نظام کی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے چھوٹے صوبے بنانا ضروری ہے: چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

12:12 PM, 8 Oct, 2025

سرگودھا: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے چھوٹے صوبوں کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق چار صوبوں پر مشتمل موجودہ نظام عوام کو وہ سہولتیں نہیں دے رہا جن کے وہ حقدار ہیں۔

وہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (ایپ سپ) کے زیر اہتمام سیمینار "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔

 میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن ملک میں اب بھی صرف چار صوبے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف پنجاب کی آبادی 13 کروڑ کے قریب ہے، جو کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ ان کے بقول، "اگر پنجاب ایک الگ ملک ہوتا تو یہ دنیا کا چھٹا یا ساتواں بڑا ملک ہوتا، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو انتظامی طور پر چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔"

 انہوں نے بتایا کہ ان کے زیر نگرانی ایک تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ پاکستان کے ہر ڈویژن کو الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
اس طرح ملک میں تقریباً 33 صوبے بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ "یہ تاثر غلط ہے کہ نئے صوبے بنانے سے اخراجات بڑھیں گے۔ درحقیقت انتظامی ڈھانچہ مختصر ہونے سے اخراجات کم ہوں گے اور کارکردگی بہتر ہو گی۔"

 میاں عامر محمود نے کہا کہ گزشتہ 80 سالوں میں ملک کے صرف چند بڑے شہر ترقی کر سکے، جبکہ بیشتر علاقے پسماندہ ہیں۔ان کے مطابق، "کراچی سے نکلیں تو اندرونِ سندھ کچی آبادیوں جیسا منظر ہے، بلوچستان میں صرف کوئٹہ ہی تھوڑا سا بہتر ہے، باقی سب علاقے محروم ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے بننے سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی اور محرومیاں ختم ہوں گی۔

 انہوں نے کہا کہ بھارت آزادی کے وقت صرف 9 ریاستوں پر مشتمل تھا لیکن آج وہاں 37 انتظامی یونٹس ہیں، جس سے ان کی گورننس بہتر ہوئی ہے۔ "ہم دنیا کے واحد بڑے ملک ہیں جو اب تک چار صوبوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں،" انہوں نے کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہر ریاست اپنی معیشت اور ترقی کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہے، جبکہ پاکستان میں صوبوں کے درمیان کوئی صحت مند مسابقت موجود نہیں۔

 میاں عامر محمود نے کہا کہ ملک میں بچوں کی صحت اور تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ 44 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور حکومت فی بچے پر صرف 4400 روپے ماہانہ خرچ کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر ہم نے اب تعلیم پر توجہ نہ دی تو آنے والے 15 سالوں میں ہمارے پاس تعلیم یافتہ مزدور بھی نہیں ہوں گے۔"

 میاں عامر محمود نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک میرٹ کا نظام مضبوط نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں قیادت مڈل کلاس سے ابھرتی ہے لیکن پاکستان میں نظام نے اس طبقے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ "ارشد ندیم نے اپنی محنت سے سسٹم کو شکست دی اور گولڈ میڈل جیتا، اسی جذبے کی ضرورت قومی سطح پر ہے۔"

 انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی احتساب صرف عوام کے ووٹ سے ممکن ہے۔ احتساب کے ادارے وقتی فیصلے کرتے ہیں، مگر عوام کے ووٹ سے آنے والا احتساب ہمیشہ موثر ہوتا ہے،" ان کا کہنا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ چھوٹے صوبوں کی حمایت کو اپنا بیانیہ بنائیں اور اسے سوشل میڈیا سمیت عوامی سطح پر اجاگر کریں۔

 انہوں نے وضاحت کی کہ اگر مثلاً سرگودھا کو صوبہ بنایا جائے تو وہاں موجود افسران ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، اس سے کسی نئے انتظامی ڈھانچے کی بڑی لاگت نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق، "ہم 80 سال سے چار صوبوں کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں، نتیجہ صفر ہے۔ اب نظام بدلنے کا وقت ہے۔"

 انہوں نے ترکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی مارشل لاؤ لگے اور وزرائے اعظم کو پھانسی دی گئی، لیکن جب ایک باصلاحیت قیادت سامنے آئی تو ملک نے ترقی کی۔ "جب عوام میرٹ پر لیڈر منتخب کرتے ہیں، تو وہ خود جمہوریت کا دفاع کرتے ہیں،" انہوں نے کہا۔

 اس موقع پر چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے کہا کہ میاں عامر محمود نے پاکستان کے لیے حقیقی خدمت انجام دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارے ملک کو 80 سال ہو گئے ہیں لیکن ہمیں آج بھی یہ سوچنا ہے کہ اس نظام نے عوام کو کیا دیا۔" ان کے مطابق نوجوان نسل ملک کی اصل طاقت ہے اور مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔

مزیدخبریں