فہمیدہ کی کہانی، اْستانی راحت کی زبانی

09:37 AM, 9 Jul, 2025

اِس مضمون کا عنوان جناب اشفاق احمد صاحب کے شہرۂ آفاق ڈرامے سے مستعار لیا گیا ہے جس کے ہدایت کار جناب محمد نثار حسین صاحب تھے۔ اِس مضمون کا موضوع بھی کم و بیش وہی ہے جو اْس ڈرامے میں دِکھایا گیا تھا۔27جون 2025ء کو اِٹلی کے شہر وینس میں ایمیزون کے مالک جیف بیزوز کی شادی لارن سانچیز سے ہوئی۔ ہم جانتے ہیں کہ جیف بیزوز دْنیا کے تیسرے نمبر کے امیر ترین اِنسان ہیں جن کی کل دولت کا تخمینہ 244ارب امریکی ڈالر ہے۔ اِس شادی میں تقریباً دو سو افراد نے شرکت کی۔ اِن میں سے نوے افراد کو پرائیویٹ جیٹ جہازوں کے ذریعے بلایا گیا۔ مہمانوں میں بل گیٹس، لیونارڈو ڈی کیپریو، کاردشیان خاندان کی خواتین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا، اْن کی نند ماڈل کارلی کلاس، آپراہ وِنفری  نمایاں تھیں۔شادی میں شریک افراد کی کل دولت کا تخمینہ 435ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ ایک اَندازے کے مطابق اِس تین روزہ شادی کی تقریب پر 34 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ دْنیا کی مہنگی ترین شادیوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ اِس میں دولت کی بے بہا اَور آزادانہ نمائش کی گئی۔ وینس کے رہنے والوں اَور دْنیا کے دِیگر ممالک میں اِس شادی پر بہت زیادہ اعتراضات بھی کیے گئے۔ اِن میں سے ایک اعتراض اِس نمائش کے حوالے سے تھا۔ اِس پر لوگوں نے یہ بھی کہا کہ جناب یہ دولت جیف بیزوز کی ہے۔ وہ اِسے جیسے چاہے خرچ کرے۔ یہ بات اپنی جگہ تب دْرست ہوسکتی ہے جب اِس آزادی سے کسی دْوسرے کا نقصان نہ ہوتا ہو۔ ایمیزون جس طرح کاروبار کرتا ہے، اْس پر بہت سے لوگوں کے بہت زیادہ اِعتراضات ہیں، خاص طور پر ٹیکس کی چھوٹ کے حوالے سے جو اْس اِدارے کو دی گئی ہیں۔ جیف بیزوز صرف 1.1%کے حساب سے ٹیکس دیتے ہیں جو بہت سے لوگوں اَور اِداروں سے بہت کم ہے۔ یوں یہ دولت کے اَنبار لگائے گئے ہیں۔ 
لیکن اِس سے قطع نظر کہ یہ دولت کیسے اکٹھی کی گئی،ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بے بہا دولت ہمیشہ اَپنی نمائش طلب کرتی ہے۔ جیف بیزوز تاریخ کا پہلا اِنسان نہیں ہے جس نے دولت کی نمائش نہایت بھونڈے طریقے پر کی ہے۔ اَیسے ہی ایک شخص کی مثال قرآنِ حکیم کی سورۃ القصص کی آیات 76-82میں بھی ملتی ہے جو آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے حضرت مْوسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں پایا جاتا تھا۔ اْس شخص کا نام قارْون تھا۔ وہ حضرت مْوسیٰ علیہ السلام کے چچاکا بیٹا تھا۔ توراۃ میں اْس کا نام قورح (Korah) بیان کیا گیا ہے۔ اْس کے پاس اِتنی دولت تھی کہ صرف اْس کے خزانے کی کنجیاں اْٹھاتے ہوئے دس پندرہ افراد کے ایک جتھے کی کمریں جھک جایا کرتی تھیں۔بنی اِسرائیل کے سمجھ دار لوگ اْسے سمجھایاکرتے تھے کہ تم اَپنی دولت پر اِتنانہ اِترایا کرو۔ اِس دولت کو اَپنی آخرت سنوارنے کے لیے اِستعمال کرو۔ جواب میں قارون کہتا تھا کہ مجھے یہ دولت میرے علم کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ گویا میں نے غریبوں کا ٹھیکہ نہیں اْٹھایا ہوا۔ پھر ایک دِن جب وہ اَپنی دولت کی نمائش کرنے کے لیے خوب ٹھاٹ باٹ سے نکلا تو جن لوگوں کا اِیمان کمزور تھا کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ سب کچھ مل جاتا جو کہ قارون کا دِیا گیا ہے۔ واقعی یہ تو بہت خوش نصیب اِنسان ہے۔ پھر جب قارون اَپنے گھر کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا گیا تو اْن لوگوں کی آنکھیں کھلیں جو اْس پر رشک کرتے تھے۔
دیکھا جائے تو ہر زمانے میں ایک قارون پایا جاتا ہے۔ بالکل اْسی طرح جیسے ہر زمانے میں فرعون اَور ہامان پائے جاتے ہیں۔ آج بھی جو شخص جبر اَور ظلم میں بے مثال ہو اْسے فرعون کہا جاتا ہے۔ ایسے فرعونوں کی ہر بات پر لبیک کہنے والوں کو آج بھی ہامان کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ تو آج کے قارون بھی کمزور اَفراد کے اِیمان کو متزلزل کرتے ہیں۔ وہ کمزور لوگ چاہتے ہیں کہ اْنہیں بھی اِتنی ہی دولت حاصل ہوجائے اَور وہ اْس کی اْسی طرح نمائش کریں جیسے کہ یہ قارون کررہا ہے۔ 
