بھارت اور میانمار کی سرحد پر کشیدگی، بھارتی فوج کی خاموشی سوالیہ نشان

11:55 AM, 9 Jun, 2025

نئی دہلی : بھارت اور میانمار کے درمیان 1643 کلومیٹر طویل سرحد پر تین ہفتوں میں تیسری بار بڑا حملہ ہوا ہے، مگر بھارتی فوج کی طرف سے خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ 5 جون کو اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع میں شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ بھارتی فورسز پر حملہ کیا اور پھر میانمار کی سرحد پار فرار ہو گئے۔

6 جون کو سرچ آپریشن میں دو شدت پسند مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم این ایس سی این (کے وائی اے) تنظیم سے بتایا گیا ہے، جو بھارت پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور جس کا کوئی سیزفائر معاہدہ نہیں ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے نقصانات کی کوئی معلومات جاری نہیں کی، اور مقامی میڈیا بھی اس معاملے پر خاموش ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت یہ سب چھپانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی عالمی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔

پچھلے برسوں میں بھی یہاں تشویشناک حملے ہو چکے ہیں، جن میں فوجی ہلاک ہوئے اور بھارت نے میانمار کے اندر عسکری کارروائیاں بھی کیں۔ ستمبر 2024 میں بھارتی حکومت نے سرحد کی حفاظت کے لیے بڑے منصوبے کی منظوری دی، مگر دشوار گزار پہاڑ، مقامی لوگوں کی مزاحمت اور حملہ آور گروہوں کی موجودگی نے ان کوششوں کو محدود کر دیا ہے۔

اس خطے میں سرگرم سب سے بڑا گروہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (کے وائی اے) ہے، جو میانمار کے جنگلات میں چھپا ہوا ہے اور بھارت پر حملے کرتا رہتا ہے۔ بھارتی فوج پر الزام ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عام لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے علاقے میں نفرت اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور مقامی لوگوں کو شامل کیے بغیر اپنی پالیسی نہ بدلی تو یہ سرحد کشمیر جیسی کشیدہ صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے، جہاں ایک خفیہ اور طویل کشیدگی جاری ہے۔

مزیدخبریں