غزہ : غزہ ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن گیا۔ صیہونی فوج نے شہر کی ایک اور بلند عمارت کو نشانہ بنا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جس کے ساتھ ہی صرف تین دن میں غزہ میں تین بڑی عمارتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
فضائی حملے نہ صرف عمارتوں پر ہوئے بلکہ ان پناہ گاہوں پر بھی کیے گئے جہاں بے گھر فلسطینی محفوظ ہونے کی امید لیے بیٹھے تھے۔ تازہ حملوں میں 87 افراد شہید اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں وہ 16 افراد بھی شامل ہیں جو امداد کے انتظار میں تھے۔ شدید بھوک اور قحط کے باعث مزید 6 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مجموعی طور پر غزہ میں شہداء کی تعداد 64 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 62 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ وہاں خوراک، پینے کا صاف پانی اور بنیادی ادویات بھی دستیاب نہیں رہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل نے ایک بار پھر جنگ بندی کو حماس کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کر دیا ہے، اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ جواب میں حماس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل جنگ روکے اور غزہ سے اپنی فوجیں نکالے، تو تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