اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے مطابق صوبے میں بلدیاتی انتخابات دسمبر 2025 کے آخری ہفتے میں ہوں گے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب میں حلقہ بندیوں کا عمل فوراً شروع کیا جائے اور اسے دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 2022 کے بلدیاتی حکومت کے قانون کے تحت کرائے جائیں گے۔
سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہ ہونا نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ حکومتوں کے لیے بھی شرمناک بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے بار بار قانون میں تبدیلی کر کے الیکشن ملتوی کیے، لیکن اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو بلدیاتی نظام سے مسئلہ ہے تو آئین میں ترمیم کر لے، ورنہ الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیار کے تحت الیکشن کرائے گا۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق پنجاب حکومت نے پانچ مرتبہ بلدیاتی قانون میں تبدیلی کی جس سے انتخابات کا عمل متاثر ہوا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پنجاب کی مقامی حکومتوں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے، لیکن نئی حکومت بار بار تاخیر کر رہی ہے۔
پنجاب حکومت کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیا قانون اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے، مگر سیلاب اور اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے اسے اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت مزید تاخیر نہیں کر سکتی، اس لیے حلقہ بندیاں کل سے شروع کی جائیں۔ دو ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں۔ بلدیاتی انتخابات دسمبر 2025 کے آخری ہفتے میں کرائے جائیں۔ 2022 کے قانون کے تحت الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا۔