اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ کے بادلوں کو چھٹانے کے لیے پاکستان کی زمین تاریخی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اعلیٰ ترین حکام آج رات اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے اپنے سب سے بااعتماد ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اس بار ٹھوس نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایران نے بھی مذاکرات کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اہم ترین مہرے میدان میں اتارے ہیں۔ ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آج رات اسلام آباد میں لینڈ کریں گے۔ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم پاکستان سے ٹیلیفونک رابطے میں اسلام آباد کے میزبانی کے کردار کو سراہا اور مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
ہفتے کی صبح شروع ہونے والے ان مذاکرات میں درج ذیل معاملات میز پر ہوں گے۔
ان مذاکرات کی اہمیت کے پیش نظر سعودی عرب اور چین کے وفود بھی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان ایک کلیدی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی وفد کی سکیورٹی اور سفارتی معاونت کے لیے 23 رکنی ایڈوانس ٹیم پہلے ہی تمام انتظامات کو حتمی شکل دے چکی ہے۔
امن کی امید: اسلام آباد آج سے ایران امریکہ براہ راست مذاکرات کا میزبان، عالمی قیادت کی آمد
09:24 AM, 9 Apr, 2026