سپر فلڈ، سیاسی تباہی، روٹی 40 روپے

09:12 AM, 8 Sep, 2025

تین دریائوں کے ریلے دریائے سندھ میں داخل ہوگئے، پنجاب کے 4100دیہات ڈوب گئے۔ 41 لاکھ افراد دربدر، وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورے، امدادی سامان تقسیم، اس کے باوجود پروپیگنڈہ ’’مر گئے بھوک سے دریا کے کنارے بچے‘‘ پچھلے دنوں سیلاب کا زور ٹوٹا، 10 لاکھ کیوسک سے دو تین لاکھ کیوسک کا سیلاب اچھلتا شور مچاتا تباہی پھیلاتا دریائے سندھ میں جا گرا۔ توقع تھی کہ تباہی تھمے گی اور آبادکاری کا آغاز ہوگا کہ بھارت نے پھر پانی چھوڑ دیا۔ 11 لاکھ کیوسک سے تینوں دریا کناروں سے باہر بہنے لگے۔ این ڈی ایم اے نے پھر دو ماہ بعد کا الرٹ جاری کردیا۔ آئندہ سال 28 فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی خوف کے سائے بڑھ گئے۔ مودی سرکار نے خفیہ منصوبہ بندی کے تحت دریائوں میں پانی چھوڑا، بھارتی ریٹائرڈ جنرل کنور جیت سنگھ ڈھلوں نے خفیہ سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ جب پاکستان میں فصلوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو بھارت اپنے ڈیموں میں پانی جمع کرتا رہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے دریائوں میں ریت اڑتی ہے۔ مون سون کے موسم میں جب فصلیں تیار ہوتی ہیں تو بھارتی حکام ڈیموں کے منہ کھول دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے کیونکہ پاکستان میں معدودے چند ڈیمز لاکھوں کیوسک پانی کو جمع کرنے کی استعداد نہیں رکھتے، سیلاب سے فصلیں تباہ ہوتی ہیں۔ ہر سال یہی ہوتا ہے ڈیم نہیں بنتے، شنید ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر 2029ء سے قبل مکمل نہیں ہوگی، دراز زلف وزیر اعلیٰ نے کسی ترنگ میں کالا باغ کا ذکر چھیڑا تو ان کی اپنی پارٹی ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے مہربان مخالفت میں سامنے آگئے۔ مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش، کہیں اور بنالیں نہیں بناتے تو تباہ ہوتے رہیں۔ کسان اتحاد کے چیئرمین کے مطابق حالیہ سپر فلڈ سے 33 سے 35 ہزار دیہات زیر آب، 25 لاکھ ایکڑ پر تیار فصلیں تباہ ہوگئیں، گندم کی قیمت 2100 سے بڑھ کر 3500 روپے من ہوگئی۔ حکومت کو گندم درآمد کرنا پڑے گی ورنہ روٹی کی قیمت 40 روپے ہوجائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق حالیہ سیلاب سے اب تک 42 ارب کا نقصان ہوچکا سیلاب کے بعد آبادکاری اور معاوضوں پر بھی اربوں خزانے سے نکلیں گے۔ کسی نے کہا مغلیہ دور میں ہندو دریائے راوی میں پوجا پاٹ کیا کرتے تھے تاکہ دریا اپنے کناروں تک محدود رہے شامت اعمال ہم نے اس کے کنارے بستیاں بسانی شروع کردیں، زرعی زمین پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر کس عقلمند نے مشور دیا تھا۔ مائی ڈیئر خان کے دور میں دریا کنارے دنیا کا مثالی اور خوب صورت ترین شہر بسانے کے لیے روڈا نامی ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی۔ راوی کے اندر باہر سوسائٹیاں بننے لگیں، بن گئیں تو آنکھیں کھلیں کہ ان کی منظوری تو لی ہی نہیں گئی (ہماری آنکھیں دیر سے کھلتی ہیں) سیلاب بلا تباہی مچا چکا تو ایک سوسائٹی کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا۔ باقی 8 مالکان کی ’’نیکیاں‘‘ کام آرہی ہیں۔ دو دو لاکھ میں پلاٹ خرید کر دو دو کروڑ میں بیچنے والے محفوظ ہیں۔ امدادی کاموں کے باوجود مخالفین تنقید کے کوڑے برسا رہے ہیں۔ اپنے دور اقتدار میں کیے گئے کرتوت اور ڈرامے بھول گئے یاد دلائیں؟ 2022ء کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مناظر، سیلاب زدہ علاقہ سے کچھ دور خیمے لگائے گئے خیموں میں پانی چھوڑا گیا۔ وزیر اعظم مائی ڈیئر خان نے علاقہ کا دورہ کرنا تھا۔ چھوڑے گئے پانی میں اینٹیں رکھی گئیں، مبادا وزیر اعظم کی شلوار کے پائنچے نہ بھیگ جائیں۔ کیمرے اور ’’تباہ حال‘‘ لوگ تیار، کہکشائوں پر چلنے والے خان اینٹوں پر پائوں جماتے خیمے میں آئے لوگوں سے ملے، تصویریں بنیں، خان کی چپلیں تک نہ بھیگیں، ان کے جاتے ہی تمبو، قناتیں غائب، ’’آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم فسانہ ہوگیا‘‘ امداد کے لیے جمع کیے گئے 5 ارب روپے کے بارے میں سوالات باقی ہیں کہاں سے آئے یہ اربوں روپے، کہاں گئے اربوں روپے،  کس کو ملے اربوں روپے، مٹی پائو گھر کو جائو، خان کو اب بھی سیلاب کی فکر نہیں وہ اڈیالہ جیل میں ’’اب تو آرام سے گزرتی ہے، عاقبت کی خبر خدا جانے‘‘ گنگناتے رہتے ہیں، دن تو جوں توں گزر جاتا ہے البتہ پیر اور بدھ کی راتوں میں کان سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں، سوچیں گھیر لیتی ہیں، وسوسے سونے نہیں دیتے، منگل کو کون آئے گا جمعرات کو کوئی نہ آیا تو کیا کریں گے، ملاقاتوں کے دوران کون سا بیانیہ پیش کریں گے۔ پچھلے دنوں ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت کی تھی کہ وہ استعفے دے دیں، دیے یا نہیں جمعرات کو آنے والوں نے بتایا کہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں سمیت  51 ارکان مستعفیٰ ہوگئے، اسپیکر نے استعفے فی الحال منظور نہیں کیے، ایک ایک کو بلا کر پوچھیں گے۔ لیڈر کا حکم ماننا ہے یا رکنیت برقرار رکھنی ہے 5 لاکھ تنخواہ لاکھوں کی مراعات لاجز سے بے دخلی بہت کچھ چھن جائے گا، ارکان استعفیٰ دینے سے پہلے اور بعد قومی اسمبلی اجلاس میں آئے اس روز کی حاضری لگائی تاکہ تنخواہ نہ کٹے اور کچھ کہے سنے بغیر بائیکاٹ کر کے اسمبلی سے باہر جا بیٹھے، اسد قیصر اسپیکر کی کرسی پر براجمان تلخ ترش تقریروں کے بعد گھروں کو روانہ، خان نے ستمبر ہی میں پھر سڑکوں پر عوام کو لانے کی کال دے دی، ستمبر کے دوران بارشوں کا الرٹ، کون باہر نکلے گا، شہروں دیہات میں سیلاب، باہر نکل کر ڈوبنے کا خطرہ ایک صاحب نے گرہ لگائی، ’’مژگاں تو کھول خان کو سیلاب لے گیا‘‘ سارے بیانیے ڈوب گئے۔ ’’وہ منزلیں بھی کھو گئیں وہ راستے بھی کھو گئے، جو آشنا سے لوگ تھے وہ اجنبی سے ہوگئے‘‘ لوگ ڈوب رہے ہیں دریائوں کی بے رحم موجیں غریبوں کا سامان بچیوں کے جہیز تک بہا لے گئیں، خان کو تحریک کی پڑی ہے۔
خان کو جیل سے باہر لانے کی نئی کوشش بھی ناکام، پہلے اڈیالہ جیل میں 148 قیدیوں کے ایڈز میں مبتلا ہونے کی خبر اڑائی گئی، خبر ذہنوں میں اتر چکی تو خان کی بیماریوں پر چند ٹی وی چینلوں پر ماہرین اور انہیں ٹی وی پر بلانے والے بغل بچوں کے ٹاک شوز کرائے گئے۔ ایک ویلاگر نے اڑائی، ایک آنکھ گئی، دوسرے نے کہا کانوں سے بہرے ہوگئے۔ داڑھیں جواب دے گئیں، راتوں کو بڑبڑانے کی بیماری لاحق ہوگئی، ایک رپورٹر نے مزمل سہروردی کو بتایا کہ خان کو چکر آنے اور بہرے پن کی بیماری ہونے کے باعث آئندہ دو ماہ میں شوکت خانم اسپتال سے معائنہ کے بعد بنی گالہ منتقل کردیا جائے گا۔ بشریٰ بی بی ساتھ ہوں گی ان کے موکل بھی بے روزگار ہونے کے باعث میاں بیوی دونوں کو دھمکاتے ڈراتے رہتے ہیں، اسی لیے کانوں میں سائیں سائیں اور بڑبڑانے کا مرض لاحق ہوگیا ہے، رپورٹر کے مطابق دو ماہ میں انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ ایک خوب صورت سے اینکر پرسن اور ویلاگر نے ویلاگ میں سرخی جمائی، خان مان گیا، دستخط ہوگئے کیا ڈیل ہوئی؟ ایک اور سرخی ملاحظہ فرمائیں ’’بہت جلد رہائی، رہائی کے دو طریقے (دونوں گھسے پٹے) اوپر سے جواب آیا، نظام کا تسلسل برقرار رہے گا، کوئی پیشکش کوئی رابطہ، کچھ نہیں، مایوسی کے بعد علیمہ باجی نے کہہ دیا کہ خان فٹ اور ہشاش بشاش ہیں (یا ایھا ناس) عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم (آقائے دو جہاں پر لاکھوں سلام) اور 6 ستمبر گزر گیا مجاہدوں، غازیوں اور شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن، سب اپنے دھندوں میں مگن کسی کو بیٹوں کی ضمانت، بہتوں کو خان کی رہائی نہ ہونے کا غم، ویلاگرز کو ڈالروں کا ہوکا، چینلز کو ریٹنگ بڑھانے کی فکر عوام کے مسائل اللہ تعالیٰ حل کریں گے۔

مزیدخبریں