افغانستان دہشتگرد گروہوں کا محفوظ گڑھ۔۔۔۔ روس بھی پاکستان کے موقف سے متفق

02:56 PM, 9 Dec, 2025

اسلام آباد:افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی مسلسل بڑھتی سرگرمیوں نے پورے خطے کی سیکیورٹی کو نئی سطح کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی عالمی فورمز پر افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد پناہ گاہوں کے ٹھوس شواہد پیش کر چکا ہے، جبکہ اب روس نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق روس کو افغانستان میں سرگرم متعدد عسکریت پسند گروہوں سے سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق ہو چکے ہیں۔ وسطی ایشیائی ریاستیں ان گروہوں کے ممکنہ ہدف بنتی جا رہی ہیں کیونکہ عسکریت پسند انہی راستوں سے اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ افغانستان میں داعش خراسان مضبوط ہو رہی ہے اور افغان طالبان کے انسدادِ دہشتگردی اقدامات اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شدت پسند گروہ افغانستان میں خود کو متبادل قوت کے طور پر منظم کر رہے ہیں۔

روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شائیگو کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشتگرد عناصر کے ہمسایہ ممالک میں داخلے کا حقیقی خطرہ موجود ہے جبکہ بیرونی فنڈنگ سے یہ گروہ مزید طاقت حاصل کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے افغان طالبان پر سفارتی دباؤ، خفیہ معلومات کے تبادلے اور سرحدوں کی سخت نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔

مزیدخبریں