مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کی بہت اہمیت ہے، جنگ کوئی حل نہیں سمجھا جاتا لیکن مثل مشہور ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ صرف اسلامی ممالک ہی نہیں پوری دنیا کو آج ایسے ہی بھوت کا سامنا ہے جو باتوں سے نہیں مانے گا وہ کوئی مثبت سوچ رکھتا تو دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم برسانے اور کروڑوں انسانوں کو ہلاک کرنے کے بعد اس کے طرز عمل میں تبدیلی نظر آتی پس اب ماننا پڑے گا کہ وہ لاتوں سے ہی مانے گا فی الحال تو سب اپنی لات بچا رہے ہیں ، سب کو خدشہ ہے بھوت ان کی لات ہی نہ کھا جائے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ یہ نیک کام ایران کر گزرے جو گزشتہ نصف صدی سے پابندیوں کی زد میں ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ کے خوف سے ایران سے فاصلے پر رہے اور کسی بھی قسم کی تجارت سے گریزاں رہے اب سب کی امیدوں کا مرکز ایران ہے وہ آگے بڑھے اور بھوت کی گردن مروڑ ڈالے۔ وینزویلا اور ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ ترین دو وارداتوں کے بعد اس پر دنیا بھر میں تنقید شروع ہو گئی اس کے ساتھی زیادہ دیر تک اس کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے یوں مذاکرات کا ڈول ڈال دیا گیا تادم تحریر ان مذاکرات سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا، قطر متحارب ملکوں کو ایک میز پر بٹھانے کے معاملے میں خاصاسرگرم نظر آتا ہے، مذاکرات کے لئے امریکہ اور ایران کو پیشکش کی گئی امریکہ کو کوئی اعتراض نہ تھا لیکن ایران نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے رضامندی کا اظہار نہ کیا کیونکہ ماضی قریب میں قطر میں ہونے والے حماس اسرائیل مذاکرات کے دوران حماس لیڈرشپ کو شہید کر دیا گیا۔ قطر میں ان کی حفاظت کو یقینی نہ بنایا جا سکا۔ قطر کے بعد یو اے ای کے بارے میں غور کیا گیا جو بین الاقوامی سیاسی افق پر نیا ابھرتا ہوا ستارہ ہے، چند ماہ قبل روس اور یوکرین جنگ ختم کرانے کے لئے دونوں ملکوں کی اہم شخصیات یو اے ای آئیں جس کے بعد یو اے ای کے صدر نے روس کا دورہ بھی کیا، یو اے ای کا کسی بھی اعتبار سے سعودی عرب، قطر، ترکیہ یا پاکستان سے مقابلہ مقصود نہیں لیکن قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یو اے ای مستقبل میں خطے کی سیاسی اور معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار کرتا نظرآئے گا تمام تر مثبت اشاروں کے باوجود بعض علاقائی طاقتوں نے امریکہ ایران مذاکرات یہاں نہ ہونے دیئے۔ پاکستان کے نام پر بھی غور ہوا، اسرائیل امریکہ اور ایران نے اس پر مثبت خیالات کا اظہار کیا لیکن شاید پاکستان نے بوجہ اس حوالے سے کوئی خاص سرگرمی نہ دکھائی، پاکستانی حکومت اور اس کے ذمہ دار اداروں نے یقینا سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہو گا ان کی دانست میں یہی بہترین فیصلہ ہو گا، اب ایک چوائس ترکیہ رہ گئی تھی مذاکرات کی میزبانی کے لئے ترکیہ ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرتا ہے، معاون ممالک نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا جبکہ امریکہ اور ایران نے بھی اس پیشکش کو قبول کر لیا مذاکرات کے حوالے سے دنیا بہت پُرامید تھی لیکن میرے خیال میں دنیا نے ان مذاکرات سے خواہ مخواہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں مذاکرات میں معاونت کرنے والے ممالک ماضی میں سو فیصد اور آج بھی کافی حد تک امریکہ کے حلیف نظر آتے ہیں، بعض نے تو اپنی زمین پر امریکہ کو فوجی اڈے بھی بنانے دیئے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ مشرق اور خصوصاً عرب ممالک میں قائم کئے گئے