اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنے بھی مسائل ہیں، ان سب کا حل کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔ اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔
ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور ذمہ دار ایٹمی ملک ہے جو ہمیشہ بات چیت اور سفارتی راستے سے مسائل حل کرنے کا حامی رہا ہے، لیکن بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ بھارت کو کوئی حق نہیں کہ وہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرے۔
بلاول نے یہ بھی کہا کہ بھارت جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔ پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا گیا، حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف سیز فائر کافی نہیں، اصل امن تب ہی آئے گا جب دونوں ملک سنجیدہ مذاکرات کریں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کے لیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