تہران : ایران نے کہا ہے کہ وہ ایک حقیقی اور پائیدار معاہدے کے لیے تیار ہے، جس میں وہ اپنے یورینیم افزودگی کے پروگرام پر سخت نگرانی اور واضح حدود قبول کرے گا، اگر عالمی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ لگانے کے منصوبے سے باز رہیں، ورنہ اس کے ناقابلِ تلافی اور تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے صرف امریکا کو فائدہ ہوگا اور یورپ اکیلا رہ جائے گا۔
عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے مثبت بات چیت کر رہا ہے تاکہ جوہری مقامات کی صورتحال واضح ہو سکے، مگر دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ پابندیوں کی صورت میں جوہری معاہدے سے نکلنے پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے یورپی طاقتوں پر تنقید کی کہ وہ امریکی پالیسیوں کے پیروکار بن چکے ہیں اور کہا کہ سخت موقف اختیار کرنے سے یورپ عالمی سطح پر اپنا اہم کردار کھو دے گا۔ عراقچی نے کہا ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ لگیں تو اس سے یورپ کی ساکھ متاثر ہوگی اور امریکا یورپ سے غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کرے گا۔
اسرائیل کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے گا تو اسے امریکا سے مدد لینی پڑے گی، کیونکہ ایران کی فوج اس قابل ہے کہ اسرائیل کو شکست دے سکے۔