سیلاب کے پانی نے ملک کے نصف سے زائد حصے میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ستلج، راوی اور چناب بپھرے ہوئے ہیں۔ مختلف دریائوں کا پانی مل کر جب دریائے سندھ تک پہنچتا ہے تو اسے کھلا میدان مل جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے صوبہ سندھ اس تباہی سے محفوظ ہے جو پہلے بارشوں کے سبب صوبہ خیبر میں آئی پھر دریائوں کی طغیانی سے پنجاب میں ، سیالکوٹ ، نارووال، وزیرآباد، گجرات، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، مظفر گڑھ، ملتان، پاک پتن، قصور اور ان سے ملحقہ علاقے زیر آب آئے ہیں۔ متاثرہ گائوں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ سیلاب سے لاہور کے دو انٹری پوائنٹ زیادہ متاثر ہوئے ان میں شاہدرہ اور قصور شامل ہیں۔ دریائے راوی کے کنارے بستیاں ڈوب گئیں۔ دریا کے سینے پر بسائی گئیں بستیاں اس وقت دریا برد ہو گئیں جب دریائے راوی نے کروٹ لی۔ لاہور شہر میں بارش کا پانی ضرور پہنچا لیکن دریا گھر گھر نہیں پہنچا۔ سیلاب کے پانی کے گھر گھر پہنچنے کی اطلاع دینے میں سوشل میڈیا اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ ایک موقع پر تو یہ سوچا جانے لگا کہ سوشل میڈیا کو کچھ روز کیلئے بند کر دیا جائے تو شاید دریائوں کو سکون مل جائے اور پانی اتر جائے۔
کچے کا علاقہ پنجاب اور سندھ میں ہے، خیال کیا جا رہا تھا کہ پنجاب میں کچے کے علاقے تو مکمل طور پر ڈوب جائیں گے کیونکہ وہ ہوتے ہی لب دریا ہیں۔ یوں کچے کے ڈاکوئوں کو بنا کسی پولیس مقابلے کے ہم جہنم کے دروازے پر دیکھ سکیں گے کیونکہ ضلعی انتظامیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ ملک اور شہریوں کو لوٹنے والوں کو ریکسیو کیا جائے لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کچے کے علاقے کے ڈاکو ہر طرح سے محفوظ رہے بلکہ سیلابی ایام میں بھی انہوں نے اپنی ’’صحت مندانہ‘‘ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے راہ روک کر راہگیروں سے سیلاب فنڈ بھی جمع کرنا شروع کر رہا ہے۔ سیلابی فنڈ جمع کرنا یقینا ایک نیک کام ہے۔ حکومت بھی ایسا کرتی ہے۔ سیلاب فنڈ جمع کرنے والوں کے اعزاز میں سیلاب رخصت ہو جانے کے بعد ایک تقریب منعقد ہونی چاہئے اور یہ کار خیر انجام دینے والوں کو قومی سطح پر ایوارڈ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ میری حکومت سے گزارش ہو گی کہ اس موقع پر کچے کے ڈاکوئوں کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ قومی سطح کے ایوارڈ کیلئے مستحق قرار پانے والے نصف سے زیادہ افراد کی خدمات ان جیسی ہی بتائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے دو مرتبہ قومی سطح کا ایوارڈز حاصل کرنے والے فاروق صاحب قابل ستائش ہیں جنہوں نے فقط ایک گھڑی خرید کر عظیم قومی خدمت انجام دی اور ارباب اختیار کے دل جیت لے۔ قومی سطح کا ایوارڈ تو ان کے لئے خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ ایسے عظیم کردار کے مالک افراد کو کسی قومی ادارے کا سربراہ بنا دینا چاہئے کیونکہ وہ چوری کے مال پر گہری نظر رکھنے کے معاملے میں عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