اڈے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے نہیں بلکہ مسلمان ممالک کے خلاف استعمال ہونے کا واضح امکان ہے، ان ممالک نے جب یہ اڈے فراہم کئے اس وقت ان کی کوئی خاص مجبوری نہ تھی تمام ممالک اس وقت سرجوڑ کے بیٹھتے اور امریکہ کو انکار کر دیتے بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے آج ایران کے خلاف اپنی زمین اور فضا استعمال کے لئے نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات کے ناکام ہونے کے حوالے سے بعض ذرائع ایک ہی خبر دیتے ہیں وہ یہ کہ تمام اسلامی ممالک اور مذاکرات میں معاونت کرنے والے ممالک یہ تو چاہتے ہیں کہ کسی صورت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہ ہو لیکن جانے کیوں سب کا دبائو امریکہ کی طرف ہونے کی بجائے ایران کو سمجھانے کی طرف ہے کہ بس وہ مان جائے یعنی امریکی فرمائش کے مطابق ایران اپنا نیوکلیئر پروگرم بھی یکسر بند کر دے اپنا میزائل پروگرام بھی لپیٹ کر امریکہ کے ہاتھ پکڑا دے، سب دانت نکالتے ہوئے مذاکرات کو کامیاب قرار دیں پھر امریکہ کے کسی شہر میں ایک اجتماع میں سب ایک ڈرافٹ پر دستخط کرتے نظر آئیں جب کہ ٹھیک چھ ماہ بعد امریکہ کو وہ معاہدہ یاد نہ رہے اور وہ ایران پرحملہ کر کے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دے، یہ معاہدہ کرانے والے اور اس کی گارنٹیاں دینے والے پھر ڈھونڈے سے نہ ملیں۔ امریکی عزائم کو بھانپتے ہوئے ایران نے مذاکرات کی میز سے امریکی جرنیل کو اٹھا دیا اور دوٹوک اعلان کیا کہ مذاکرات سیاسی شخصیات سے ہوں گے۔ امریکی جرنیل کا یہاں کوئی کام نہیں۔ یہ جرأت مندانہ قدم تھا صرف ایران سے ہی اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ترکیہ کے بعد ایران نے ایسے ملک میں مذاکرات کے لئے حامی بھری جو غیرجانبدار ہو اور امریکہ کی وکالت نہ کرے یوں عمان کے نام پر اتفاق ہوا جس نے میزبانی کا حق ادا کیا۔ یہاں ایرانی قیادت نے ایک اور اہم فیصلہ کیا کہ اگر وہ امریکی ٹیم کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرتے تو بددیانت امریکی اسے
کچھ اور رنگ دے سکتے تھے لہٰذا ایرانیوں نے بالواسطہ مذاکرات کرنا بہتر سمجھا، عمانی سربراہ پہلے امریکیوں سے ملے، ان کے مطالبات سنے، ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں کہہ رکھا تھا جائو ایرانی ایٹمی پروگرام بند کرائو، میزائل پروگرام کو تالے لگائو اور ایرانی تیل کی چابیاں لے کر امریکہ کے خزانے میں جمع کرائو، امریکی صدر بہت مطمئن تھے کہ انہوں نے ’’آرمیڈا‘‘ کا جتنا خوف ایران پر مسلط کر دیا ہے اب ایران ان کی جھولی میں گرنے ہی والا تھا لیکن امریکی ٹیم کو اس وقت سخت حیرانی اور پریشانی ہوئی جب انہوں نے امریکی ٹیم سے کہا کہ جائو اور اپنے صدر کو بتا دو اگر انہیں ہماری حفاظت کے لئے ہمارا میزائل خطرناک نظر آتا ہے تو پہلے اسرائیل کا میزائل پروگرام ختم کرائو جس سے تمام عالم اسلام کو خطرہ ہے۔ باقی رہا نیوکلیئر پروگرام تو ہمارا ارادہ اول روز سے سول ایٹمی توانائی کا استعمال ہے، جنگی مقاصد کے لئے نہیں ہے۔ ہم اس بات کا اظہار متعدد مرتبہ کر چکے ہیں آپ اسرائیل کا ایٹمی پروگرام بند کرا دیں ہم بھی کر دیں گے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ اگر برابری کی سطح پر مذاکرات کسی انجام کو نہیں پہنچتے تو بھی ہم جنگ کے لئے تیار ہیں، آپ جنگ کا شوق پورا کر لیں۔ امریکہ کو بھیجا گیا آخری پیغام تو ان کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے وہ یہ کہ ایران جب چاہے چوبیس گھنٹے کے اندر ایٹم بم بنا سکتا ہے وہ پہلا حملہ نہیں کرے گا لیکن دوسرے حملے میں خطے کا نقشہ بدل دے گا اس کا نشانہ امریکی اڈے اور اسرائیل ہو گا۔
ایران کا سیکنڈ سٹرائیک
09:03 AM, 9 Feb, 2026