کامران شاہد، ارشاد بھٹی، لا علمی افسوسناک

10:15 AM, 9 Apr, 2025

تاریخ کا وہ باب جس میں ہم سانس لے رہے ہوں اگر صاحبان عقل و دانش کی نگاہوں سے اوجھل رہے تو سوچا جائے ماضی کی تاریخ کے ابواب سچائی کا حوالہ کیسے بن سکتے ہیں۔ کامران شاہد اور ارشاد بھٹی میڈیا شوز کے حوالے سے نہایت معروف افراد کی صف میں شامل ہیں لیکن پروگرام جس میں ارشاد بھٹی نے داماد (صدر آصف زرداری) کی جانب سے مسٹر (ذوالفقار علی بھٹو) کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز نشان پاکستان دیئے جانے پر جو اعتراض آمیز سوال اٹھایا۔ اعتراض بھٹو پر پاکستان توڑنے کی سازش کا حصہ دار ہونے کے الزام کے حوالے سے تھا۔ اس سلسلے میں بھٹو کے دفاع میں جو بات کی گئی اس سے ان دونوں کی افسوسناک لاعلمی کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تنقید نہیں بلکہ تاریخ کی سمت درست رکھنے کی ادنیٰ کوشش ہے۔ 
اعتراض یہ ہے کہ ایسا شخص(بھٹو) جس پر ملک توڑنے کی سازش کے ایک شریک کار کا الزام ہے اسے ملک کا سب سے بڑا اعزاز کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو نشان پاکستان کا اعزاز دینے کے جواز اور اسے درست فیصلہ قرار دینے کے حق میں بطور دلیل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (ر)قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔ وہ یہ کہ جس مقدمہ میں بھٹوکو سزائے موت دی گئی اس کی سماعت درست طریقے سے نہیں ہوئی۔ جس عدالتی بنچ نے سزا سنائی اس کے ایک رکن جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ نے ججوں پر دباؤ کا انکشاف بھی کیا تھا۔ اس دور میں یہ بات صحافتی ، سیاسی حلقوں میں عام تھی کہ نسیم حسن شاہ کا یہ انکشاف اس غصے کا نتیجہ ہے جو نواز شریف کی جانب سے انہیں صدر پاکستان نہ بنائے جانے پر تھا۔ بہر حال میاں نواز شریف بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں وہ تصدیق یا تردید کر سکتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس معاملے کی طرف۔ وہ مقدمہ جو عدالتی عمل میں صحیح طورپر نہیں سنا گیا اور جس کے حوالے سے ججوں پر نسیم حسن شاہ کے بقول دباؤ تھا، وہ مقدمہ پاکستان توڑنے کی سازش کے حوالے سے نہیں تھا بلکہ احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا تھا۔ جہاں تک پاکستان توڑنے کی ساز ش کا تعلق ہے یہ مقدمہ چلایا جانا تو دور کی بات ہے ، کسی عدالت کے روبرو اس کا چالان تک تادم تحریر پیش ہی نہیں کیا گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا حالانکہ حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ نے اس کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کر دی تھی۔ اس سوال کا جواب مجھے سقوط مشرقی پاکستان کے اہم کردار جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے اس انٹرویو سے ملا جو ان کی زندگی کا آخری انٹرویو تھا جو لاہور کینٹ میں ان کے گھر جا کر کیا تھا۔ روزنامہ امت پبلیکیشنز کے میگزین غازی میں شائع ہونے والے اس انٹرویو میں ایک مرحلہ پر جنرل نیازی نے کہا، مجھ پر مقدمہ کیوں نہیں چلاتے، ان کے اس جملے کو سوال میں تبدیل کرتے ہوئے استفسار کیا، آپ پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا ، جنرل نیاز ی نے بڑے جذباتی انداز میں جواب دیا، پھر ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلانا پڑے گا۔ پھر میجر جنرل راؤ فرمان نے مشرقی پاکستان کے جے او سی کی حیثیت سے جی ایچ کیو کو جو خط لکھا تھا وہ بھی مقدمہ کا حصہ بنتا۔ بھٹو نے پولینڈ کی قرارداد پھاڑ کر بھارتی فوج کے مشرقی پاکستان میں داخلے کی راہ ہموار کی تھی وہ معاملہ بھی زیر سماعت آتا۔ میں آج بھی کہتا ہوں میرے خلاف مقدمہ چلاؤ۔ جنرل نیازی کے اس بیان سے اتفاق کیا جائے یا نہ کیا جائے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ پاکستان توڑنے کی سازش ، کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ اس حوالے سے جنرل نیازی، جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو کسی فوجی یا سول عدالت سے بے گناہی کا سرٹیفکیٹ نہیں ملا۔ اس لئے ارشاد بھٹی کے اس اعتراض میں خاصا وزن ہے۔ آج تک بھی ذوالفقار علی بھٹو کا دامن اس الزام کے دھبوں سے کسی عدالتی فیصلے یا عمل کے ذریعے صاف نہیں ہو سکا ہے۔
جہاں تک آصف زرداری کی جانب سے بھٹو کو نشان پاکستان کا اعزاز دینے کا تعلق ہے اس سے بڑا اعزاز بھی دے دیا جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ، نہ ہی میرے اعتراض کی کوئی حیثیت ہے۔ بلا شبہ کامران شاہد اور ارشاد بھٹی ، تعلیمی استعداد ، علمی قابلیت اور تجزیاتی اہلیت میں مجھ سے بہت آگے ہیں تاہم تجربہ اور مشاہدہ میں ان سے بہر حال اس لئے سینئر ہوں کیونکہ جنرل ایوب خان کے آخری دور 1968ء میں راولپنڈی سے شائع ہونے والے روزنامہ تاجر سے صحافت کی وادی میں قدم رکھا۔ یہ دونوں یقینا چھوٹی کلاسوں کے طالب علم ہوں گے میں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایوب کابینہ میں پانی، بجلی اور قدرتی وسائل کے وزیر ، پھر وزیر خارجہ، تاشقند کے راز کے ڈرامے، پیپلز پارٹی کے قیام، جنرل یحییٰ کے ساتھ خاص محفلوں کی کہانیاں، سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننے، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے منصب سے پھانسی کے پھندے تک کے طویل ترین ادوار میں بطور صحافی عام فرد سے کچھ زیادہ مشاہدہ بھی کیا اور بھگتا بھی ہے۔ بھٹو کی پھانسی کی شب برادر بزرگ سعود ساحر مرحوم کے ہمراہ رات تین ساڑھے تین بجے راولپنڈی جیل کے نزدیک پہنچنے پر اس وقت راولپنڈی جیل کی سکیورٹی کے ذمہ دار اور راولپنڈی کے سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر راحت لطیف کے حکم پر اس وقت تک نظر بند رکھا گیا جب تک بھٹو کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے نوڈیرو نہیں پہنچا دی گئی۔ برگیڈیئر راحت لطیف پر جیل میں بھٹو پر جسمانی تشدد کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے جب ان کی پروموشنل فائل وزیر اعظم بے نظیر کے پاس گئی تو انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ جس پر بریگیڈیئر راحت لطیف نے انہیں خط لکھ کر وضاحت دی کہ ان کی ذمہ داری محض جیل کی سکیورٹی تھی جیل کے اند ر کے تمام معاملات کا ذمہ دار جیل سپرنٹنڈنٹ تھا۔ اس وضاحت کے بعد بے نظیر نے فائل پر دستخط کر دیئے اور راحت لطیف میجر جنرل کا عہدہ پر ترقی پا کر ریٹائر ہوئے۔ 
جہاں تک مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سازش کا تعلق ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا بھٹو کا دامن اس کا حصہ دار ہونے کے الزام سے بدستور داغدار ہے۔ نواب محمد احمد قتل کیس میں نا انصافی کے بعض پہلوؤں سے یہ داغ اس وقت تک نہیں دھل سکے گا جس تک پاکستان توڑنے کی سازش میں حصہ داری کا کیس نہیں چلایا جاتا اور بھٹو کو عدالتی عمل کے ذریعہ بے گناہ قرار نہیں دیا جاتا۔ زندہ تاریخ کو مغالطوں کی نذر کرنا نسلوں کو اندھیرے میں رکھنے کے مترادف ہے۔ ارشاد بھٹی کبھی صحیح بات بھی کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں