1590 کے قریب سپین دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا۔ سیاسی، معاشی اور عسکری میدان میں اسے کوئی بڑا چیلنج درپیش نہ تھا۔ نئی دنیا (امریکہ) سے آنے والا سونا اور چاندی اس کی دولت کا بنیادی ذریعہ تھا۔ سپین کی کرنسی خالص قیمتی دھاتوں پر مبنی تھی، اس لیے عالمی سطح پر اس پر اعتماد کیا جاتا تھا۔ کنگ فلپس دوم بے پناہ دولت اور اختیار رکھنے والا حکمران تھا۔ اس نے سلطنت کو مزید طاقتور بنانے کے لیے فوج میں غیر معمولی اضافہ کیا اور مختلف خطوں میں جنگیں چھیڑ دیں۔ سپین کی افواج چار براعظموں میں پھیلی ہوئی تھیں، جن کے اخراجات بے حد زیادہ تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ عسکری پھیلاؤ معاشی بنیادوں کے بغیر ہو رہا تھا۔ جنگوں اور فوجی اخراجات نے خزانہ خالی کرنا شروع کیا۔ معیشت کو سنبھالنے کے بجائے کرنسی میں ملاوٹ شروع کی گئی؛ سونے اور چاندی کے سکوں میں تانبہ شامل کر کے بھی ان کی قدر وہی رکھی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ منڈی کا اعتماد ختم ہونے لگا۔ تاجروں نے سرکاری قدر پر لین دین سے گریز کیا، مہنگائی بڑھی اور مالیاتی بحران جنم لینے لگا۔ اس دوران سپین کی اندرونی پیداوار کمزور ہو چکی تھی۔ زراعت اور صنعت کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ درباری عیش و عشرت اور درآمدات پر انحصار بڑھتا گیا۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ہنرمند لوگ دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگے۔ ریاست کی آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوتے گئے، جس کے باعث سپین کو بار بار قرض لینا پڑا اور اسے کئی مرتبہ دیوالیہ پن کا اعلان کرنا پڑا۔ بالآخر اس کی نوآبادیات ایک ایک کر کے آزاد ہوئیں اور عظیم سلطنت سکڑ کر موجودہ سپین تک محدود ہو گئی۔
یہی طرزِ عمل بعد میں برطانیہ کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز پر برطانیہ ایک وسیع سلطنت کا مالک تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ مضبوط بحریہ، وسیع نوآبادیاتی نظام اور طاقتور پاؤنڈ اس کی شناخت تھے۔ مگر اتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنے کے لیے بھاری فوجی اور انتظامی اخراجات درکار تھے۔ 1914 میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو برطانیہ کے پاس غیر جانب دار رہنے کا راستہ بھی تھا، لیکن اس نے جنگ میں حصہ لیا۔ طویل جنگ نے اس کے مالی ذخائر ختم کر دئیے اور اسے خاص طور پر امریکہ سے بڑے پیمانے پر قرض لینا پڑا۔ جنگ جیتنے کے باوجود اس کی معیشت کمزور ہو چکی تھی۔ برطانوی پاؤنڈ کی قدر اور عالمی تجارت میں اس کا حصہ متاثر ہوا۔ پہلی جنگ کے زخم ابھی بھرے بھی نہ تھے کہ دوسری جنگ عظیم نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ اس جنگ نے برطانیہ کو مزید قرضوں اور تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ اگرچہ وہ فاتح اتحاد کا حصہ تھا، مگر جنگ کے بعد اس کی نوآبادیاتی سلطنت ٹوٹنے لگی۔ ہندوستان جیسے بڑے خطے کی آزادی سے اس کی معاشی بنیاد مزید کمزور ہوئی۔ یوں وہ ملک جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا، بتدریج ثانوی حیثیت اختیار کرتا گیا۔
سوویت یونین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ایک وسیع رقبے، طاقتور فوج اور مضبوط نظریاتی نظام کے ساتھ ابھرا۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری قوت میں اس کی نمایاں حیثیت تھی۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران دنیا دو بلاکوں میں تقسیم رہی۔ سوویت یونین نے مشرقی یورپ اور دیگر خطوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا اور بہت بڑی فوج برقرار رکھی۔ مگر اس نظام میں بھی معاشی کمزوریاں موجود تھیں۔ ریاستی کنٹرول پر مبنی معیشت عوامی ضروریات پورا کرنے میں مشکلات کا شکار تھی۔ 1979 میں افغانستان میں فوجی مداخلت نے حالات مزید بگاڑ دئیے۔ طویل جنگ نے وسائل کو چاٹ لیا، جبکہ اندرونی معیشت پہلے ہی دباؤ میں تھی۔ زرعی صلاحیت ہونے کے باوجود خوراک کی کمی، ٹیکنالوجی میں سست روی اور مالی بدانتظامی نے نظام کو کھوکھلا کر دیا۔ روبل کی قدر کمزور ہوتی گئی اور عالمی لین دین میں ڈالر کو ترجیح دی جانے لگی۔ مالی ذخائر گھٹتے گئے، ریاستی اخراجات بڑھتے گئے۔ 1980 کی دہائی کے آخر تک سیاسی اور معاشی بحران شدت اختیار کر چکا تھا۔ مشرقی یورپ کی ریاستیں الگ ہونے لگیں، برلن کی دیوار گر گئی اور بالآخر 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ کر کئی آزاد ریاستوں میں بٹ گیا۔ ایک سپر طاقت اندرونی کمزوریوں اور حد سے بڑھی عسکری ذمہ داریوں کے بوجھ تلے بکھر گئی۔
ان مثالوں کے بعد اکثر نگاہیں موجودہ عالمی طاقت، امریکہ، کی طرف اٹھتی ہیں۔ امریکہ آج بھی وسیع فوجی نیٹ ورک، عالمی اثر و رسوخ اور بڑی معیشت کا حامل ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس کے فوجی اڈے موجود ہیں اور دفاعی بجٹ بے حد بڑا ہے۔ تاہم ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مسلسل فوجی اخراجات، بڑھتا ہوا قرض اور صنعتی پیداوار میں کمی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی تو نہیں؟ امریکہ کی معیشت اب بھی متنوع اور جدت پر مبنی ہے، مگر اس پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور تجارتی خسارے جیسے مسائل موجود ہیں۔ مینوفیکچرنگ کا کچھ حصہ بیرون ملک منتقل ہو چکا ہے، جس سے روزگار اور صنعتی خود کفالت کے بارے میں بحث جاری رہتی ہے۔ ساتھ ہی عالمی سیاست میں نئے چیلنجز، جیسے چین کا ابھار اور مختلف علاقائی تنازعات، اس کے لیے پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی طاقت ہمیشہ عروج پر نہیں رہتی۔ جب ریاستیں اپنی اصل معاشی بنیادوں زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کو نظر انداز کر کے حد سے زیادہ عسکری پھیلاؤ، قرضوں اور درآمدات پر انحصار کرنے لگتی ہیں تو اندرونی توازن بگڑ جاتا ہے۔ کرنسی پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے، پیداوار کم ہوتی ہے اور سماجی مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔ سپر طاقت بننا جتنا مشکل ہے، اس مقام کو برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ پائیدار طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، تعلیم یافتہ افرادی قوت، سائنسی ترقی اور متوازن پالیسیوں سے جنم لیتی ہے۔ تاریخ کی یہ مثالیں خبردار کرتی ہیں کہ عروج کے زمانے میں کی گئی غلطیاں ہی اکثر زوال کی بنیاد بن جاتی ہیں۔
کیا امریکہ زوال کی جانب گامزن ہے؟
09:05 AM, 9 Feb, 2026