سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں ’’آپریشن رد الفتنہ ون‘‘ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 216 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، جس سے بھارتی پراکسی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا، دہشت گردوں کی قیادت، سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جبکہ فتنہ الہندوستان کی بلوچستان میں بدامنی کی کوششیں خاک میں ملا دی گئیں۔ یہ آپریشنز نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ دشمن کے لیے واضح پیغام بھی ہیں کہ اب بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ گاہ باقی نہیں رہی۔ 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اور قابل اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشنز شروع کیے گئے۔ ابتدائی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز نے متعدد علاقوں میں دہشت گردوں کے خفیہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں، جن میں مسلسل سرچ آپریشن اور کلیئرنس آپریشنز شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق محتاط منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس اور مربوط مشترکہ کارروائی کے ذریعے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے آپریشن ردالفتنہ ون کے تحت نہایت منظم انداز میں کارروائیاں کی تاکہ دہشت گردوں کو سنبھلنے یا بھاگنے کا موقع نہ ملے، اس حکمت عملی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 216 درندوں کو جہنم رسید کیا گیا۔ یہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملوں، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، سمگلنگ اور عام بلوچ شہریوں پر آئی ای ڈی دھماکوں سمیت متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہ راست ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں امریکی اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا گیا، امریکی اسلحہ کے استعمال کے حوالے سے خود امریکی خبر رساں ادارے CNN کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق سابق امریکی سربراہ جان سوپکا نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں تین لاکھ امریکی ہتھیار چھوڑے گئے، رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گرد امریکی ساختہ جدید ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، ان ہتھیاروں میں مشین گنز، سنائپر رائفلز اور نائٹ ویژن ڈیوائسز شامل ہیں۔ اس اسلحہ کی وجہ سے پاکستان خصوصاً بلوچستان میںدہشت گرد حملوں میں شدت آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین اور اسلحہ اور بھارت کی فنڈنگ سے بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ ان تمام حملوں کا اصل نشانہ بلوچ عوام ہیں جس کا واضح ثبوت ان حملوں میں 36 عام، نہتے بے گناہ بلوچ شہریوں کو نشانہ بنایا جانا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ المناک سانحے بلوچستان میں دہشت گردوں کی جانب سے ’’بلوچ نسل کشی‘‘ کی واضح اور بدترین مثال ہیں، بیرون ملک بیٹھے ان بھارتی پراکسی کالعدم تنظیموں کے ہینڈلرز اپنے ذاتی مفادات اور ڈالروں کے لیے ایک بلوچ کے ہاتھوں دوسرے بلوچ کو قتل کرا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آئی ایس پی آر اور انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ حملوں کے دوران دہشت گردوں کا بیرون ملک موجود اپنے ہینڈلرز سے براہ راست رابطہ رہا۔ یہ انکشاف ایک بار پھر بھارت کے اُس مکروہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے جو برسوں سے بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔ بہرحال بلوچستان اب دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف نہیں رہا۔ ریاستی رٹ پوری طرح سے قائم ہے، فورسز الرٹ ہیں، انٹیلی جنس متحرک ہے اور عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج، ریاست نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کی ہر شکل اور پہلو کے خلاف لڑنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ فتنہ الہندوستان کی ہر سازش اسی طرح ناکام ہو گی اور ہر حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔ کالعدم تنظیمیں اور اس کے بھارتی سرپرست یہ بات جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا ہی ان کے لیے بہتر ہو گا کہ بلوچستان پاکستان کا مضبوط قلعہ ہے اور رہے گا۔ واضح رہے بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی کی سرمایہ کاری ڈوب چکی ہے۔ آپریشن ردالفتنہ ون کی کامیابی پاکستان بالخصوص بلوچستان کے غیور عوام کے اس غیر متزلزل عزم کی علامت ہے کہ وہ ہمیشہ تشدد کے بجائے امن، تقسیم کے بجائے اتحاد اور انتشار کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ ون کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں، جس کا عملی ثبوت میراک خان چکرانی کے 25 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے ملتا ہے۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والا یہ گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث رہا، ان عناصر نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کرایا۔ میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف چکرانی امن فورس میں شمولیت کا بھی اعلان کیا۔ آپریشن ردالفتنہ ون کی بہترین حکمت عملی سے بلوچستان کے دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی جلد ریاست کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔
بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ ون کامیابی سے مکمل
09:03 AM, 9 Feb, 2026