’حقیقی معاہدے تک واپسی نہیں‘: ٹرمپ کا ایران کے گرد امریکی فوج کی مستقل تعیناتی کا حکم

معاہدہ نہ ہوا تو پہلے سے زیادہ طاقتور حملے کریں گے، ایران کو ہتھیار دینے والوں پر 50 فیصد ٹیرف لگے گا

10:43 AM, 9 Apr, 2026

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے سخت ترین عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی اور حقیقی معاہدے کی تکمیل تک امریکی بحری بیڑے، ہوائی جہاز اور فوجی عملہ خطے سے واپس نہیں بلایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مذاکراتی عمل میں کوئی بھی غیر متوقع رکاوٹ آئی یا ایران نے طے شدہ شرائط سے انحراف کیا تو امریکا فوری فوجی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ  "اس بار حملے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن اور طاقتور ہوں گے۔"
ایران کو تنہا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ نے ایک بڑے عالمی معاشی فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی مصنوعات پر امریکا میں 50 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جائے گا، تاکہ ایران کی دفاعی سپلائی لائن کاٹی جا سکے۔ٹرمپ نے اپنی 'ریڈ لائنز' واضح کرتے ہوئے کہا کہ     ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کا فیصلہ حتمی ہے۔   عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر محفوظ اور کھلا رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ معاہدے کے امکانات روشن ہیں، لیکن امریکا کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے اور اس بار کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

مزیدخبریں