بات ہے 1212ءکی جب چنگیز خان سے بدترین شکست کھا کر جلال الدین خوارزم نے گھوڑے سمیت دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی اور قبائلی علاقوں سے ہوتا ہوا اُچ اور ملتا ن کے قرب و جوار میں داخل ہو گیا ۔ جلال الدین خوارزم پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے مسلمانوں کو چنگیز خان یا تاتاریوں کے حملوں سے متعارف کرایا ۔ ہندوستان میں اُس وقت خاندان ِ غلامان کے بادشاہ شمس الدین التتمش کی حکومت تھی جو رضیہ سلطانہ کا باپ تھا ۔ جلال الدین خوارزم نے ملتا ن اور اُچ کے گرد و نواح میں ہندو اورمسلم راجاﺅں سے جنگ کرکے اپنی چھوٹی سے حکومت بنا لی اور اس دوران اُس نے التتمش سے بھی رابطہ کیا کہ کوئی مدد ¾ سیاسی پناہ یا سفارتی مدد مل جائے لیکن زیرک التتمش جانتا تھا کہ جلال الدین خوارزم کو پنا ہ دینے کا مطلب تاتاریوں کو غضب ناک کرنا ہے جس کا دوسرا مطلب ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجوانے کے مترادف تھا کیونکہ چنگیز خان ہندوستا ن کے دروازے پر کھڑ ا تھا ۔ التتمش نے خوارزم کے ایلچیوں کی خوب خاطر تواضع کی لیکن وہ خوفزدہ تھا کہ اگر جلال الدین خوارزم کو صاف انکا ر کیا تو کہیں وہ چنگیز خان کے ساتھ مل کرہندوستان پر حملہ نہ کردے اور اگر پناہ دیتا ہے تو چنگیز خان سے عافیت ممکن نہیں ۔ التتمش نے خوارزم کے ایلچیوں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا لیکن اُس میں زہر ملا دیا جس سے اُن کی موت ہو گئی ا ور اُس نے جلال الدین خوارزم کو پیغام بھجوا دیا کہ آپ کیلئے ہندوستان کی آب و ہوا مناسب نہیں ۔ عقل مند خوارزم بھی حالات کو سمجھ چکا تھا اُس نے کچھ عرصہ ہندوستان میں قیام کیا اورپھر 1224ءمیں افغانستان یا ایران چلا گیا جہاں وہ 1231ءمیں قتل ہو گیا ۔ تقریبا 8سو سال پہلے ہندوستان میں غلام سلطنت کے حکمران کو معلوم تھا کہ اپنی ریاست سب سے پہلے ہو تی ہے ۔ جن لوگوں نے چنگیز خان کی تاریخ پڑھ رکھی ہے وہ باخوبی جانتے ہیں کہ چنگیز خان کے حملے کا کیا مطلب ہوتا تھا ۔ ریاست میںافضل ترین شے وہ شہری ہوتے ہیں جو ریاست کے اعتماد پر پُرسکون زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور ریاست چلانے والوں کے نزدیک اُن شہریوں کے جان و مال سے افضل کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ امریکہ اور اُس کی پراکسی اسرائیل نے ایران پرجارحیت کرکے سب سے زیادہ پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا ہے لیکن پاکستان کے اذہان نے سفارت کاری کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ امریکہ جیسے ملک کو جنگ سے روکنا معمولی بات نہیں تھی اور اس کا غیر معمولی ہونا اسی ایک بات سے ثابت ہے کہ دنیا اس وقت بھارت ¾ افغانستان اور سپاہِ نیازی کی چیخیں سن رہی ہے ۔ اخبارات ¾ پرنٹ اور سوشل میڈیا سیاسی قیادت کا جتنا مرضی ” گڈا باندھ “ لے لیکن پاکستانی عوام کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس کھیل کا ماسٹر مائنڈ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر ہے ۔ جس کو دنیا سراہ رہی ہے اور افوا ج پاکستان کے بدترین دشمن سمجھ نہیں پا رہے کہ ایسے نڈر ¾ بہادر اورذہین جرنیل کے خلاف انہوں نے کونسا حربہ استعمال نہیں کیا لیکن وہ صراط کے ہر پل کوشان ِ بے نیازی سے عبور کر گیا ۔