واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں دو دن کے اندر دوسری بار ملاقات ہوئی، مگر حیران کن طور پر اس اہم ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ بیان یا اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔
یہ ملاقات ایک نجی عشائیے پر ہوئی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، مگر نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی تفصیلات جاری کی گئیں۔ ملاقات کے بعد نیتن یاہو میڈیا سے بات کیے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق، ملاقات کی تفصیلات نہ آنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی اہم مسئلے پر اختلاف ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ دن پہلے تک دونوں کی جانب سے مثبت بیانات سامنے آئے تھے، مگر اس خاموشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔
اس ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو سے غزہ کے مسئلے پر بات کریں گے، اور یہ بھی بتایا کہ اسرائیل اور حماس چار میں سے تین نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر ابھی تک کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اسرائیلی حکام اب بھی غزہ سے فوجی انخلا اور دیگر علاقوں میں فوج کی موجودگی پر غور کر رہے ہیں، البتہ فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے کے طریقے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
اسی دوران امریکی صدر کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ، سٹیو وٹکوف نے اپنا دورہ دوحہ ملتوی کر دیا، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا تھا۔ وٹکوف نے امید ظاہر کی تھی کہ ہفتے کے آخر تک 60 دن کی جنگ بندی طے پا جائے گی۔
قطری وفد بھی نیتن یاہو کی ملاقات سے پہلے واشنگٹن آیا اور امریکی حکام سے طویل بات چیت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پس پردہ بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر نتائج اب تک واضح نہیں ہو سکے۔