جاڑے کی اوس رات کو سنمیٹک بنا رہی تھی۔ میٹرو سٹیشن پر حسبِ معمول رش تھا۔ شدید ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ لوگوں کی اکثریت گرم کپڑے، چمڑے کی جیکٹیں اور لانگ کوٹ پہنے ہوئے تھی۔ میں کافی عرصے بعد راول پنڈی کے میٹرو سٹیشن پر آیا تھا۔ یہاں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ پہلے سٹاپ سے ہی تمام سیٹوں پر سواریاں بیٹھ گئیں۔ چار پانچ نوجوانوں کا جتھہ بس میں سوار ہوا سیٹ خالی دیکھ کر میرے ساتھ ایک بیس بائیس برس کا جوان بیٹھ گیا۔ سب کی کمر سے کتابوں سے بھرے ہوئے بیگ لٹک رہے تھے حلیے سے معلوم ہوتا تھا کہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ میرے ساتھ بیٹھے نوجوان نے دبیز عینک کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے فیس بکی خبر پڑھی، میں ٹھیک سے سن نہ سکا۔۔ پھر میری طرف نہایت مضطرب انداز سے دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔ " یہ ملک تو چھوڑ کر باہر چلے جانا چاہیے" مجھے حیرت ہوئی۔۔ نواجوان خاصا پریشان نظر آ رہا تھا۔ بس اگلے میٹرو سٹیشن پر رکی، باہر لوگوں کا ہجوم منتظر تھا۔ دروازے کھلتے ہی بہت سے لوگ بس میں داخل ہوئے۔ نوجوان نے حقارت سے کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا۔ پھر خود کلامی کرنے لگا۔ ان لوگوں کو سینس ہی نہیں ہے۔ باہر کے ملک میں ہوتے تو آرام سے بس میں داخل ہوتے۔۔۔ یہ انکل کا کوٹ دیکھیں۔۔ برانڈڈ تو ہر گز نہیں۔۔ایسے ہی لوگ اس جنگلہ بس میں سفر کرتے ہیں۔۔
میں نے پہلی بار اس سے سوال کیا۔ تو کیا اس بس میں سفر کرنا غلط ہے؟ نوجوان نے مکمل طور پر میری طرف مڑ کر دیکھا۔ پھر کروٹ سے بیٹھ کر اچھی طرح سیٹ ہوا اور کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح منہ کی کیسٹ کا بٹن دبا کر شروع ہو گیا۔ یہ جنگلہ بس سارا پیسہ کھا گئی ہے۔۔ ملک کو بس کی نہیں، سڑک کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے، ہمیں ملازمت کی ضرورت ہے، ملک میں کرپشن نہیں ہونی چاہیے، پولیس مثالی ہونی چاہیے، ارطغرل غازی میں کائی قبیلے نے اپنی خودداری سے دنیا پر حکومت کی تھی۔۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض لے کر اچھا نہیں کیا اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے صرف انقلابی گانے اچھے ہیں۔۔۔
مجھے محسوس ہوا کہ وقت کم ہے اور نوجوان میں جو کیسٹ بھری گئی ہے وہ خاصی طویل ہے۔ میں نے اس کی سہولت کے لیے کہا " آپ سمجھتے ہیں کہ اس سب کی ذمہ دار میٹرو بس ہے؟" ۔
وہ پھر الجھ کر بولا " یہ شعور آپ کو نہیں دیا گیا۔ یہ شعور ہے کہ سڑکوں پر پیسہ لگانا کرپشن ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے کاروبار چمکتے ہیں۔