ٹرمپ کی برادری نے نہ صرف ایران جنگ میں اُس کا ساتھ دینے سے انکار کیا بلکہ اس جنگ کو ہی ٹرمپ کی جنگ ڈکلیئر کردیا ¾ وہی ٹرمپ جو سوائے پیوٹن کے ہر ملک کے سربراہ یا مختلف ممالک کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرچکا ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا جس کی سب سے زیادہ تکلیف بھارت ¾ افغانستان اور” اپنے یوتھیوں“ کو ہے ۔ سعودیہ کو ایران پر حملے سے باز رکھنا ¾ ایران کو مذاکرات کیلئے راضی کرنا ¾ اسرائیل کو اوقات میں لے جانا ¾ بھارت کو سفارتی طور پر تنہاکرنا ¾ وہ پاکستان جس کے بارے میں بے شرم یو ٹیوبرز آج بھی اس کے دیوالیہ ہونے کا وقت دے رہے ہیں اُس پاکستان کو اقوام عالم کے سامنے امن کا نمائندہ بنانا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے پہلی بار پاکستان کو اتنا باوقار ہوتے دیکھا ہے ۔ فیلڈ مارشل کی تعیناتی سے لے کر آج تک ¾پاک بھارت جنگ ہو یا پھر معاشی مسائل ¾ پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہو یا پھر سفارت کاری ¾ ہر جگہ عاصم منیر ہی وہ بیان مرصوص ہے جو ہر پاکستانی کو کھڑی نظر آ رہی ہے اور پاکستان دشمنوں کا صرف ایک ہی ٹارگٹ ہے جسے وہ پاکستان سے باہر اور پاکستان کے اندر بیٹھ کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن جنہیں ملک کی خدمت کرنا ہووہ محبت کی صدائیں لگاتے رہتے ہیںکہ کتوں کے بھونکنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جنگیں شروع ہی ختم ہو نے کیلئے ہوتی ہیں ۔ دنیا میں سوائے معیشت کے کوئی جنگ ایسی نہیں جو روز ِ ازل سے آج تک تواتر اور تسلسل کے ساتھ چل رہی ہو اور یہی ایک جنگ ہے جس کو جیتنے کیلئے پاکستان کے بہادر بیٹے دن رات کہیں سفارت کاری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور کہیں پاکستان دشمنوں کے ساتھ محاذوں پر برسرِپیکار ہیں ۔ افغان طالبان کو چھپنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی ¾ بھارت صفر چھ سے بُری طرح ہار چکا ¾ یوتھیوں کا سیاسی قوت کا دعویٰ ہجڑے کی اولاد جیسا ثابت ہوا ۔ سیاسی قوت سے مراد صرف احتجاجی قوت ہوتی ہے اور جو اپنے لیڈر کے کہنے پر بھی اپنے بلوں سے نہیں نکلتے وہ سیاسی قوت نہیں سیاہی قوت ہوتی ہے جسے لیڈر اپنے چہرے پر ہی مل سکتا ہے۔ 10ہزار کا لشکر طلب کرنے والوں کی فرمائش پر جب 10بندے بھی اکٹھے نہ ہوں تو پھر سیاسی ساکھ کیا رہ
جاتی ہے ؟ پہلے دن سمجھایا تھا کہ پاکستان کے عوام اپنی فوج سے پیار کرتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی اسی قوت پاکستان میں یا پاکستان سے باہر موجود نہیں جو سوشل میڈیا یا چند سو افراد کے ساتھ مل کر فوج کے اندر بغاوت کرا سکے یا اُن سے اپنے ناجائز مطالبا ت منوا سکے ۔ لو! اب یہ پڑا ہے ہنڈ سم نیازی اور یہ پڑی ہے اُس کی ذہین سوشل میڈیا ٹیم ¾کہ جس کے بل بوتے پر کسی کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈ ا کرکے اُسے بیک فٹ پر لے جاتے تھے ۔ عالمی سوداگروں کے جنگی مفاد ختم ہوتے ساتھ ہی پاکستان ٹیک آف کرنے کیلئے تیار کھڑا ہے ۔ ہمارا وقار بحال ہو چکا ¾ ہم نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہم ہی خطے میں امن کی ضمانت دے سکتے ہیں ورنہ سپر پاور ہو یا اسرائیل ہرمز کا پانی بھی اُس کیلئے بحر الکاہل ہی ثابت ہوں گے ۔ التتمش جو اس خطے کا مقامی بھی نہیں تھا اگر آٹھ سو سال پہلے اپنی ریاست بچانے کیلئے خوارزمی ایلچیوں کی قربانی دے سکتا ہے تو ہمیں اپنی ریاست کے اندر بھارت ¾ ا سرائیل اور افغانیوں کے ایجنٹوں کو براہ راست سبق سکھانے میں کیا قبا حت ہے کر ریاست سے افضل صرف ریاست ہوتی ہے۔
التتمش، خوارزمی قاصد اور ریاست
09:06 AM, 9 Apr, 2026