بات اشفاق احمد صاحب کے ایک ڈرامے سے شروع ہوئی تھی اَور جیف بیزوز کی شادی تک گئی۔ دیکھا جائے تو اْس ڈرامے کی کہانی بھی ایک شادی سے متعلق ہی تھی۔ جب دولت کی یوں نمائش کی جائے تو بہت سے غریب اَپنی غربت کے احساس تلے دب کر قلبی یا جسمانی طور پر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ جب دولت سڑکوں پر، بازاروں میں، گلی کوچوں میں یوں اْچھالی جائے کہ دیکھنے والا دم بخود رہ جائے، اْس کا اوپر کا سانس اْوپر اَور نیچے کا نیچے رہ جائے تو معاشرے میں بہت سی خوفناک تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ عزت و احترام کا معیار پیسہ قرار پاتا ہے۔ پیسہ ہی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ لوگوں کو لگنے لگتا ہے کہ اصل بڑائی پیسے کی ہے۔ یوں پیسے کی ایک اندھی دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ ہر حال، ہر صورت میں امیرہونا چاہتے ہیں تاکہ معاشرے میں اْن کی عزت بنے، وقار ہو۔ وہ لوگوں کے خطروں سے محفوظ رہ سکیں۔ جب چاہیں، جو چاہیں حاصل کرسکیں۔ لیکن جو بات وہ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ دولت جمع کرنے کی کوئی حدنہیں ہے۔ ہمارے ملک کے بیشتر لوگ ایسے ہیں کہ اْنہیں اگر دس ملین امریکی ڈالر مل جائیں تو وہ یہ بات نہیں جانتے ہوں گے کہ اِسے کیسے خرچ کیا جائے۔ جیف بیزوز کی شادی کی تین روزہ تقریبات میں چونتیس ملین امریکی ڈالر خرچ ہوگئے۔ جیف بیزوز کی کل دولت اِتنی ہے کہ اْس کی سات پشتیں بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔ لیکن کیااْس کے دِل میں یہ خیال آیا ہوگا کہ بس اِتنی دولت کافی ہے؟ مزیددولت کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ یایہ کہ مجھے اِس زندگی میں جتنی دولت درکار ہے اْتنی رکھ کر میں باقی کی خیرات کردوں۔اَیسا نہیں ہوتا۔ دولت تقسیم ہو نا نہیں چاہتی، وہ ضرب دیا جانا پسند کرتی ہے۔ دوسروں کو دبانا، اْنہیں احساس کمتری میں مبتلا کرنا، اْن کی دلوں کی دھڑکنوں کو اْتھل پتھل کرنا ہی دولت کی خواہش ہے۔ 
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں وہ اَپنی فالتو دولت کو یوں سڑکوں پر نہیں اْچھالتے بلکہ اْسے کارِ خیر میں خرچ کرتے ہیں۔ اْس سے اچھے تعلیمی اِدارے قائم کرتے ہیں،کوئی کاروبارشروع کرکے لوگوں کے روزگار کا بندوبست کرتے ہیں، نادارافراد کی مدد کرتے ہیں، ہسپتال بنواتے ہیں وغیرہ۔ دولت کمانا ہرگز کوئی بری بات نہیں ہے۔ اِس کے کمانے کی کوئی حد بھی ہمارا دین مقرر نہیں کرتا۔ جو چیز ناپسندیدہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ دولت دْوسرے کیلئے کسی قسم کے ظلم یازیادتی کا سبب بنے۔ حساس لوگوں کو یہ احساس  دلائے کہ تم کم تر اَور بد نصیب لوگ ہو۔ تمھاری زندگی ایک گالی کی مانند ہے۔ جو امیر ہے، وہی دراصل بارآور، خوش نصیب، مقبول بارگاہ ہے۔ غریب اِس لیے غریب ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسندہے اَور امیراِس لیے امیر ہے کیونکہ اْسے اللہ تعالیٰ بے حد پسند فرماتا ہے۔ یہ وہ خوفناک سوچ اَورنظریہ ہے جو ہر زمانے کے قارون غریبوں میں پھیلاتے ہیں۔ پھر غریب یا تو یہ بات مان لیتاہے کہ اْس کا مقدر فرعونوں اَور قارونوں کی خدمت کرنا ہی ہے یا پھر وہ علم بغاوت بلندکرتا ہے اَور ہر صورت میں اْتنی دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے و ہ بھی قارون بن سکے۔ یوں ایک ایسا خوفناک پہیہ چلتا ہے جس سے معاشرے کی عمدہ قدریں پس کر رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اَپنی دولت کیسے اِستعمال کریں اَور اِس سے لوگوں میں اِحساسِ کمتری پیدا نہ ہونے دیں۔ ہماری دولت ہمارے معاشرے کی بہتری اَورہماری عاقبت سنوارنے کے لیے اِستعمال ہونی چاہیے۔ اِسے لوگوں کے لیے آکسیجن کاکام کرنا چاہیے نہ کہ کاربن مونو آکسائیڈ کا کہ لوگوں کا سانس ہی بند ہوجائے۔

مزیدخبریں