واشنگٹن / کابل: امریکی جریدے ’’یوریشیا ریویو‘‘ نے افغان طالبان کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور ’فتنہ الخوارج‘ کے درمیان ایک باقاعدہ غیر اعلانیہ معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان دانستہ طور پر خوارج کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں تاکہ انہیں عالمی دباؤ پر اپنے ’بھائیوں‘ کے خلاف کارروائی نہ کرنی پڑے۔ یہ دوغلی پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک ٹائم بم بن چکی ہے۔
عالمی جریدے کی اس رپورٹ نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس موقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغان طالبان کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے ثبوت فراہم کر رہا ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے افغان طالبان کی اس ’دہشت گرد نوازی‘ کا نوٹس نہ لیا تو افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا، جس کے اثرات صرف پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ طالبان اور خوارج ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔افغانستان میں خوارج کو مکمل آزادی اور تربیتی مراکز میسر ہیں۔
افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی نرسریاں: طالبان اور فتنہ الخوارج کا خفیہ گٹھ جوڑ بے نقاب
طالبان رجیم خوارج کی موجودگی تسلیم کرنے سے گریزاں، افغانستان دہشت گردی کا عالمی گڑھ بن گیا: امریکی جریدہ
01:35 PM, 9 Apr, 2026