کرپشن کسی بھی ریاست کے نظام حکمرانی میں زہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ معاشرتی اخلاقیات کو کھوکھلا کرتی ہے، معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے اور ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اقربا پروری، سفارش، اختیارات کا ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیاں اس ناسور کی بڑی شکلیں ہیں۔ خاص طور پر مالیاتی کرپشن ریاستی اداروں کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منصب سنبھالتے ہی کرپشن فری پنجاب کا نعرہ بلند کیا۔ انہوں نے احتسابی اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا، انہیں مکمل اختیارات دیئے اور واضح ہدایات جاری کیں کہ کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ آج پنجاب میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بغیر خوف و دبااؤ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، اور ایسے بااثر افراد بھی قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں جن تک پہلے ہاتھ ڈالنا ممکن نہ تھا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب آرڈیننس 1961 کے تحت قائم ہے۔ وزیراعلیٰ اس کے آئینی سربراہ ہیں جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اس کے انتظامی امور دیکھتے ہیں۔ پنجاب میں اس ادارے کے دس ریجنل دفاتر کام کر رہے ہیں جن میں لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان، بہاولپور، ساہیوال اور ڈی جی خان شامل ہیں۔ مزید یہ کہ صوبے بھر میں 9 خصوصی اینٹی کرپشن عدالتیں قائم کی گئی ہیں جبکہ لاہور میں ایک خصوصی سینئر سول جج کورٹ بھی موجود ہے۔ ادارہ مزید فعال ہو، اس کے لیے صوبے کے تمام محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کو ابتدائی انکوائریز کے اختیارات بھی دیئے گئے ہیں، جس سے شکایات کے فوری حل میں مدد ملی ہے۔
اینٹی کرپشن نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اینٹی کرپشن کیس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا ہے جس میں 2006 ء سے آج تک کی شکایات، انکوائریز، مقدمات اور عدالتوں میں موجود کیسز کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔ پہلے ریکارڈ غائب ہونے یا عدم دستیابی کی شکایات عام تھیں، لیکن اس سسٹم نے نہ صرف شفافیت میں اضافہ کیا ہے بلکہ انکوائریز اور ایف آئی آرز کے عمل کو بھی تیز کر دیا ہے۔ اس کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بینک سے یہ معلوم کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے کہ کرپشن کن محکموں میں زیادہ ہے، کس طرح کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور کون سے طریقہِ تفتیش زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ اسی بنیاد پر مستقبل کی حکمت عملی بھی ترتیب دی جا رہی ہے۔
فروری2023ء سے اکتوبر2025ء تک اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ریکارڈ کارکردگی دکھائی: 169.6202 ملین روپے کی مجموعی ریکوری،292.497 ملین ڈائریکٹ ریکوری،4.794 ملین زمین کے ذریعے ریکوری،477.4910 ملین ان ڈائریکٹ ریکوری،406 ٹریپ ریڈ رشوت لینے والے افسران رنگے ہاتھوں گرفتار،63538 شکایات موصول،68529 شکایات نمٹائیں (سابقہ اور نئی شامل)،29386 انکوائریز میں سے 16742 مکمل،3832 مقدمات درج، 3309 مکمل، 1999 چالان عدالتوں میں جمع،2978 گرفتاریاں،384 اشتہاری مجرم گرفتار،یہ اعداد ثابت کرتے ہیں کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب گزشتہ برسوں میں انتہائی فعال اور نتیجہ خیز رہی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ نے ادارے میں جدید خطوط پر تربیتی نظام شروع کیا ہے۔ وائٹ کالر کرائم پیچیدہ ہوتا ہے، جس کے لیے مالیات، آڈٹ، اکاؤنٹس اور بین الاقوامی قوانین کا فہم لازم ہے۔ اسی مقصد کے لیے مختلف ماہرین، سابق پولیس افسران اور تحقیقاتی اداروں کے ٹرینرز کو لیکچرز اور ورکشاپس کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس تربیت نے افسران کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہریاں منعقد کرتا ہے جہاں شہری براہ راست شکایات درج کراتے ہیں۔ ان کھلی کچہریوں سے:عوام کو فوری انصاف مل رہا ہے، افسران کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، رشوت اور بدعنوانی کی شکایات کا فوری حل ممکن ہوا ہے۔
کرپشن کا خاتمہ کسی ایک ادارے یا حکومت کا کام نہیں، بلکہ پوری سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم پنجاب حکومت اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ کوششیں یہ امید پیدا کرتی ہیں کہ کرپشن فری پنجاب کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی واضح ہدایات اور ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ کی مؤثر قیادت نے بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ممکن بنائی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی درست سمت میں جاری رہا تو ترقی، خوشحالی اور شفافیت پر مبنی ایک مضبوط پنجاب اب زیادہ دور نہیں۔
کرپشن فری پنجاب کیلئے جدوجہد
09:10 AM, 9 Dec, 2025