خلیجی جنگ نے ساری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کہا ہوا ہے۔ دنیا کے نقشے پر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ واشنگٹن میں بیٹھ کر دعوے کر رہے تھے کہ ہم نے ایران کو تاریخ کے بد ترین نقصان سے دوچار کر دیا ہے اور اس کی تمام عسکری قوت کو کمزور کر دیا ہے اور ساتھ ہی مختلف طرز کی ڈیڈ لائنز دے رہے تھے۔ جب کہ دوسری طرف ایران ڈٹا رہا، ایرانی قوم نے اس مشکل وقت میں بڑی استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور وہ بنیادی امریکی اسرایل منصوبہ ناکام کر دیا جس کے تحت ایران میں حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لا کر حکومت کی تبدیلی کی جانا تھی۔ اسرائیل نے سوچا تھا کہ چوٹی کی قےادت کے ختم ہو جانے کے بعد عوام اس لہر میں شامل ہو جائیں گے جو حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔ مذہبی قیادت اور سوچ کے خلاف ایران میں یہ لہر زیرِ زمین موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا درجے کی مہنگائی، معاشی گراوٹ اور سخت گیر حکومتی بندوبست نے ایرانیوں کو حکومت مخالف کر رکھا ہے لیکن ایرانی قوم نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے غیر ملکی بندو بست کے ذریعے تبدیلی کو مسترد کر دیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ایران نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور اس کی مزاحمت رنگ لائی اور امریکہ کو پاکستان کی مذاکراتی کوششوں کا مثبت جواب دینا پڑا اور صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کے لئے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
ثالثی کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر دھمکی آمیز اور سخت زبان استعمال کئے جانے کے بعد بہت سے مبصرین ثالثی کی کوششوں کی ناکامی کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے۔ اس حوالے سے بڑے نشیب و فراز آئے لیکن آخر کار پاکستان کی سےاسی و عسکری قیادت کی کوششیں رنگ لائیں اور عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر ٹرمپ سے رابطے کے نتیجے میں امریکی صدر نے مثبت رائے کا اظہار کیا اور انہوں نے 15 روز کےلئے عارضی جنگ بندی اعلان کر کے اپنی دی گئے ڈےڈ لائن واپس لے لی ،اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی بہترین ثالثی کی کوششوں کا اعتراف
بھی کیا۔ پاکستان نے اےران اور امرےکہ کے درمےان جاری کشےدگی کے خاتمے کے لئے اےک اہم سفارتی پیشکش کی جسے بین الاقوامی میڈیا نے "اسلام آباد اکارڈ " کے نام سے رپورٹ کیا۔ اس فریم ورک کے مطابق دو مراحل پر مشتمل منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل جنگ بندی اور جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی تجویز شامل ہے۔ منصوبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات بھی کئے جائیں گے، جن میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی محفوظ آمد و رفت اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق ضمانتیں دنیا شامل ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران جس مہارت، عمدہ سفارتکاری اور تدبر سے اس معاملے کو ڈیل کیا، ان کوششوں کو عالمی سطح سراہا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں تجزیہ کار، سفارتکار اور میڈیا پاکستان کی اس کامیابی کی تعریف کر رہا ہے کہ پاکستان کس طرح امریکہ اور ایران کو اس حوالے سے اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوا۔ غیر مستحکم جیو پولیٹکل ماحول میں پاکستان کی امن مذاکرات کی سنجیدہ کوشش سے پاکستان کی امن پسندانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام دانشمندانہ سفارتی کوشش ہے۔ یہ محض ثالثی نہیں بلکہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی سٹرٹیجک بصیرت، سفارتی ساکھ اور عالمی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کی خواہش اور صلاحیت کا فیصلہ کن امتحان ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ فوری جنگ بندی ہو اور خطے کو مزید غیر مستحکم ہونے سے بچایا جا سکے۔
پاکستان کھلے دل سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے کیو نکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہولناک جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنےا کو اےک غےر ےقےنی، اضطراب اور شدید بے چینی و آزمائش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان کا کردار اس تمام صورتحال میں اہم اورقابلِ تحسین ہے۔ اپنی متوازن پالیسی، علاقائی روابط اور سفارتی تجربے کی بنیاد پر پاکستان نے ایک ایسے پل کا کردار ادا کیا ہے جو متحارب فریقین کو قریب لانے میں مدد دے گا اور اس سلسلے میں اب تک پاکستان کی کاوشیں بڑی حد تک کامیاب دکھائی دے رہی ہیں۔ پاکستان اس جنگ کے خاتمے کے لئے سب سے موزوں ملک اس لئے بھی ہے کہ اس پر ایران کو بھی بھرپور اعتماد ہے اور امریکہ کو بھی بھروسہ ہے اور سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستیں بھی پاکستان کو قابلِ اعتماد حلیف سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت جو کل تک امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باجود بات چیت کے لئے تیار نہ تھی، پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات پر آمادہ ہوئی۔
پاکستان کے لئے یہ مذاکرات ایک موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ پاکستان اگر فرقین کے درمیان کامیابی سے ثالثی کا کردار ادا کر لےتا ہے اوریہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہو گا اور اسے ایک ذمہ دار سفارتی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔ فریقین کے درمیان گہری بد اعتمادی ، متضاد سٹرٹیجک مفادات اور بیرونی جیو پولیٹکل دبائوایسے عوامل ہیں جو اس عمل کو نازک اور کمزور بنا سکتے ہیں۔ معمولی غلطی یا غیر متوقع صورتحال بھی اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف عدم استحکام، معاشی نقصان اور انسانی المیے کو جنم دیتی ہے۔مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہے جو دیر پا امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی کوشش اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تصادم کی بجائے مکالمہ ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہوں گے جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور اتحادوں کو از سرِ نو تشکیل دینے کا باعث بنیں گے۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطہ مزید انتشار اور بد ترین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس مذاکرات، افہام و تفہیم اورا یک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہی وہ راستے ہیں جو امن و استحکام کے ضامن ہیں۔
اسلام آباد اکارڈ
09:03 AM, 10 Apr, 2026