کراچی: تحریکِ پاکستان کی سرکردہ رہنما اور بانی پاکستان کی بہن، مادرِ ملت فاطمہ جناح کو ہم سے بچھڑے آج 58 سال ہو چکے ہیں۔ ان کی برسی ملک بھر میں احترام اور عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
محترمہ فاطمہ جناح نے قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ آزادی کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ خواتین کو سیاسی شعور دینے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور تحریکِ پاکستان میں فعال بنانے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ قوم آج بھی ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے اور انہیں سلام پیش کرتی ہے۔
فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 1919 میں انہوں نے کولکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹل سرجری کی تعلیم حاصل کی اور بمبئی میں پریکٹس کرتی رہیں۔ 1929 میں قائداعظم کی اہلیہ کے انتقال کے بعد وہ اپنے بھائی کے قریب آئیں اور سیاست میں متحرک ہو گئیں۔
تحریکِ آزادی کے دوران وہ خواتین کی آواز بنیں، جلسے جلوسوں سے لے کر تنظیم سازی تک ہر محاذ پر پیش پیش رہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ویمنز ریلیف کمیٹی قائم کی، جو بعد میں آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن کی بنیاد بنی۔
1965 کے صدارتی انتخاب میں وہ فوجی حکمران ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار بنیں اور ایک مضبوط اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئیں۔
9 جولائی 1967 کو وہ کراچی میں اپنے گھر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی آخری آرام گاہ مزار قائد کے احاطے میں ہے۔ آج کا دن ان کی بے مثال خدمات اور قومی جذبے کو یاد کرنے کا دن ہے، جب پوری قوم ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