پنجاب حکومت نے بسنت کے محفوظ انعقاد پر غور شروع کر دیا

03:08 PM, 8 Oct, 2025

لاہور : پنجاب میں بسنت کے پرانے جوش و جذبے کو محفوظ اور کنٹرولڈ انداز میں دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت نے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ محکمہ داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں بسنت کے دوران مخصوص علاقوں میں محفوظ پتنگ بازی کی اجازت دینے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کی، جہاں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطرناک اور غیر قانونی پتنگ بازی ہر صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مشاورتی اجلاس میں تجویز دی گئی کہ بسنت کے دوران صرف ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ پتنگ بازی کی اجازت دی جائے، جو کہ متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے این او سی حاصل کرنے کے بعد ممکن ہو سکے گی۔ اجازت نامہ حاصل کرنے والے چھت یا احاطے کے مالک کو حفاظتی اقدامات کی ضمانت دینی ہوگی۔

اجلاس میں دھاتی ڈور، تندی یا مانجھا لگی ڈور کے استعمال پر سخت پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ پتنگ سازوں اور فروخت کنندگان کو رجسٹریشن کروانے کا پابند بنایا جائے گا۔ رجسٹریشن نہ کروانے یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

مزید برآں، بغیر اجازت پتنگ بازی اور فروخت پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سول سوسائٹی کے نمائندے نے کہا ہے کہ محفوظ بسنت نہ صرف نوجوانوں کو تفریح فراہم کرے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور سیاحت کے فروغ کا باعث بھی بنے گی۔

والڈ سٹی اتھارٹی کو عوامی رائے جاننے کے لیے سروے کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ لیسکو نے گزشتہ سالوں میں پتنگ بازی سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات اجلاس میں پیش کی ہیں۔

حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ بسنت کی کھلے عام اجازت نہیں دی جا رہی، تاہم کنٹرولڈ اور محفوظ بسنت کے لیے تجاویز زیر غور ہیں۔

مزیدخبریں