9دسمبر …پاک بحریہ کی کامیابیوں کاتاریخی دن

09:11 AM, 9 Dec, 2025

پاک بحریہ کے زیر انتظام میری ٹائم میوزیم کراچی کی وسیع و عریض جھیل میں کھڑی ہوئی پاک بحریہ کی عظیم اور تاریخ ساز جنگی آبدوز ہنگور(E..HANGOR..S131)یہاں آنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہے ۔اس آبدوز پر متعین افسران اور سیلرز نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 9دسمبرکو کراچی پر حملہ کرنے کے لیئے آنے والے بھارتی بحریہ کے دوبحری جنگی جہازوں پر ان کے اپنے پانیوں میں کاری ضرب لگا کر ایک کو عملے سمیت سمندر برد اور دوسرے کو ناکارہ بنا دیا اور بھارت کی بحری جنگی طاقت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ جس سے بھارتی بحریہ کے کراچی پر حملہ آور ہونے کے مذموم ارادے خاک میں مل گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کراچی بالکل محفوظ رہا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد آبدوز سے بحری جہاز غرق کرنے کا یہ پہلا کارنامہ تھاجس کا اعزاز پاک بحریہ کو حاصل ہوا جو بحری عسکری تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے۔ آبدوزہنگور نے پاک بحریہ کی جنگی تاریخ میں ایک اور سنہرے باب کا اضافہ کیا جو مدتوں یاد رکھاجائے گا ۔ اس کارنامے سے پاک بحریہ کے وقار میں مزیداضافہ ہوا۔ہنگور کے عملے کی اس بہادری پر4 ستارہ جرأت ،6  تمغۂ جرأت اور 14 امتیازی اسناد سے نوازا گیا۔پاک بحریہ کے کسی ایک یونٹ کو دیئے جانے والے بہادری کے تمغوں میں یہ تمغے سب سے زیادہ ہیں۔ ہنگور کے اس معرکے کو پوری دنیا میں پذیر ائی ملی اوردشمن کو پیغام ملا کہ اگر کسی نے پاک وطن پر بری نگاہ ڈالی تو اسے رسوائی کے سواکچھ حاصل نہ ہوگا۔
9دسمبر پاک بحریہ کی عسکری کامیابیوں کا ایک اہم اور تاریخی دن ہے۔جسے ’’یوم ہنگور ‘‘(HANGOR Day)کے نام سے یاد کیااور منایا جاتا ہے ۔اس دن منعقدہ تقریبات میں ہنگور کے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔یوم ہنگور پاکستان کی تاریخ کا روشن باب اور جرأت و بہادری کی مثال ہے ۔ آبدوزہنگور دیکھنے کے شوقین بچے اور بڑے میری ٹائم میوزیم کی سیر کرنے کے ساتھ ساتھ آبدوز کو اندر سے دیکھ کر اس کے کارناموں سے آگاہ ہوتے ہیں۔آبدوز کی طرف جانے اور واپس آنے کے لیے پانی میںالگ الگ آ  ہنی راستے بنے ہوئے ہیں۔پاک بحریہ کا متعین عملہ یہاں آنے والوں کو آبدوزکے مختلف حصوں اور کارناموں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ آبدوز کو اس کی ساخت اور قابلیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ آبدوز پانی کے اندر رہنے والاایسا بحری ہتھیار ہے جس کے ذریعے خاموشی سے نہ صرف دشمن پر نظر رکھی جا تی ہے بلکہ زمانہ ٔ جنگ میں اس کی تمام جنگی چالوں کو بھی پسپا کیا جاتا ہے ۔
  1971ء کے آخری مہینوں میں مشرقی پاکستان کے حالات نہایت کشیدہ ہو چکے تھے۔ بھارتی جارحیت عروج پر تھی اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو اسلحہ سے لیس کر کے مشرقی پاکستان بھیج رہی تھیں۔ کسی بھی جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے پاک بحریہ اپنی پوری جنگی تیاری کے ساتھ تیار تھی۔ 20اور21نومبر1971ء کوعید الاضحی کی خوشیاں منانے کی بجائے پاک بحریہ کے جانباز اپنی تیاری میں مصروف تھے۔مشرقی پاکستان میںجنگ کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر نیول ہیڈ کوارٹرز کی ہدایت پرپاک بحریہ کے تمام بحری اثاثے حرکت میں آ چکے تھے۔  26نومبر 1971ء کورات کے پچھلے پہر ہ بمبئی کے ساحلوں پر بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کا جائزہ لینے کے لیے ہنگور انتہائی کٹھن ، دشوار، خطرناک اوراہم معلوماتی مہم پر روانہ ہوئی جس میں جان لیوا خطرات کا قوی امکان تھا مگرپاک بحریہ کے افسران اور سیلرشوق شہادت کے جذبے سے معمور تھے۔ وائس ایڈمرل(ر)ستارۂ جرأت احمد تسنیم (اس وقت کے کمانڈر )پی این ایس کمانڈنگ آفیسر کی حیثیت سے ہنگور کی کمانڈ کر رہے تھے۔6دسمبر1971ء کو بھارت نے اچانک پاکستان پر حملہ کر دیا۔پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا۔پاک افواج بری، فضائی او ربحری محاذ پر اپنے ملک کی حفاظت میں مصروف اور چوکنا تھیں۔ آبدوز ہنگور سمندر میں زیر آب پٹرولنگ کے کام میں مصروف بھارت کے بحری جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے تھی۔
