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے حالانکہ اب تو حکومت جب چاہے یہ بوجھ بڑھا دیتی ہے اور جتنا چاہے بڑھا دیتی ہے۔ اس کے باوجود بجٹ کا خوف اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔
اس بار بھی لوگوں کی یہی حالت ہے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کا بجٹ دس جون کو پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے یعنی بجٹ آنے میں اب صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے البتہ عوامی حلقوں میں کم و بیش پچھلے ایک مہینے سے یہی چہ میگوئیاں چل رہی ہیں کہ بجٹ کیسا ہو گا۔ سرکاری ملازمین کو اپنی تنخواہوں میں اضافے کی فکر ہے تو خواتین آرائش جمال کے سامان کے سستا ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھی ہیں۔ تمباکو نوش سگریٹ کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے پریشان ہیں تو تاجر اور صنعتکار اپنے کاروبار کے لیے مراعات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ادھر حکومت کو اپنی آمدن بڑھانے کی فکر دامن گیر ہے اور وہ اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ کس طبقے پر کتنا مزید ٹیکس عائد کرنا ہے، کون سے شعبے پر زیادہ مالی بوجھ ڈالنا ہے اور کس مد میں اخراجات کو کم کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں چند روز قبل خزانے کے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت نے چھوٹے دکانداروں پر فکس ٹیکس سکیم بھی متعارف کرائی ہے جبکہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان بھی بجٹ کے مختلف امور پر اچھی خاصی رسہ کشی کی کیفیت دیکھنے میں آئی ہے۔
بجٹ کا خوف اس لیے ہوتا ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام آمدن کے اہداف پورے نہیں کر پاتا اور نتیجے میں یہ بوجھ عوام کو سہنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بھی حکومت پاکستان سے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور ٹیکسوں پر دی جانے والی رعایتیں ختم کرے۔ اس صورت حال میں حکومت کی طرف سے فکس ٹیکس متعارف کرانے کی خبر ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر سامنے آئی ہے اور اسی لیے اسے عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کہ اس سے ٹیکس وصولی کے نظام میں کچھ نہ کچھ بہتری آئے گی اور عوام پر براہ راست ٹیکسوں کا بوجھ کچھ کم ہو سکے گا۔
فکس ٹیکس سکیم کا اطلاق ایسے دکانداروں پر ہوگا جن کا سالانہ ٹرن اوور20کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا۔ وفاقی حکومت کا یہ اقدام ٹیکس نظام میں وسعت لانے کے لیے ہے۔ اس سکیم کے تحت دکاندار اپنی آمدنی پرایک فیصد انکم ٹیکس دیں گے۔ حکومت کو اس سکیم سے سالانہ 50 ارب روپے ریونیوحاصل ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا تاجر تنظیموں کی جانب سے بھی خیر مقدم کیا گیا ہے۔ تاجر تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس کے لیے آسان سکیم متعارف کرائی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تاجر طبقہ ملک کا ٹیکس دینے والا سب سے بڑا طبقہ ہے اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا طبقہ ہے لیکن اس سے ٹیکس وصولی کے لیے ابھی تک جو بھی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، وہ بداعتمادی اور بدعنوانی کے عنصر کے باعث وہ نتائج نہیں دے سکا جس کی اس سے توقع تھی۔ اب اگر تاجر طبقہ فکس ٹیکس کا خیر مقدم کر رہا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اس سے ٹیکس ریونیو بڑھے گا اور ملکی آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ امید ہے کہ وزارت خزانہ اس ٹیکس کی وصولی کے نظام کو اس انداز سے تشکیل دے گی کہ ماضی میں ٹیکس وصولی کے نظام میں جو نقائص یا پیچیدگیاں تھیں، وہ ختم ہو جائیں گی۔
ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے ابھی تک تو صورت حال بہت مایوس کن رہی ہے۔ ایف بی آر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ٹیکس کی وصولی کے مطلوبہ اہداف شاذ و نادر ہی حاصل کر سکا ہے اور ٹیکس دینے والے طبقات کا سارا زور ٹیکس بچانے پر خرچ ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹیکس کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سمیت مختلف طریقوں کے ذریعے عوام سے وصول کر لیا جاتا ہے جس سے بجلی اور پٹرول جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے اور ان قیمتوں کا اثر روزمرہ استعمال کی تمام اشیا پر پڑتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی صورت میں رک سکتا ہے اگر حکومت ٹیکسوں کی وصولیوں کے نظام کو اتنا بے عیب بنائے کہ کوئی شخص ٹیکس دینے سے گریز نہ کرے اور جمع ہونے والا سارے کا سارا ٹیکس قومی خزانے میں جمع ہو جائے۔ ملک میں ایک منصفانہ ٹیکس نظام بہت ضروری ہے۔
ٹیکس کا نظام جتنا بہتر ہو گا، بیوروکریسی پر جتنی سخت نظر رکھی جائے گی، ٹیکس دہندگان کا اعتماد اتنا ہی بڑھے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس کے نظام کی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کریں۔ دیکھیں کہ کون سا شعبہ ٹیکس ادا نہیں کرتا۔
حالیہ بجٹ کے حوالے سے بھی عوام کے ذہنوں میں یہی خوف پایا جاتا ہے کہ نہ جانے اس بار ہم پر کیا پہاڑ ڈھایا جائے گا، ان کی کمر پر ٹیکسوں کا مزید کتنا بوجھ لادا جائے گا، کون کون سی چیز مہنگی ہو جائے گی اور گرانی کی شرح میں کتنا اضافہ ہو گا۔ عوام اگرچہ بجٹ سے کچھ زیادہ پر امید تو نہیں لیکن معیشت میں بہتری کے حکومتی دعووں کے پیش نظر انھیں روشنی کی ایک موہوم سی کرن ضرور نظر آ رہی ہے کہ شاید اس بار بجٹ ان کے لیے کوئی اچھی خبر لے آئے۔
دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
بجٹ آ رہا ہے
09:06 AM, 9 Jun, 2026