ملک کے دفاع میں مسلح افواج نے جرأت اور شجاعت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔ ہمارا دشمن بھارت کسی بھی موقع پر ہمیں نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتا یہ ماضی میں بھی دیکھا گیا اور حال میں بھی اس کا مشاہدہ ہ ہو رہا ہے؛ تاہم ہماری افواج ہمہ وقت تیار ہیں اور بھارت کی یا دیگر ممالک کی سازشوں پر ان کو دندان شکن جواب دیتی رہتی ہیں جس کی حالیہ مثال اپٓریشن بنیان مرصوص بھی ہے۔ پاکستا ن نیوی کی عسکری کامیابیاں پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے ہر دور میں لکھا جائے گا ایسی ہی ایک تاریخی کامیابی کا دن ہنگور ڈے ہر سال نو دسمبر کو منایا جا تا ہے جب ہماری بحریہ نے بھارتی نیوی کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔ یہ دن 71 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی آبدوز ہنگورکی بے مثال بہادری اور غیر متزلزل عزم کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس ککری کو 9 دسمبر کے دن سمندر برد کر دیا تھا جس کی یاد میں ہر سال ہنگور ڈے منایا جاتا ہے۔بھارتی جہاز کو ڈبونے کا یہ شاندار کارنامہ بھارت کے مغربی ساحل ڈیو ہیڈ(Diu Head) کے جنوب مشرق میں 30 میل دور وقوع پذیر ہوا تھا۔ یہ واقعہ بحری جنگی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی آبدوز نے ایک بحری جنگی جہاز کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر سمندر برد کر دیا ہو۔ ہنگور نو دسمبر کو دشمن کو کاری ضرب لگانے کے بعد 13 دسمبر کو مشن کی تکمیل کے بعد وطن واپس لوٹی۔ بھارتی بحری جہاز ککری کا سمندر میں پاک بحریہ کے ہاتھوں غرقاب صرف ایک جنگی
جہاز کی تباہی نہیں تھی بلکہ اس کے باعث بھارتی بحریہ کا مورال اورناپاک عزائم دونوں خاک میں مل گئے تھے۔عظیم خدمات کے اعتراف میں پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کے عملے کی اس بہادری کو سراہتے ہوئے4 ستارہ جرأت، 6 تمغہ جرأت اور 14 امتیازی اسناد سے نوازا گیا۔ یہ تعداد کے لحاظ سے پاک بحریہ کے کسی ایک یونٹ کو دیئے جانے والے بہادری کے تمغوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ 71 کی جنگ میں آبدورز ہنگور پاک بحریہ کا فخر رہی۔ اس کا جرأت مندانہ عمل نہ صرف ایک شاندار جنگی حربہ تھا جس نے بھارتی نیوی کے فریگیٹ جہاز کو سمندر برد کر دیا بلکہ یہ پاک بحریہ کی سٹرٹیجک حکمت عملی کا ایک ایسا آغاز تھا جس نے 71 کی جنگ میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر مسلط کی گئی جارحیت کا بھرپور جواب دے کر محدود کر دیا۔ آئی این ایس ککری کے ڈوبنے سے بھارتی بحریہ کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا جس میں ان کے 18 افسر اور 176 سیلر ہلاک ہوئے۔ پاک بحریہ کے آبدوز غازی کے جرأت مندانہ اقدام کو خراج عقیدت پیش کیاجاتا ہے جو وشاکاپٹنہ کے ساحل سے دور پیش آیا تھا۔جب آبدوز غازی کے خوف سے بھارتی بحریہ کے ائیر کرافٹ کیریر آئی این ایس وکرانت کو مزید مشرق کی جانب اینڈمن جزیروں کی طرف فرار ہونا پڑا تھا۔پاک بحریہ کی یہ آبدوز ہنگورجو اس وقت میری ٹائم میوزیم کراچی میں نصب ہے جسے دور دراز سے لوگ دیکھنے آتے ہیں۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی بحریہ کو ناکوں چنے چبوانے والی آبدوز ہنگورکی یاد میں آج ہنگور ڈے منایا جارہاہے، اسی مناسبت سے پاک بحریہ اس دن خصوصی پرومو جاری کرتی ہے تاکہ اس پرومو میں شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔ انیس سو اکہتر کی جنگ میں آبدوز ہنگور نے بہادری کی عظیم تاریخ رقم کی نو دسمبر کے دن ہنگور نے بھارتی جنگی جہاز ککری کو غرقاب کیا، دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار کسی آبدوز نے بحری جہازکو نابود کیا تھا بلکہ یہی نہیں ہنگور آبدوز نے بھارت کے دوسرے جنگی جہاز ''کرپان ''کو مفلوج کیا، پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کا کارنامہ ہمارے دشمنوں کو کبھی نہ بھولے گا، اسی طرح04 مارچ 2019 کو دشمن کی آبدوز واپس دھکیل دینے کا واقعہ بھی دشمن کیلیے ہزیمت ہے۔ ہماری نئی نسل کو یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ 71 میں پاک بحریہ نے بھارتی نیوی کو دندان شکن جواب دیا تھا۔ پاکستان کی پہلی آبدوز ’’غازی‘‘ ایوب خان کے دور میں امریکا سے درآمد کی گئی تھی۔ وائس ایڈمرل (ر) احمد تسنیم بھی اس آبدوز کو پاکستان لے کر آنے والوں میں شامل تھے اور یہ سفر انہوں نے دو ماہ میں مکمل کیا تھا۔ 1965 میں غازی نے 6سے 23ستمبر تک بھارتی نیوی کو ناکوں چنے چبوائے۔ غازی کے بعد ہنگور پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل ہوئی اس کو بھی وائس ایڈمرل (ر) احمد تسنیم فرانس سے لائے اور سوئز نہر بند ہونے کی وجہ سے انہوں نے متبادل راستہ اختیار کیا اور تین ماہ میں یہ سفر مکمل کیا۔ احمد تسنیم ستارہ جرات، ہلالِ امتیاز ملٹری اور ستارہ بسالت اس مشن کا حصہ تھے اور 1971 میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس ہنگور تھے۔فرانسیسی ساختہ ڈافنی کلاس آبدوز ہنگور 1970 سے 2006 تک پاک نیوی کا حصہ رہی۔پاکستان نیوی اس وقت بھی کئی میدانوں اور شعبوں میں مسلسل کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہے جس کی تحسین ہر سطح پر کی جاتی ہے پاک بحریہ کی امن مشقیں ایک ایسی کوشش ہے جس سے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ نہ صرف تعلقات بہتر ہو رہے ہیں بلکہ ان مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک پاکستان نیوی کی حربی اور عسکری صلاحیتوں کے بھی معترف ہوتے ہیں۔
9 دسمبر، جب ہنگور نے بھارتی جہاز ککری سمندر بُرد کیا
09:09 AM, 9 Dec, 2025