ممبئی/ سنگاپور: سنگاپور کے مؤقر جریدے "دی سٹریٹس ٹائمز" کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ نے بھارتی معیشت کے "شائننگ انڈیا" کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کی ناقص اقتصادی پالیسیوں اور بین الاقوامی محاذ پر غلط حکمتِ عملی کے باعث بھارت اس وقت بدترین توانائی اور انسانی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کو ایندھن کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مارچ سے اب تک گیس کی قیمتوں میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس نے چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو تالے لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ صرف صنعتی شہر 'سورت' سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ٹیکسٹائل ورکرز بے روزگار ہو کر اپنے آبائی دیہاتوں کو لوٹ چکے ہیں۔ یہ ہجرت بھارتی تاریخ کے بڑے معاشی بحرانوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے بلند بانگ دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں ،ایندھن کی قلت اور بجلی کی عدم فراہمی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اور وہ بنیادی سہولیات کے لیے دہائیوں پیچھے چلے گئے ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ "یہود و ہنود" کے گٹھ جوڑ اور مودی کی متعصبانہ ترجیحات نے بھارت کو اپنے پڑوسیوں اور توانائی فراہم کرنے والے ممالک سے دور کر دیا ہے۔
"دی سٹریٹس ٹائمز" نے واشگاف الفاظ میں لکھا ہے کہ بھارت میں صنعتی پہیہ جام ہونا مودی سرکار کی اسٹریٹجک ناکامی کا ثبوت ہے۔ لاکھوں محنت کشوں کا شہروں سے انخلاء اس بات کی علامت ہے کہ اب عوام کا مودی کے معاشی ماڈل پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی سرکار کی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے محض پروپیگنڈے پر مبنی تھیں، جس کا خمیازہ آج کروڑوں بھارتی شہری بھگت رہے ہیں۔
سنگاپور کے جریدے کا مودی سرکار پر چارج شیٹ: بھارت 'پتھر کے دور' کی طرف گامزن
09:40 AM, 9 Apr, 2026