’’بلوچستان میں سرداری نظام!مسائل کی اصل جڑ‘‘

09:12 AM, 8 Sep, 2025

سرداری نظام ایک ایسا جابرانہ اور غیر منصفانہ نظام ہے، جو انسانی آزادی، مساوات اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بظاہر یہ کسی قبیلے یا خاندان کی قیادت پر مبنی لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ چند افراد کو طاقت دے کر پورے معاشرے کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے۔ اس نظام میں فرد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی، صرف سردار کی مرضی قانون سمجھی جاتی ہے۔ عام آدمی کی زندگی، عزت، روزگار اور فیصلہ سازی سب سردار کے اشارے پر منحصر ہوتے ہیں اور یوں عوام اپنی رائے اور آزادی کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر ہم حقوق انسانی پر نظر ڈالیں تو ہمیں یقینا نظر آئے گا کہ اسلام سے پہلے انسان ظلم اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔حق وانصاف کا وجود ہی نہیں تھا ۔سابقہ قوانین سے یہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ اس زمانے میں حق صرف ’’طاقت‘‘ کا نام تھا ،اس لیے ہر طاقتور (سردار)ہر قسم کی حقوق کا مالک ہوتا تھا اور کمزوور کے سارے حقوق طاقتور کے لیے مباح ہوتے تھے ۔غلامی کا قانون مشہور تھا ۔اقوام عالم میں باہمی رواداری اور مروت کا تصور تک موجود نہ تھا ۔قوموں اور قبیلوں کی جنگوں کا عموماً نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کردیا جاتا اور بچوں اور خواتین کو غلام اور لونڈیاں بنالیا جاتا ۔نبی رحمت ﷺ انہی ایام کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امن واشتی کا منیارہ نور بن کر جگمگائے ۔آپ ﷺ نے عرب میں صدیوں سے رائج ظالمانہ سرداری اور قبائلی نظام کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ عدل ،مساوات اور اخوت پر مبنی ایک ایسا نظام قائم کیا جس نے انسانیت کو حقیقی آزادی عطا کی ۔رسول اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہار اایک باپ(آدم )ہے، کسی عربی کو عجمی پراور کسی عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر، سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب۔‘‘(مسند احمد 23885) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’'اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام میں کوئی شخص محض خاندان، قبیلے یا سرداری حیثیت کی وجہ سے برتر نہیں، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال ہی اصل معیار ہیں۔ اسلامی تاریخ میں خلافت راشدہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں قیادت کا معیار نہ خاندان تھا، نہ سرداری، بلکہ تقویٰ، اہلیت اور خدمت خلق تھی۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ’’اللہ اس ریاست کو بھی قائم رکھتا ہے جو کفر پر ہو لیکن ظلم پر نہیں، اور اس ریاست کو کبھی قائم نہیں رکھتا جو ظلم پر ہو اگرچہ اسلام پر ہو۔‘‘یہ قول اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ سرداری نظام چونکہ ظلم اور ناانصافی پر کھڑا ہے، اس لیے یہ اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ کارل مارکس نے اپنی مشہور تصنیف ’’The Communist Manifesto‘‘ میں جاگیرداری اور سرداری نظام کو طبقاتی استحصال کی بنیاد قرار دیا۔ اس کے مطابق، ایسے نظام میں محنت کش طبقہ ہمیشہ مظلوم رہتا ہے جبکہ طاقتور اشرافیہ ان کے وسائل پر قبضہ کر لیتی ہے۔ ولادیمیر لینن نے بھی اپنی تحریروں میں وضاحت کی کہ جاگیرداری اور سرداری نظام عوامی طاقت کو دبانے کے آلات ہیں اور ان کی موجودگی میں معاشرتی ترقی ممکن نہیں۔یہ دونوں مفکرین اس بات پر متفق تھے کہ سرداری اور جاگیرداری نظام انسانی ترقی کے دشمن ہیں، کیونکہ یہ تعلیم، انصاف اور مساوات کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ سردار ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے پیروکار ناخواندہ رہیں تاکہ وہ سوال نہ کر سکیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ جہالت میں ڈوبا رہتا ہے اور ترقی کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔  جبکہ اسلام میں علم کو فرض قرار دیا گیا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔‘‘کارل مارکس نے تعلیم اور شعور کو آزادی کی پہلی شرط قرار دیا۔ سرداری نظام میں ظلم اور جبر بھی اپنی بدترین شکل 
میں موجود ہے۔ سردار کے حکم سے انحراف کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ کبھی بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، کبھی قبیلے سے بائیکاٹ کیا جاتا ہے، کبھی جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جان تک لے لی جاتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کے بارے میں لینن نے لکھا کہ استحصالی طبقہ ہمیشہ جبر اور طاقت کے ذریعے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی حکمرانی قائم رہے۔یہ نظام سیاست کو بھی مکمل طور پر یرغمال بنا لیتا ہے۔ قیادت ہمیشہ انہی خاندانوں کے گرد گھومتی ہے جو سرداری نظام کے مالک ہیں۔ انتخابات کے نام پر نمائندگی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے مگر اصل میں ہر فیصلہ سردار اور اس کے قریبی خاندان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسلام نے شورائی نظام کو اختیار کر کے حقیقی عوامی شمولیت کی راہ دکھائی، مگر سرداری نظام اس کی بھی نفی کرتا ہے کیونکہ یہ طاقت کو چند ہاتھوں میں محدود رکھتا ہے۔یہ معاشرے کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتا ہے، عوام کو غلام بناتا ہے اور چند افراد کو طاقتور بنا کر ان کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ اسلام نے بھی اسی وجہ سے ہر قسم کے طبقاتی، نسلی اور خاندانی امتیاز کو رد کیا تاکہ انسان اپنی اصل صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھ سکے۔ کارل مارکس اور لینن نے اسی لیے ہمیشہ اس کے خلاف آواز بلند کی کیونکہ یہ نظام معاشروں کو برباد کرتا ہے۔جب تک یہ نظام ختم نہیں ہوگا، مساوات اور خوشحالی کی منزل تک پہنچنا محال ہے ۔بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی دولت سے مالامال صوبہ ہے۔ یہ سرزمین سونا اُگلنے والے پہاڑوں، تانبہ دینے والی وادیوں اور گیس و معدنیات کے بے بہا خزانے رکھتی ہے۔ اگر یہاں1876سے مسلط سرداری نظام کی بیڑیاں نہ ہوتیں، تو آج یہ خطہ ترقی و تحقیق کا گہوارہ ہوتا، یہاں کی درسگاہیں علم و آگہی کے چراغ جلاتیں، صنعت و تجارت میں بلوچستان پورے پاکستان کا رہنما بنتا اور عوام خوشحالی و آزادی کی حقیقی فضا میں سانس لیتے۔ مگر افسوس کہ سرداری نظام نے اس صوبے کی روشن صبح کو اندھیروں میں بدل دیا اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے سے روک دیا۔مگر اب ریاست اور افواج پاکستان کی کوششوں سے یہ صوبہ پسماندگیوں سے نکل کر ترقی وخوشحالی کی راہوں پر گامزن ہوچکا ہے ۔اور یہی چیز چند مفاد پرست سرداروں کے لیے باعث تکلیف ہے۔

مزیدخبریں