لاس اینجلس: ’سپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ کی شوٹنگ کے دوران ٹام ہالینڈ نے ایک اہم جذباتی منظر میں سکرپٹ سے ہٹ کر اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جسے فلم کے ہدایت کار نے بھی پسند کیا اور بعد میں اسے فلم کا حصہ بنا لیا گیا۔
ہدایت کار ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن کے مطابق ٹام ہالینڈ نے فلم بندی کے دوران ایک موقع پر اجازت طلب کی کہ وہ اسکرپٹ میں موجود مکالمے کے علاوہ اپنی جانب سے ایک لائن ادا کرکے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اداکار کی اس تجویز نے منظر کی جذباتی کیفیت کو مزید گہرا کردیا۔
یہ سین اس وقت کا ہے جب پیٹر پارکر اپنی آنٹی مے کی قبر پر موجود ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہالینڈ نے سکرپٹ میں دیے گئے مکالمے کے ساتھ ایک اضافی جملہ شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
کریٹن کے مطابق ٹام ہالینڈ نے جب اپنی تجویز کردہ لائن ادا کی تو اس نے کردار کی کیفیت اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ ہدایت کار نے اس اضافے کو پسند کرتے ہوئے اسے فلم کے اہم لمحات میں شامل کرلیا۔
فلم کی ٹیم کے مطابق ہالینڈ کی یہ کاوش اس بات کی مثال ہے کہ اداکار نے پیٹر پارکر کے کردار کو صرف سکرپٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی تخلیقی سوچ کے ذریعے اسے مزید جذباتی بنانے کی کوشش کی۔
ادھر ’سپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ نے سینما گھروں میں نمائش کے بعد باکس آفس پر بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور ابتدائی ویک اینڈ میں نمایاں بزنس کرنے میں کامیاب رہی۔
فلم میں ٹام ہالینڈ کے ساتھ زینڈایا، جیکب بیٹالون، جون برنتھل اور سیڈی سنک سمیت دیگر اداکار اہم کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