میں نے کہا جی بلا شبہ دیکھیں کتنے سیاست دان بس میں سفر کر رہے ہیں۔ اور کتنے کاروباری لوگ یہاں ڈرائیور ، کنڈکٹر اور سٹاف میں بھرتی ہو گئے ہیں۔ اور آپ تو قوم پر احسان کرنے کی خاطر یہاں تشریف لے آئے ہیں ورنہ آپ کو بس کی ضرورت ہے نہ ہی سڑک کی۔۔سڑکوں کی تعمیر بلکہ پورے انفراسٹرکچر کی ترقی کا تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار سے کیا تعلق ہے یہ بھی جاننے کی بھلا آپ کو کیا ضرورت!۔
نوجوان الجھ سا گیا۔ پھر تھوڑی تیز آواز میں بولنے لگا۔ " آپ کو اصل بات پتا نہیں ہے۔ یہ بس ایک بڑی سازش تھی لوگوں میں مشہور ہونے کی۔ غریب لوگوں کے پیسے اس جنگلہ بس میں لگا دیئے گئے اور وہ علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں۔
میں نے گزارش کی بیٹا آپ درست فرما رہے ہیں دیکھیں غریب لوگوں کے پیسے سے ایسی سروس بنائی گئی ہے جس میں ارب پتی لوگ سفر کر رہے ہیں۔ یہ دیکھیں انکل کے کوٹ کا برانڈ اور ان کے بیٹے کے ہاتھ میں ٹفن۔ یہ دفتروں سے نہیں سونے کے کان سے نکل کر آ رہے ہیں۔
بس اگلے سٹیشن پر رکی۔ مرد و خواتین باقی کی خالی جگہوں پر آ کر کھڑی ہوئے۔ جوان نے کہا ان لوگوں میں شعور نہیں ہے۔ یہ بے چارے جانتے نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ میں نے کہا جی یہ لاکھوں لوگ کچھ نہیں جانتے بس سفر کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کم و بیش 180,000 مسافر روزانہ یہ بس استعمال کرتے ہیں۔ عروج کے اوقات 10,000 مسافر فی گھنٹہ اس پر سوار ہوتے ہیں۔ لاہور میں اس کا روٹ تقریباً 27 کلومیٹر ہے۔ میٹرو بس نے نجی موٹرسائیکل اور گاڑیوں کے سفر میں تقریباً 55% کی کمی دکھائی، جس سے راستوں پر ٹریفک دباو¿ کم ہوا۔ راول پنڈی میں ابتدائی سال میں روزانہ اوسطاً 109,000 مسافر میٹرو سے مستفید ہوتے رہے۔ بعد میں رپورٹیں بتاتی ہیں کہ مسافروں کی روزانہ اوسط 125,000 سے بھی زیادہ رہی ہے۔ اسی طرح ملتان کے لاکھوں افراد اسی بس کی سہولت سے فایدہ اٹھا رہے ہیں۔
نوجوان نے خجل ہو کر تیز رفتار جملے اگلتے ہوئے کہا " آپ کو پتا نہیں اس سے کچھ نہیں ہوتا، ملک سڑکوں اور بسوں سے نہیں شعور سے ترقی کرتے ہیں۔" میں نے کہا جتنا شعور آپ کے استدلال سے چھلک رہا ہے اس سے مجھے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ قوموں کو تباہی کے رستے پر کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ مایوسی، قنوطیت، منفی سوچ اور انتشار پسندی کیسے قوموں کا اطمینان چھین لیتی ہے۔ لوگ اپنے فرائض کی انجام دہی کی بجائے ہر وقت دوسروں پر تنقیص کرنا پسند کرتے ہیں۔ خدا آپ کو ایسے خود ساختہ شعور کے دائرے سے باہر نکالے۔ نوجوان نے منہ پھیر لیا۔ میٹرو تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ان طلبا کا سٹیشن قریب آیا تو وہ گیٹ کے پاس جانے لگے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اتنی دیر تک شاید وہ نوجوان میری باتوں پر غور کرتا رہا ہے۔ وہ آگے بڑھتے بڑھتے رکا اور میری طرف مڑ کر بولا۔۔ "آپ میری باتوں پر غور ضرور کیجیے گا"۔۔
قصور میٹرو بس کا ہے
09:04 AM, 9 Jan, 2026