پہاڑوں کا حسن اور اداروں کی غفلت

09:13 AM, 8 Sep, 2025

پاکستان کی جغرافیائی ساخت اور فطری مناظر اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ سرزمین قدرتی حسن کا ایک بے مثال خزانہ ہے۔ فلک بوس پہاڑ ، نیلگوں جھیلیں ، سرسبز وادیاں ، تاریخی ورثہ ، صدیوں پرانی تہذیبیں اور انسانی دلوں کو مسخر کرنے والی فضائیں ،یہ سب مل کر پاکستان کو دنیا کے ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سیاحت محض ایک عارضی شوق نہیں بلکہ ایک دائمی معاشی و تہذیبی حقیقت بن سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس اتنا سب کچھ موجود ہے تو پھر پاکستان دنیا کے بڑے سیاحتی مراکز میں شامل کیوں نا ہو سکا ؟ جواب سیدھا بھی ہے اور تلخ بھی کہ ریاستی بدانتظامی ، ادارہ جاتی کرپشن اور ہوٹل مافیا کی لوٹ مار نے اس شعبے کو مفلوج کر رکھا ہے ۔ سیاحت محض نظاروں کا مشاہدہ نہیں بلکہ یہ تہذیبوں کے مابین ایک مکالمہ ہے ۔ انسان اور فطرت کے درمیان موجود ایک لطیف رشتہ ہے جو بنی آدم کو اس کے اصل سے جوڑتا ہے ۔ جب کوئی ریاست اپنی سیاحت کو نظر انداز کرتی ہے تو گویا وہ اپنی تہذیب ،اپنی تاریخ اوراپنی روح سے بے وفائی کرتی ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی یہی ہے کہ یہاں سیا حت کو معاشی و تہذیبی امکان کے بجائے محض تفریحی سرگرمی سمجھا گیا ۔اگر پاکستان کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کا حال دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی فعال ادارہ نہیں بلکہ محض چند افسران کی آرام گاہ ہے ۔دنیا بھر میں سیاحتی وزارتیں سرمایہ کاروں کو راغب کرتی ہیں،مواقع پیدا کرتی ہیں مگر ہمارے ہاں بجٹ کے لاکھوں روپے مبینہ سیمیناروں اور غیر ضروری تشہیری مہمات پر ضائع کر دیے جاتے ہیں جبکہ حقیقی انفراسٹرکچر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ہماراٹورازم ڈیپارٹمنٹ، جس کا مقصد دنیا بھر میں ملک کی خوبصورتی کو اجاگر کرنا اور سیاحوں کو سہولت فراہم کرنا تھا خود مبینہ بد عنوانی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی نذر ہو گیا ۔یہ ایک ایسا مردہ جسم بن چکا ہے جس کا نہ تو کوئی وژن ہے نہ ولولہ ۔ہمارا سیاحت کا محکمہ جسے دراصل سہولت کاری ، پالیسی سازی ، اور مقامی معیشت کے فروغ کا ضامن ہونا تھا ،رفتہ رفتہ ایک تجارتی کارپوریشن کا روپ دھار چکا ہے ۔ اس کے ذمے یہ تھا کہ وہ محض نگرانی اور رہنمائی کرے ، قواعد و ضوابط مرتب کرے اور نجی و مقامی سرمایہ کاروں کے لیے ہموار میدان فراہم کرے مگر افسوس کہ اب وہی محکمہ اپنے منصوبے لگا کر براہِ راست کمائی کے عمل میں شریک ہو گیا ۔جس ادارے کا منصب انصاف اور توازن قائم رکھنا تھا وہ خود میدانِ تجارت کا کھلاڑی بن بیٹھا ۔ جب حکمران ہی منڈی میں حریف کا روپ دھار لے تو پھر شفافیت اور مساوات کا چراغ کہاں جل سکتا ہے ؟یوں سیاحت جو کسی خطے کے لیے اجتماعی خوشحالی اور تہذیبی نمو کا سر چشمہ بنتی اب محدود مفاد کی نذر ہو کر اپنے اصل ثمرات سے محروم نظر آتی ہے ۔دنیا کی مہذب اقوام کے ہاںسیاحت محض ایک صنعت نہیں بلکہ تہذیبی شناخت ، فکری بالیدگی اور معاشی ترقی کی ضامن سمجھی جاتی ہے ۔انسانی تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ جو قومیں سیاحت کو قومی پالیسی کا حصہ بناتی ہیں وہ معیشت میں خود کفیل ہو جاتی ہیں۔ سیاحت صرف معیشت نہیں یہ اخلاقی و تہذیبی امتحان بھی ہے۔ایک مہذب قوم اپنے مہمانوں کے ساتھ ہمیشہ حسنِ سلوک کرتی ہے مگر ہمارے ہاں سیاح کو لوٹنے کی روایت عام ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ یہ ہماری تہذیبی شناخت پر بدنما دھبہ ہے ۔ سیاح جب مری یا ناران پہنچتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہی کرتے ہیں کہ کیا یہ ملک واقعی اپنی سیاحت پر فخر کرتا ہے ؟سڑکوں کی خستہ حالی ، غیر تربیت یافتہ گائیڈز ، سہولتوں کا فقدان اور سب سے بڑھ کر انتظامیہ کی غیر موجودگی سب مل کر پاکستان کی سیاحت کو ایک المیہ بنا دیتے ہیں اور اگر کوئی سیاح ان تمام مشکلات کے باوجود اپنی منزل پر پہنچ جائے تو ہوٹل مافیا اس کا خون نچوڑنے کے لیے تیار ہوتی ہے ۔ ایک کمرے کا کرایہ جو عام دنوں میں چند ہزار ہوتا ہے موسمِ سیاحت میں پانچ گنابڑھا دیا جاتا ہے ۔ صفائی کا کوئی معیار نہیں ، سہولتوں کا کوئی حساب نہیں مگر نرخ ایسے جیسے جنت میں کمرے کا سودا ہو رہا ہو ۔پاکستان کی سیاحت کا سب سے 
خون آشام دشمن یہی ہوٹل مافیا ہے ۔ یہ عوامی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے ایسے حربے اختیار کرتا ہے کہ سیاح اپنے ہی وطن میںخود کو اجنبی اور مجبور محسوس کرتے ہیں ۔کھانے پینے کی ناقص اشیاء کو سنہری نرخوں پر فروخت کیا جاتا ہے ۔ہوٹل مافیادراصل جدید زمانے کے قزاق ہیں ان کے نرخوں میں نہ کوئی اخلاق ہے نہ کوئی ضابطہ ۔سیاحوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا ان کے نزدیک کاروبار ہے اور لوٹ مار کو انہوں نے پیشے کی معراج سمجھ لیا ہے ۔یہ مافیادراصل اس ریاستی بے حسی کی پیداوار ہے جب ادارے خاموش رہیں ، قوانین پر عمل درآمد نہ ہو اور کوئی نگرانی نہ کی جائے تو سرمایہ دار لوٹ مار کو ہی کاروبار سمجھ لیتے ہیں ۔یہ مافیا صرف سیاحوں کو ہی نہیں لوٹتا بلکہ مقامی آبادی کو بھی اپنے تسلط میں لے لیتا ہے ۔زمینوں پر قبضے ، نا جائز تعمیرات اور سیاسی سرپرستی اس مافیا کے ہتھیار ہیں ۔اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی علاقوں کی اصل روح کمرشلزم کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ پاکستان کی سیاحت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مناظر کی کمی نہیںہے بلکہ یہاں بصیرت کی کمی ہے ۔ پہاڑ اللہ نے بنائے ، وادیاں قدرت نے بسائیں،جھیلیں ربِ کریم نے تراشیں مگر اداروں نے انہیں لالچ غفلت اور کرپشن کے حوالے کر دیا ۔ٹورازم ڈیپارٹمنٹ وہ ادارہ ہے جسے مسافر کا سہارا بننا تھا مگر یہ خود بوجھ بن گیا ۔ جب ریاست اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے تو خلا کو ہمیشہ مافیا پر کرتا ہے ۔یہ سب محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ ہے ۔وہ قومیں جنہیں اللہ اپنی زمین پر حسن ، وسعت اور تنوع کی دولت عطا کرے مگر وہ اس کو سنبھال نہ سکیں وہ محض دولت سے نہیں بلکہ اپنی ساکھ ، اپنی شناخت اور اپنی روح سے بھی محروم ہو جاتی ہیں ۔اگرپاکستان نے اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے تو اسے اس لوٹ کھسوٹ کے کھیل کو ختم کرنا ہو گا ۔ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کو یا تو ازسرِ نو زندہ کرنا ہو گا یا پھر اس کے خاتمے کا اعلان کرنا ہو گا ۔ہوٹل مافیا پر آہنی ہاتھ ڈالنا ہو گا ورنہ یہ فطرت اور قوم اپنے حصے کی خوشبو کھو دے گی ۔سیاحت محض ایک صنعت نہیں یہ ایک قوم کا چہرہ ہے اور ایک بارمسخ ہو نے کے بعددنیا کی کوئی طاقت اسے دوبارہ خوبصورت بنا کر پیش نہیں کرسکتی ۔ پاکستانی سیاحت کا بحران محض مالی نہیں بلکہ فکری ہے ۔ ہم نے سیاحت کو کبھی قومی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایااور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا ورثہ بربادی کے دہانے پر ہے ۔

مزیدخبریں