سیلاب کی آمد سے قبل این ڈی ایم اے کو پوری طرح تیار رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس تیاری کی خبر 4ستمبر کو قومی اخبارات کے ذریعے گھر گھر تک پہنچی تو سیلاب گھر گھر پہنچ چکا تھا یوں نہاتی دھوتی رہ گئی تے آٹا چٹ گئی کُتی۔ سیلاب کا حسن خوب خوب دیکھنے میں آیا لیکن زیادہ خوشی یہ جان کر ہوئی کہ گنڈا سنگھ والا پر سیلاب کی پیمائش کرنے والا آلہ ہی غائب تھا یوں معلوم ہی نہ ہو رہا تھا کہ کس مقدار میں پانی آرہا ہے۔ اس آلے کی غیرموجودگی سامان راحت ثابت ہوئی یہ آلہ موجود ہوتا، پانی کی پیمائش جاری رہتی یہ اعداد و شمار شائع کئے جاتے تو لوگوں کی راتوں کی نیند اڑ جاتی۔ وہ ساری رات بیٹھ کر رات آنکھوں میں کاٹ کر بے چین رہتے۔ پیمائش آب کا آلہ نہ ہونے اور پیمائش نہ ہونے کے سبب اہل علاقہ چین کی نیند سوئے یوں سوتے سوتے میں پانی ان کے گھر پہنچ گیا، ان کی آنکھ پانی کی دستک پر نہیں کھلی بلکہ وہ اس وقت بیدار ہوئے جب پانی چڑھتے چڑھتے ان کی چارپائی پر چڑھ آیا۔ بھارت کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے غیر روائتی اور غیر مروجہ طریقے سے پانی چھوڑنے کی اطلاع دی۔ مجھے بھی ذاتی طور پر اس سے یہی شکوہ ہے کہ اس نے یہ اطلاع بذریعہ انڈس واٹر کمیشن کیوں نہ بھیجی۔ فون کال، میسج یا وٹس ایپ اور آڈیو مسیح، ویڈیو مسیج تو اطلاع دینے کا کوئی شریفانہ طریقہ نہیں ہے، اسے چاہے تھا ہمارے کان میں گھس کر ہمیں اطلاع دیتا کہ وہ کب اور کتنا پانی چھوڑے گا۔ مجھے بھارت سے ایک شکوہ اور بھی ہے وہ یہ کہ اس نے صرف پانی چھوڑنے کی اطلاع دی، اس نے ہم سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ریکوسٹ نہیں کی۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھارت جس کام کی ہم سے ریکوسٹ نہ کرے ہم خواہ مخواہ اس کی بغیر اجازت ہی وہ کام کر ڈالیں۔ یہ بالکل اسی طرح ممکن نہیں کہ آپ بغیر کسی کو فرینڈز ریکوسٹ بھیجے، اس کے فرینڈ بن جائیں۔
پنجاب پولیس کے بارے میں آئی جی پولیس کی ہدایات سامنے آئی ہیں۔ پنجاب پولیس سیلابی پانیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ ان کی کئی چیزیں بھی نکال رہی ہے۔ یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ وہ اپنی پرفارمنس سے اپنی نیک نامی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آئی جی صاحب کو ایک اور قومی سطح کا ایوارڈ ملنا چاہئے۔ آج سے قبل کسی آنے والے سیلاب میں اس ادارے کے ارکان کو یہ ڈیوٹی ادا کرتے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
صوبہ خیبر میں بارش کے پانی میں بہہ جانے والوں کی تعداد بارہ سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ان حادثات میں ایک ہی خاندان کے چالیس افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ پنجاب میں سیلاب کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کا تعین تو پانی اتر جانے کے بعد ہو گا لیکن کتنی بھینسیں، گائیں اور دیگر مویشی ہلاک ہو گئے، ان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ جانوروں کی کھالیں خریدنے والا مافیا متحرک ہو چکا ہے۔ وہ ازراہ ہمدردی ان جانوروں کی صرف کھال ہی نہیں خرید رہا بلکہ کھال کا سودا ان کے گوشت سمیت کر رہا ہے۔ یوں آم کے آل اور گٹھلیوں کے دام کھرے ہو رہے ہیں۔ اگر آپ باربی کیو تناول کرنے کے شوق پر کم از کم ایک ماہ کے لئے قابو پا لیں تو یہ آپ کے لئے بہت بہتر ہے، بصورت دیگر جتنا بجٹ گوشت خوری کے لئے ہے، اس سے دوگنا بجٹ ڈاکٹری نسخوں کی خریداری کے لئے بروقت مختص کر دیں۔ شادی بیاہ کا سیزن سر پر آگیا ہے۔ سیلابی علاقوں میں کئی بچیوں کے جہیز بہہ گئے ہیں۔ نوجوانوں سے گزارش ہے بغیر جہیز کے ان بچیوں کو قبول فرمائیں اور انہیں زندگی بھر جہیز نہ لانے کے طعنے نہ دیں۔ عوام الناس سے درخواست ہے شادی کی تقریبات میں اول تو شریک نہ ہوں، کوئی بہانہ بنا دیں، اگر جانا ضروری ہو تو کم از کم گوشت کے سالن سے دور رہیں، وجہ عرض کی جا چکی ہے، بس سلامی دیں اور اپنی جان بچائیں۔
سلامی دیں اور جان بچائیں
09:13 AM, 8 Sep, 2025