بھارت کے آبدوز شکن بحری جنگی جہاز آئی این ایس ککری(INS  Khukri) اور آئی این ایس کرپان(INS Kirpan)آبدوز کو ڈھونڈ نکالنے اور اسے تباہ کرنے کے تمام آلات سے لیس تھے۔پاک بحریہ نے ان دونوں بحری جنگی جہازوںکی موجودگی کا پتا چلتے ہی انہیں غرق کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ۔9دسمبر1971ء کو ککری کو نشانہ بنایا گیا۔ ہنگور سے داغاگیا تارپیڈو کُکری کے عین نیچے اس جگہ لگا جہاں ہنگور کو تباہ کرنے کے لیے 60،70ٹن گولہ بارود رکھا گیا تھا۔ککری میں زور دار دھماکہ ہوا اور وہ اپنے عملے سمیت دو منٹ میں سمندر میں غرق ہو گیا۔ہنگور نے ایک حملے میںککری کا نام و نشان مٹا دیا۔ پاک بحریہ کی تاریخی اہمیت کی حامل آبدوزہنگور نے 1971ء میںبھارتی بحریہ کی عددی برتری اور نام نہاد بڑی بحری قوت کے زعم کو بحرِ ہند کی گہرائیوں میںغرق کر دیا۔بھارتی بحری جنگی جہاز کو ڈبونے کا یہ شاندار کارنامہ بھارت کے مغربی ساحل پر ڈیو ہیڈ(Diu Head) کے جنوب مشرق میں30  میل دور وقوع پزیر ہوا جس میں بھارتی بحریہ کے18 افسران اور176 سیلر ہلاک ہوئے۔ آئی این ایس ککری کے ڈوبنے کے ساتھ ہی بھارتی بحریہ کے حوصلے پست ہو گئے اور اس کے کراچی پر حملہ آور ہونے کے مذموم ارادے خاک میں مل گئے۔ ہنگور کا اگلا ہدف آئی این ایس کرپان تھا۔ ہنگور نے تیسرا تارپیڈو کرپان پر فائر کر دیا جس نے اسے بری طرح نقصان پہنچایا اور کرپان کو ناقابل استعمال بنا دیا۔
9 دسمبر کی رات ہنگور پر حملہ کرنے کے لیے بھارتی بحریہ نے ’’آپریشن فالکن‘‘ ترتیب دیا جس میں آبدوز شکن جہاز،ہیلی کاپٹراور بھارتی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے اسکواڈ شامل تھے تاہم ان کا یہ آپریشن ناکام ہو گیا۔ہنگور کے اس آپریشن کے دور رس نتائج برآمد ہوئے اوربھارتی بحریہ کو کرا چی پر میزائل حملے سے متعلق اپنا اہم آپریشن منسوخ کرنا پڑاکیونکہ بھارتی بحریہ چار دن تک ہنگور کو تلاش کرنے اورککری کی باقیات سمیٹنے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔اگلے دو تین دن تک بھارتی فضائیہ اور بحریہ نے ہنگور پر متعددفائر کئے لیکن اللہ تعالی کے فضل سے ہنگور محفوظ رہی اور دشمن کو نا قابل فراموش شکست سے دو چار کرکے دشمن سے بچتے ہوئے راستے بدل کر اپنے سمندر میں کامیابی سے واپس کراچی پہنچ گئی۔
 فرانسیسی ساختہ ڈفنی کلاس آبدوز ہنگور 1970 ء سے  2006  ء تک پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت پر معمورر ہی ۔  پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہنگور کو اس کے انمول جنگی کارنامے کے پیشِ نظر تاریخی ورثہ قرار دے کرمحفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم کارنامے کو یاد رکھیں ۔پاک بحریہ کی سرخروئی کی اس داستان کو نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا ہے ۔آج بھی دشمن سے نمٹنے کا پاک بحریہ کا جذبہ بام عروج پر ہے۔ پاکستان کے عوام ہنگور کے عملے کوسلام پیش کرتے ہیں جن کے جذبے نے ملک کا پرچم اور وقار بلند کیا۔پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور تمام عملے نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اپنے فرائض ادا کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاک سر زمین کی حفاطت کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوںنے اپنی شجاعت،پامردی اور قربانیوں کی داستانیں سر کریک سے لے کر گوادر اور خلیج بنگال سے لے کرکاٹھیاوار تک کے ساحلوں پر رقم کی ہیں۔ کوئی ملک اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک اس کی افواج مضبوط نہ ہوں،پاک افواج ہمارا فخر ہیں۔

مزیدخبریں