افواج پاکستان اس پاک سرزمین کا قابل قدر سرمایہ ہیں جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر محب وطن پاکستانی کا دل پاک فوج کے لئے دھڑکتا ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے دہشت گردی کے اندھیروں سے ملک کو نکالا، قدرتی آفات میں سب سے پہلے فرنٹ لائن پر کھڑی ہوئی، اور جس کی قربانیوں کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اندرونِ ملک چند ایسے عناصر پروان چڑھے جنہوں نے نفرت، انتشار اور فوج مخالف پراپیگنڈے کو اپنی سیاست کا مرکز بنا کر قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس دراصل اسی بڑھتے ہوئے زہر کا جواب ہے۔ اس پریس کانفرنس پر تنقید کرنے والے شاید حقیقت سے نابلد ہیں، یا پھر جان بوجھ کر ملکی سلامتی سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پھیلایا جانے والا بیانیہ نہ صرف جھوٹ، گمراہی اور فتنہ پر مبنی ہے بلکہ اس نے ملکی اداروں کو تقسیم کرنے اور عوام میں بداعتمادی بڑھانے کے لیے دشمن قوتوں کو موقع فراہم کیا ہے۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کچھ سیاسی عناصر نے دہشت گرد تنظیموں سے نرم گوشہ رکھنے والے بیانات دیئے، ریاست مخالف گروہوں جیسے پی ٹی ایم کا بیانیہ بڑھایا، اور ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں سے مذاکرات کے حق میں دلائل دیئے۔ یہ وہی نازک مقامات ہیں جہاں دشمن قوتیں پاکستان کے اندرونی تانے بانے کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان عناصر کی جانب سے افواجِ پاکستان پر بے بنیاد تنقید دراصل انہی قوتوں کو تقویت دیتی ہے جو پاکستان میں عدم استحکام کا خواب دیکھتی ہیں۔افسوس اس بات کا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں عملی کارکردگی کے بجائے نعرے بازی، سوشل میڈیا پراپیگنڈہ اور سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دی گئی۔ ریاستی پالیسیوں کا انحصار پرفارمنس کے بجائے جلوسوں، کنٹینرز اور مخاصمت پر رکھا گیا۔ آج جب مسلم لیگ نواز کی حکومت عملی منصوبہ بندی، معاشی پالیسیوں اور سفارتی محاذ پر بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے تو پی ٹی آئی کے بعض حلقے اس پرفارمنس کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹے دعوؤں، افواہوں اور اداروں کے خلاف پراپیگنڈے کو تیز کر دیا گیا ہے۔
عمران خان کی ہمشیرہ کی جانب سے بھارتی میڈیا پر پاکستان مخالف بیان بازی نے تو جلتی پر تیل ڈال دیا۔ بھارتی میڈیا ہمیشہ پاکستان کے خلاف نفسیاتی جنگ میں مصروف رہتا ہے، اور جب پاکستانی سیاست دان یا ان کے اہلِ خانہ اس پراپیگنڈے کا حصہ بنیں تو یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ کس کے مفاد میں بیانات دے رہے ہیں۔ یہ عمل ریاست پاکستان، اس کے اداروں اور اس کے وقار کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔آج کی حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا پر چلایا جانے والا منفی بیانیہ ایک منظم مہم ہے۔ دشمن قوتیں جھوٹے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، جبکہ داخلی سیاسی عناصر اس مواد کو تقویت دے کر ملکی یکجہتی کو کمزور بناتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے کہ افواجِ پاکستان اب ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، کیونکہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ نفرت، فتنہ اور انتشار کی یہ آگ اگر اب نہ بجھی تو خدانخواستہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے منفی بیانیے سے خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر نوجوان نسل میں اداروں کے خلاف بدگمانی پیدا کی گئی، جس کا نقصان آئندہ برسوں تک ریاست کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قومیں تب ہی مضبوط بنتی ہیں جب ان کے ادارے متفق ہوں، مضبوط ہوں اور عوام ان پر اعتماد کریں۔ لیکن جب سیاسی جماعتیں اپنی ناکامیوں کا ملبہ اداروں پر ڈالنے لگیں تو ملک کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔پاکستان کسی ایک شخص یا جماعت کی ملکیت نہیں۔ یہ 24 کروڑ عوام کا وطن ہے۔ یہاں شخصیت پرستی کی سیاست نہیں چل سکتی۔ یہاں آئین کی بالادستی، اداروں کا احترام اور قومی مفاد سب سے مقدم ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا، ان کی کردار کشی کرنا اور دشمن قوتوں کے بیانیے کو تقویت دینا ناقابلِ قبول ہے۔
افواجِ پاکستان ہماری قوم کا فخر ہیں۔ ان کی عظمت، ان کی قربانیوں اور ان کی خدمات کا اعتراف ہر محبِ وطن شہری کی ذمہ داری ہے۔ یہ وقت انتشار نہیں، اتحاد کا ہے۔ یہ وقت سیاسی لڑائی نہیں، قومی یکجہتی کا ہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کریں، پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں، اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر پاکستان کی مضبوطی، استحکام اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔یہ وطن ہمارا ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اندرونی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک قوم بن کر سوچنا شروع نہ کیا تو دشمن قوتیں ہمارے اندرونی نقائص سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔ لہٰذا آج سب سے اہم ذمہ داری یہی ہے کہ ہم اپنے اداروں پر اعتماد کریں، پروپیگنڈے کو مسترد کریں، اور پاکستان کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو ایک قوم بن کر روکیں۔
افواج پاکستان اور داخلی انتشار: ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ
09:10 AM, 9 Dec, 2025