معاشی استحکام ، اصلاحات اور وفاقی بجٹ 26-2025ء

09:12 AM, 9 Dec, 2025

وفاقی بجٹ 2026-2025ء نے محاصل / آمدنی کی جارحانہ وصولی پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے 19.278 ٹریلین روپے کا مجموعی محصولات یا آمدن کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے مرکز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 14.131 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصولی کا بلند نظر ہدف، یا جی ڈی پی کا 14 فیصد ٹیکس تناسب ہے، جسے بنیادی طور پر اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے حاصل کیا جانا ہے۔ 
محصولات کی اس آمدنی میں 5.147 ٹریلین روپے کے متوقع نان ٹیکس ریونیو  کا اضافہ بھی شامل ہے۔ یہ این ٹی آر 1.468 ٹریلین روپے کے اب تک کے سب سے زیادہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے جزو اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے متوقع فاضل منافع کی شکل میں 2.4 ٹریلین روپے کے خاطر خواہ حصہ پر مشتمل ہے تاہم، نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت، 8.206 ٹریلین روپے یا مجموعی وصولیوں کا تقریباً 43 فیصد صوبوں کو منتقل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد وفاق کے پاس صرف 11.072 ٹریلین روپے رہ جائیں گے۔ یہ رقم ہمارے قرضوں اور دفاعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے، جس کی وجہ سے مالی سال کے آغاز سے ہی قرض لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
وفاقی اخراجات کا تخمینہ صرف 17.573 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جو حکومت کے لیے انتہائی محدود مالی گنجائش کی عکاسی کرتا ہے اور اس میں غیر صوابدیدی یعنی اپنی مرضی کے اخراجات کا غلبہ ہے۔ قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے، جو 8.207 ٹریلین روپے کھا جاتا ہے، یہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کا تقریباً 74 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد 2.550 ٹریلین روپے کی تخصیص (مخصوص کرنے) کے ساتھ دفاعی اخراجات آتے ہیں۔ یہ دونوں مل کر 10.7 ٹریلین روپے سے زیادہ کے اخراجات بنتے ہیں، جس کے بعد حکمرانی (گورننس) اور ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ اس صورتحال نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کو صرف 1.0 ٹریلین روپے تک محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جاری اخراجات میں دیگر بڑے حصہ داروں میں سول حکومت چلانے کے لیے 971 ارب روپے اور پنشن کے لیے 1.055 ٹریلین روپے شامل ہیں۔ سبسڈی کے لیے 1.186 ٹریلین روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے، جو بنیادی طور پر توانائی کے شعبے کے لیے ہے۔ گرانٹس اور ٹرانسفرز کی مد میں 1.928 ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں، جس میں خاص طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے مختص 716 ارب روپے شامل ہیں۔
آمدنی اور اخراجات کا یہ فرق ملک کو 6.501 ٹریلین روپے کے بجٹ خسارے سے دوچار کرتا ہے۔ 1.464 ٹریلین روپے کے صوبائی سرپلس (فاضل بجٹ) سے اس کمی کے 5.037 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کے 3.9 فیصد تک نیچے آنے کا تخمینہ ہے۔ تاہم، اس ساختی خسارے ) کو کم کرنے یا آخر کار ختم کرنے کے لیے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ فارمولے پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ فی الحال، قابل تقسیم پول کے 57.5 فیصد ٹیکس صوبوں کو منتقل کیے جاتے ہیں، جس سے مرکز کے پاس بہت کم رقم بچتی ہے۔ یہ زیادہ سودمند اور نتیجہ خیز ہوگا اگر اس فارمولے کی بنیاد ایوارڈ کو صرف آبادی کے حجم کے بجائے کارکردگی کے پیمانوں جیسے کہ محصولات پیدا کرنا (ریونیو جنریشن) اور آبادی کنٹرول سے منسلک کرنے پر رکھی جائے۔ صوبوں کو چاہیے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام  جیسے سماجی بہبود کے پروگراموں کے لیے فنڈز مختص کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے بجائے خود لیں کیونکہ یہ ایک صوبائی موضوع ہے۔ اس سے وفاقی حکومت پر مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ صوبے اپنی کتابوں کو متوازن کرنے پر توجہ دینے کے بجائے، وفاقی حکومت کی گرانٹس سے چلنے والے اپنے بجٹ میں صوبائی سرپلس پر فخر کرتے ہیں۔
سبسڈی اور حکومت کا حجم دو ایسے اہم شعبے ہیں جن پر اخراجات کو کم کرنے کے لیے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ 1.186 ٹریلین روپے کا سبسڈی بل بہت بڑا ہے، اور یہ بنیادی طور پر بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے۔ اتنا بڑا سبسڈی بل پائیدار نہیں ہے۔ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ کھپت پر سبسڈی دینا ہے جبکہ ہمیں جو کرنا چاہیے وہ ہے ہمارے برآمدی شعبے کو مسابقتی قیمتوں پر بجلی اور گیس کی شکل میں ہدف شدہ معاونت فراہم کرنا تاکہ ہماری ایکسپورٹ پر مبنی آمدنی میں اضافہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو اپنا حجم کم کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اسے چلانے کے لیے درکار 971 ارب روپے کی خطیر رقم کو کم کیا جا سکے۔ 18ویں ترمیم کے تحت منتقل کی گئی وزارتوں کی فنڈنگ مکمل طور پر بند کی جانی چاہیے اور ان کی ذمہ داریاں مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کو منتقل کی جانی چاہئیں۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی نجکاری یا بندش ایک فوری ترجیح ہونی چاہیے تاکہ حکومت ان کو چلانے کے لیے جو اربوں روپے سالانہ خرچ کر رہی ہے اسے بچایا جا سکے۔
 ٹیکس کا پیسہ صرف عوامی خدمات کی فنڈنگ پر خرچ ہونا چاہیے نہ کہ ان اداروں پر ضائع کیا جائے جو کبھی کوئی منافع نہیں لانے والے اور آخر میں، پنشن کا بل، جو اب 1.055 ٹریلین روپے پر کھڑا ہے، ایک ٹک ٹک کرتا مالیاتی ٹائم بم بن چکا ہے۔ فوجی پنشن اس ذمہ داری  کا ایک بڑا حصہ ہے۔
جولائی 2024ء سے نئے سول ملازمین اور جولائی 2025ء سے مسلح افواج کے لیے کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ اسکیم کا تعارف درست سمت میں ایک قدم ہے۔ بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق، حکومت نے پرانے اور غیر پائیدار’طے شدہ مراعات‘کے ماڈل سے زیادہ پائیدار ’شراکت پر مبنی مراعات‘ کے ماڈل کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔ آنے والی دہائیوں میں حکومت کی پنشن کی ذمہ داریاں بتدریج کم ہوں گی، جس سے ترقی پر خرچ کرنے کے لیے اس کے پاس زیادہ رقم بچے گی۔
ان سخت اصلاحات کو نافذ کرنا ایک مشکل کام ہوگا۔ لیکن آگے بڑھنے کا یہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ اگر ہمیں پاکستان کو بجٹ خسارے کے دائمی چکروں (کمائی کم اور خرچ زیادہ) سے نکالنا ہے، تو این ایف سی ایوارڈ کی تنظیم نو، سبسڈی کو معقول بنانا، وفاقی حکومت کا حجم کم کرنا، اور کنٹریبیوٹری پنشن اسکیموں کی طرف منتقلی جیسی اصلاحات فوری اور ضروری ہیں تاکہ پاکستان کے مستقل خسارے کو ایک پائیدار مالیاتی سرپلس میں تبدیل کیا جا سکے۔ 

مزیدخبریں