دلیل اور شعور!

09:13 AM, 8 Sep, 2025

سید محمود احمدسر سید کے بیٹے تھے،ان کا پیشہ وکالت تھا، ایک بارانہوں نے عدالت میں اپنے مؤکل کے بجائے فریق مخالف کے حق میں دلائل دینا شروع کردیے۔مؤکل نے کان میں بتایاسرآپ میرے خلاف دلائل دے رہے ہیں۔وہ رکے اور جج کو مخاطب کرکے گویا ہوئے:’’می لارڈ! یہ وہ دلائل تھے جو فریق مخالف میرے مؤکل کے حق میں پیش کر سکتا تھا۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنے ہی دلائل کے بخیے ادھیڑنے شروع کردیے اور حاضرین دیکھتے رہ گئے۔
کسی مؤقف کے موافق یا مخالف استدلال پیش کرنا اہل علم کے لیے کوئی مشکل امر نہیں ہوتا۔ اصل مشکل یہ ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط استدلال کو پہنچانے کی صلاحیت پیدا کرلی جائے۔دور جدید کے انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کسی موقف کوپرکھنے اور اس کودرست یا غلط کہنے کا معیار کیا ہے؟ کیا  محض الفاظ کی ترتیب، آواز کی شدت یا تعداد کی کثرت کسی بات کو حق بنا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو وہ کون سے پیمانے ہیں جن کی بنیاد پر ہم کسی مؤقف کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس کا پہلا پیمانہ یہ ہے کہ کسی موقف کو دیکھا جائے وہ دلیل پر مبنی ہے یا نہیں۔دلیل عموما نقلی ہوتی ہے یا عقلی۔ اگر وہ دلیل نقلی ہے تو اس کا حوالہ موجود ہے یا نہیں؟ کیا وہ مؤقف کسی کتاب، حدیث، آیت، تاریخی روایت یا مستند ماخذ سے نقل کیاگیا ہے؟اگر وہ دلیل عقلی ہے تو کیا وہ عام عقل اور منطق کے اصولوں پر پوری اترتی ہے؟ کیا وہ تجربے، مشاہدے اور انسانی تاریخ کے عمومی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
دوسرا پیمانہ اس مؤقف کا روایتی اور اخلاقی پہلو ہوتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہنے والا کس لہجے میں بات کر رہا ہے۔ اگر اس کا انداز شائستہ، زبان نرم اور دوسروں کی بات سننے اور اختلاف برداشت کرنے کا ظرف موجود ہے تو یہ سنجیدہ موقف کی علامت ہے۔ اس کے برعکس اگر لہجے میں طنز ،غلط القاب اور جذباتی پن ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ متکلم کے پاس دلیل کم اور اشتعال زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے آج بیشتر علمی حلقے ان دونوں پیمانوں سے خالی نظر آتے ہیں۔
اختلاف ایک فطری عمل ہے اور اس کا مہذب اظہار کسی قوم کے فکری بلوغت کی علامت ہوتا ہے۔ جب دلیل ختم ہو جائے تو اس کی جگہ جذباتی نعرے، توہین آمیز الفاظ اور طعن و تشنیع لے لیتے ہیں۔ایک باشعور فرد کو سوچنا چاہیے کہ جو بات میں سن رہا ہوں یا پڑھ رہا ہوں اس کی نقلی یا عقلی دلیل کیاہے؟ اور جو اندازِ بیان اپنایا گیا ہے کیا وہ سنجیدگی، شائستگی اور خیر خواہی پر مبنی ہے یا محض نفرت، تضحیک اور تعصب سے لبریز ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر کسی موقف کو جانچنا چاہیے، چاہے وہ سیاسی ہو، مذہبی، معاشرتی یا نظریاتی۔سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو عام کیا ہے وہیں سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت کو محدود بھی کر دیا ہے۔ الگوردھم اب ہمیں وہی کچھ دکھاتے ہیں جو ہماری پسند سے ملتا جلتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم مسلسل ایک مخصوص ماحول میں رہنے لگتے ہیں جہاں مخالف رائے تک رسائی ممکن نہیں رہتی۔ اگر ہم سچ کو پانا چاہتے ہیں توہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس بات کو قبول یا رد کرتے ہیں اورکس بنیاد پر کر تے ہیں۔ اگرکسی مؤقف کی کوئی دلیل نہیں اورعقل عام بھی اس کو قبول نہیں کرتی تو وہ بات خواہ کتنی ہی اہم اورمشہور کیوں نہ ہو اسے قبول کرنا کم از کم علمی دیانت نہیں کہلا سکتا۔یہی تنقیدی سوچ ایک باشعور معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں صرف ماننے کا حکم نہیں دیابلکہ ’’تعقل، تدبراورتفکر‘‘ پر بھی زور دیا ہے۔ قرآن کی صداقت بھی انہی اصولوں پر مبنی ہے فرمایا:’’ قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین۔‘‘ (البقرۃ، 111) نبی اکرم ﷺ کا اسلوبِ تبلیغ بھی ہمیشہ دلیل، نرمی اور خیر خواہی پر مبنی ہوتا تھا۔ 
اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ فکری طور پر مہذب بنے تو ہمیں اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی رائے سازی کو انہی پیمانوں پر پرکھنا ہوگا۔ اگر ان دونوں پیمانوں میں سے کوئی ایک بھی غائب ہے تو موقف کمزور ہے اور اگر دونوں موجود ہیں تو چاہے وہ رائے ہماری پسند کے خلاف ہو ہمیں اسے تسلیم کرنے کا ظرف پیدا کرنا چاہیے۔ سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے کے یہ پیمانے نہ صرف فرد کی فکری پختگی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ قوموں کی علمی ترقی اور تمدنی استحکام کا زینہ بھی ہیں۔ سچ دلیل سے جیتتا ہے طنز سے نہیں اور حق شائستگی سے سر بلند ہوتا ہے گالی سے نہیں۔ ہمیں یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔

مزیدخبریں