معیشت بحالی کی جانب گامزن، مہنگائی میں بڑی کمی: وزیر خزانہ

03:43 PM, 9 Jun, 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے اور ملک میں معاشی استحکام کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی، جبکہ مہنگائی کی شرح جو پچھلے سال 29 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی تھی، اب کم ہو کر 4.6 فیصد تک آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کو بھی 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد پر لایا گیا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے خوش آئند ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ترسیلات زر کا تخمینہ 38 ارب ڈالر تک لگایا جا رہا ہے۔ برآمدات میں بھی 6.8 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ان کا حجم 27 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پچھلے پانچ برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے، جس کی وجہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر اصلاحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائلرز کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

حکومت نے 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کے عمل میں شامل کر دیا ہے جبکہ 43 وزارتوں اور 400 سے زائد محکموں کی رائٹ سائزنگ کا عمل جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ کئی ادارے آپس میں ضم کر دیے گئے ہیں تاکہ حکومتی اخراجات کم ہوں اور نظام بہتر بنایا جا سکے۔

اگرچہ زرعی شعبے میں صرف 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کئی اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن صنعتی شعبے میں 6 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2 فیصد سے زیادہ بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 39 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اسی طرح فی کس آمدنی میں بھی 162 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 1,824 ڈالر ہو گئی ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو اب اسٹرکچرل ریفارمز کی ضرورت ہے تاکہ یہ ترقی کا مستقل راستہ اختیار کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے اعتماد بحال ہوا ہے اور مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزیدخبریں