پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟

09:07 AM, 10 Apr, 2026


کل ٹی وی پر میں ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں ایک خاتون لاہور کے ایک علاقے میں موجود کھانے کے مختلف اڈوں کا دورہ کررہی تھیں اور ان کے کھانے کھا کر اپنی رائے دے رہی تھیں۔ ان میں سے ایک پٹھورے کی دکان تھی۔ دکان دار نے بتایا کہ ایک پٹھورا 80روپے کا ہے۔ وہ عام دنوںمیں روزانہ کے پچاس سے ساٹھ ہزار پٹھورے فروخت کرتا ہے جبکہ اِتوار کو یہ تعداد ایک لاکھ پٹھوروں سے تجاوز کرجاتی ہے۔ عید کے دِنوں میں وہ تین لاکھ پٹھورے فی دِن بھی بیچتا ہے۔ میں نے تھوڑا سا حساب لگایا۔ ایک دِن میں پچاس ہزار پٹھورے کا مطلب ہے روزانہ کی چالیس لاکھ روپے کی بکری۔ اگر ہم اس کا خالص منافع پچیس فی صد بھی لگائیں تو وہ روزانہ کے دس لاکھ روپے کما رہا ہے۔ اِتوار کو یہ منافع بیس لاکھ روپے ہوجاتا ہے۔ اِسی طرح ہمارے محلے میں موجود مشہور چنے والا ہے جو دیسی مرغ اور چھوٹے پائے بھی فروخت کرتا ہے۔ وہ بھی ایک دِن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس لاکھ روپے کی بکری کرتا ہے۔ یوں وہ بھی ایک دِن میں دو سے ڈھائی لاکھ روپے کا منافع حاصل کررہا ہے۔ اگر آپ لاہور میں مٹن یا دیسی مرغ کی اعلیٰ درجے کی کڑاہی کھائیں تو ایک کلو گوشت کی کڑاہی کھا نے کے بعد آپ کا بل تقریباً آٹھ ہزار روپے بنتا ہے۔ ایک کلو مٹن تقریباً تین ہزار روپے کا آتا ہے۔ باقی کے اخراجات ملا کر یہ پانچ ہزار روپے بن جائیں گے۔ یوں ہر ایک کلو کے پیچھے تقریباً تین ہزار روپے کی بچت ہے۔ اگر ایک دِن میں ایک ہزار کلو بھی فروخت ہو، جو ایک اچھی دکان کے لیے عام بات ہے، تو روزانہ کا تیس لاکھ روپے کا منافع ہے۔ اگر پانچ سو کلو گوشت ہو تو پندرہ لاکھ روپے منافع ہے۔اِسی چیز کو آپ نہاری پر بھی منطبق کرلیں۔ سادہ نہاری کی ایک پلیٹ تقریباً پندرہ سو روپے کی ہے۔ مغز اور نلی نہاری تین ہزار روپے کی پلیٹ آتی ہے۔ اگر ایک دِن میں سادہ نہاری کی ایک ہزار پلیٹیں بھی فروخت ہوں تو یہ پندرہ لاکھ روپے کی فروخت ہے۔ یوں روزانہ کا منافع پونے چار لاکھ روپے بنتا ہے۔ مغز اور نلی نہاری کے ساتھ یہ منافع بڑھ جائے گا۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ روزانہ کا تقریباً چھ لاکھ روپے کا منافع کمایا جارہاہے۔ اِن اعداد و شمار سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
پہلی یہ کہ وہ ڈاکٹر ، انجینئر ، ماہر معاشیات، فائن آرٹس کا ماہر جو تعلیم حاصل کرنے میں اپنی زندگی کے تقریباً بیس سال کھپاتا ہے اور بے حد مشکل پڑھائی کرتا ہے وہ اِس ملک میں ماہانہ تقریبا ًدو لاکھ روپے کماتا ہے۔ جب وہ عمر کے ساتھ ترقی کرتا جاتا ہے تو آخری عمر میں آکر، اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو، اس کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ روپے ماہانہ ہوجاتی ہے۔ اگر وہ پرائیویٹ ملازم ہے تو وہ بیس سے پچیس لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے۔ بہت بھی کرلیں تو یہ تنخواہ پچاس لاکھ روپے ماہانہ تک چلی جاتی ہے۔ وہ نوجوان جو بیس سال تک پڑھائی میں کھپتا رہا اور پڑھنے کے بعد اِس قابل ہوگیا کہ ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی یا معیشت کے شعبے کو فائدہ پہنچا سکے وہ مہینے کے دو تین لاکھ روپے کماتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ چنے والا یا نہاری والا جس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے محنت نہیں کی اور وہ اپنے ملک کی معاشی، سائنسی یا دفاعی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کررہا اس اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے تیس چالیس گنا کما رہا ہے۔ دونوں کے لائف سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔ اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کسی یونی ورسٹی میں تعلیم دے رہا ہے تو سرکاری پروفیسر بھی آخری عمر تک آتے آتے اِس قابل نہیں ہوتا کہ اپنا ایک اچھا گھر بناسکے۔ وہ بھی اپنی زندگی کو صرف دھکیل رہا ہوتا ہے۔ اگر اسے یہ کہا جائے کہ تم بہتر کام کررہے ہو اور ملک و قوم کو تم سے بہت فائدہ ہے تو یہ باتیں سننے میں تو اچھی لگتی ہیں لیکن اِن سب باتوں کو گوندھ کر ایک وقت کی روٹی نہیں پکائی جاسکتی۔ بجلی کا بل نہیں دیا جاسکتا اور ایک مناسب گاڑی نہیں خریدی جاسکتی۔چنانچہ آج کا نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ ڈاکٹر بن کر کسی ہسپتال میں پچاس ہزار روپے ماہانہ کی نوکری کرے یا نان چنے کی ریڑھی لگا کر روزانہ اِتنے روپے کمالے۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ وہ یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کیا ترغیب دے رہے ہیں۔ کوئی نوجوان کیوں کئی سال تک کڑی محنت کرے۔ پرائیویٹ یونی ورسٹی میں ڈاکٹر بننے کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں۔ سرکاری یونی ورسٹی میں یہ خرچ کم ہوکر ایک لاکھ روپے سالانہ رہ جاتا ہے اگر وہ بچہ اوپن میرٹ پر داخل ہو۔ لیکن سرکاری یونی ورسٹی میں اوپن میرٹ پر داخلے بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پیڈ طالب علم ہوتے ہیں۔ ان کی فیس وہی ہوتی ہے جو پرائیویٹ اداروں کی ہے۔ ایسی ہی صورتِ حال انجینئرنگ یا معاشیات کی اعلیٰ تعلیم کی ہے۔ اِتنا روپیہ، وقت اور محنت برباد کرنے کے بعد اگر نوجوان نے زندگی کی گاڑی لشتم پشتم ہی گھسیٹنا ہے تو سوال یہ پیداہوتا ہے کہ وہ یہ تعلیم کیوں حاصل کرے۔ اگر ہمارے ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے یونہی گھسٹتے رہے تو دو باتیں ہوں گی ۔ ایک تو یہ کہ لوگوں کے دِل سے سائنس و ٹیکنالوجی اور دوسرے اعلیٰ شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے کا خیال دھندلا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں گے وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے۔ یہاں یہ دونوں کام ہی ہورہے ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی اور دوسرے اعلیٰ علمی شعبوں میں تعلیم یافتہ لوگ درکار ہیں۔ یہ نہیں ہوں گے تو ملک یونہی لشتم پشتم لڑھکتا رہے گا۔
دوسری بات یہ پتا چلی کہ پٹھورے بیچنے والے، نہاری والے، حلوہ پوری والے ایک پائی ٹیکس نہیں دیتے۔ ان کے یہاں سارے کام کیش پر چل رہے ہوتے ہیں اور کسی قسم کی کوئی رسید نہیں ہوتی۔ لاکھوں روپے روز کی بکری کرنے والے مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اگر حکومت نے انھیں زبردستی ٹیکس نیٹ میں لایا بھی ہے تو وہ برائے نام ٹیکس دے رہے ہیں جس کا ان کی آمدنی سے کوئی میل نہیں ہے۔ چنانچہ ایک بہت بڑا شعبہ ایسا ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کررہا۔ اگر حکومت سختی کرے تو ہمارے یہاں ہڑتالیں اور مظاہرے شروع ہوجاتے ہیں۔ حکومت ان تاجروں یا دکان داروں کے ہاتھوں بری طرح بلیک میل ہوتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ سلسلہ اِس طرح تو نہیں چل سکتا۔ ہمیں ہر دکان دار کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا اورہر ایک کو اپنی کمائی کے مطابق ٹیکس دینا ہوگا۔ کتنی ہی دکانوں پر آپ کو یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ کوئی جیز کیش، ایزی پیسہ یا بینک ٹرانسفر نہیں ہوگا۔ صرف کیش رقم لی جائے گی۔ لاہور کی ایک بے حد مشہور کڑاہی گوشت کی دکان پر یہی لکھا ہے۔ باربی کیو کی دکانوں پر بھی یہی لکھا ہے۔ نان چنے کی ریڑھی یا دکان پر تو بینک ٹرانسفر کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے پڑسی ملک میں اب چھابڑی فروش، چھوٹے چھوٹے دکان دار تک ڈیجیٹل پیمنٹ کے طریقوں پر آگئے ہیں۔ چنانچہ وہاں ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو وہ بھی ہڑتال اور مظاہروں کے ذریعے بلیک میل کرسکتے تھے لیکن وہاں حکومت نے سختی دکھائی اور آج وہاں ٹیکس دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دوسری جانب صارف کو بھی فائدہ پہنچا ہے کہ اب اسے ہر جگہ کیش لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو ٹیکس کون دے رہا ہے؟ وہ پڑھا لکھا طبقہ جو پہلے ہی کم کما رہا ہے۔ وہ اپنی تنخواہ پر ٹیکس دیتا ہے، ہر اس چیز پر ٹیکس دیتا ہے جو وہ خریدتا ہے، پھر بجلی کے اِستعمال پر ٹیکس دیتا ہے، رہائشی مکان پر ٹیکس دیتا ہے۔ یوں اس پڑھے لکھے طبقے کی آمدنی مزید کم ہوجاتی ہے۔ 
تو اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ہمارے ملک میں پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے تو وہ کون جی دار ہے جو اِس سوال کا تسلی بخش جواب دے سکے؟

مزیدخبریں