نئے صوبوں پر پارلیمانی اتفاق رائے موجود، پہلے متفقہ علاقوں میں صوبے بنائیں: بلاول بھٹو

08:14 PM, 9 Dec, 2025

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے قومی اسمبلی میں واضح اتفاق رائے موجود ہے، اس لیے سب سے پہلے وہاں صوبے بنائے جائیں جہاں سیاسی سطح پر پہلے ہی مکمل اتفاق موجود ہے۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20 صوبوں کی تجویز اپنی جگہ مگر عملی طور پر اسی سمت میں قدم بڑھایا جائے جہاں اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود صوبوں کے معاملے پر اتفاق رائے قائم ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی قوتیں چاہیں تو راستہ نکل آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوری عمل کو آگے بڑھایا ہے، ’’ہم جمہوری بھی رہے اور ضرورت پڑنے پر گورنر راج بھی نافذ کیا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی نے صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی اور بلدیاتی نظام بھی پاس کیا، لیکن اس کا سندھ کے مضبوط نظام سے موازنہ کیا جائے تو سندھ سب سے آگے ہے۔

بلاول بھٹو نے سیاسی مفاہمت کو ملک کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جماعتیں ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گی تو صوبائی حالات خراب ہوں گے، جس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا رویہ ابتدا سے ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے، ’’عدم اعتماد ہم لے کر آئے اور پہلی بار ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا‘‘۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے رویے سے نہ صرف وہ خود بلکہ پورا نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملنے بھی گئے، ’’لیکن اُن کی طرف سے بار بار حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جسے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب آکر کسی کے خلاف بات نہیں کرتے، مگر برداشت نہیں کیا جاتا۔

ایک سوال پر کہ کیا وہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کیلئے جا سکتے ہیں، بلاول نے جواب دیا کہ سیاسی جماعتوں کو سب کے ساتھ بیٹھنا چاہیے، لیکن ’’جب بھی ہم مفاہمت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، دوسری طرف سے حالات خراب کر دیے جاتے ہیں‘‘۔

مزیدخبریں