جناب علامہ عبدالستار عاصم صاحب (قلم فائونڈیشن ) منصورہ تشریف لائے ان کے ساتھ بہت ہی معزز سنجیدہ خوش لباس شخصیت بھی تھی ، فوری طور پر میں پہچان نہ پایا اور ان کی شکل و شبہات پر اس گمان میں رہاکہ یہ سعودی عرب کے رضی ولی صاحب ہیں لیکن مزید خیال کیا نہیں اْن سے تو طویل مدت کی شناسائی ہے یہ وہ تو نہیں ، علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے چند لمحوں کے بعد تعارف کرایا یہ عبدالغفور چوہدری صاحب ( ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر ) ہیں اور ساتھ ہی ان کی کتاب ’’سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ‘‘ تھمادی ،علامہ صاحب بھی کمال کے آدمی ہیں روزانہ کی بنیاد پر کتاب شائع کرتے ہیں ، منظر عام پر لاتے اور خود ہی اْسی محنت کے ساتھ اس کی پروموشن بھی کرتے ہیں ، جناب عبدالغفور چودھری صاحب سے تعارف اور کتاب کی اشاعت ، ترتیب وتصنیف پر بات ہوئی اور اسی دوران کتاب کی ورق گردانی بھی کی ، موضوعات ، عنوانات نے فوری طور پر پڑھنے کی کشش پیداکی۔ یوں ،ابتدائی علیک سلیک اور تبادلہ خیال کے بعد نشست تو ختم ہوگئی لیکن عبدالغفور چودھری صاحب کی شخصیت اور سنجیدگی پر کتاب کے عنوان ’’سپاہی سے ڈپٹی کمشنرتک ‘‘ نے دل و دماغ میں تازگی پیدا کردی اور یہ ہی ارادہ کیا کہ اس کتاب پر ضرورکچھ لکھوں گا پھر علامہ عبدالستار صاحب کا پْر محبت تعاقب بھی کچھ کرنے کچھ لکھنے پر آمادہ کردیتا ہے۔ کتاب کی مکمل تحریر بہت شاندار ہے ، اور واقعات اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ،ہر اعتبار سے کتاب سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ہر اْس فرد کے لیے شانداررہنما کتاب ہے جوبھی بے سروسامانی میں زندگی کی دوڑ میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہے ، وہ نیک نیتی ،وژن ، اہداف کے حصول اور ذہانت ،امانت ، جوش و جذبہ سے ہر محاذ پر فرض کی ادائیگی کرے تو اسے اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ عبدالغفور چودھری صاحب کی صبر ،استقامت ،امانت ودیانت ، فرض کی ادائیگی میں ہر خطرہ مول لے کر اپنی زندگی میں رحمت و نصرت کے جو معجزات سمیٹے یہ کتاب انہی معجزات کی کیفیت کا ثبوت ہے۔
کامیابی محنت کا دوسرا نام ہے۔ ہر کامیابی کا کھرا محنت کے گھر سے ہوکر نکلتا ہے۔ جو شخص محنت سے جی چْراتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ تاریخِ عالم پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ دْنیا میں جتنے بھی نامور انسان اَمر ہوکر آج لوگوں کے دِلوں پر راج کررہے ہیں اْن سب نے محنت او ر اَنتھک محنت کو ہی اپنا شعار اور اوڑھنا بِچھونا بنائے رکھا، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے بنی نوع انسانی کی خدمت کا فریضہ ادا کرکے ثابت کیا کہ دْنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں، اگر کوئی شخص کچھ کرگزرنے کا ارادہ مصمّم کرلے ، اس کے لیے نیک نیتی کیساتھ محنت کرے اور خالقِ کائنات کی مدد اور نصرت اْس کے شاملِ حال رہے تو ناممکنات بھی ممکنات میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہیں۔ محنت کی برکات سے متعلق برصغیر کے نامور شاعر و نثر نگار مولانا الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا تھا کہ
مشقّت کی ذِلّت جنہوں نے اْٹھائی
جہاں میں مِلی آخر اْن کو بڑائی
کسی نے بغیر اِس کے ہرگز نہ پائی
فضیلت نہ عزت نہ فرماں روائی
محنت کی عظمت کی ساری دْنیا قائل ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ بعض لوگوں کو اْس کی محنت کا ثمر اِس دْنیا میں ہی مِل جاتا ہے اور بعض لوگ دْنیا میں اس سے محروم ہی رہتے ہیں، چاہے جتنے بھی مخلص ہوں۔ اس کی کئی ایک سماجی وجوہات ہوتی ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع تو نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ضرور ہے لیکن اندھیر نہیں، جو کسی بھی وجہ سے دْنیا میں اپنی محنت کا پھل حاصل نہیں کرپاتے، اگر وہ خالقِ کائنات اللہ وحدہْ لاشریک اور محسنِ کائنات حضرت محمد مصطفیؐ پر ایمان رکھتا ہے، مسلمان ہے تو اْن کے لیے اللہ نے آخرت میں ایسی نعمتیں رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں اور کسی دِل پر اْن کا خیال تک نہ آیا۔ اللہ ہر مومن مسلمان کو ایسی لازوال نعمتیں نصیب کرے (آمین!)
افواجِ پاکستان کے سب سے نچلے عہدہ ’’سپاہی‘‘ پر بھرتی ہونے والا ایک نوجوان محنت اور مشقّت کو شعار بناکر ترقی کی منازل طے کرتا کرتا حکومتِ پنجاب کے اعلیٰ ترین عہدہ یعنی ’’ڈپٹی کمشنر‘‘ تک کیسے پہنچا، یہ ہے وہ داستانِ حیات جو پی ایس سی آفیسر عبدالغفور چودھری، ڈپٹی کمشنر (ریٹائرڈ نے اپنی اِس خودنوشت سوانح حیات ’’سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک‘‘ میں بیان کی ہے، جس کی ایک ایک سطر قارئین کے لیے دلچسپی، معلومات اور تجسّس سے بھرپور ہے، بالخصوص اْن نوجوانوں کے لیے جو بقول اقبال ’ستاروں پہ کْمند ڈالتے ہیں،اور جن سے اِسی وصف کی بناء پر اقبال کو محبت بھی ہے۔ یہ کتاب بطور خاص اْن نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مالی پریشانیوں کے باعث پہلے تو بمشکل اعلیٰ تعلیم کی منازل طے کرپاتے ہیں اور پھر ملکی معاشی صورتِ حال اور حکمرانوں، بیوروکریسی کی کرپشن، اقرباء پروری کے باعث بے پناہ کوشش کے باوجود سرکاری ملازمت کے حصول میں ناکام رہتے ہیں
پانچ سو اْنسٹھ صفحات پر مشتمل عبدالغفور چودھری صاحب کی خودنوشت داستانِ حیات ’’سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک‘‘ سِول سروس اور اس سے وابستہ ذاتی واقعات و تجربات پر مبنی ایک دلچسپ، معلومات افزاء اور چشم کْشا دستاویز ہے، جس میں وطنِ عزیز کے اندر پائی جانے والی گورننس کی خامیوں، سرکاری اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت، اقتدار کے ایوانوں اور سِول بیوروکریسی کے درمیان اختیارات کے استعمال سے متعلق رسہ کشی اور بحیثیت مجموعی بیوروکریسی، سیاستدانوں اور عامتہ الناس کے مابین آئے روز پیش آمدہ معاملات، مصائب و مشکلات کی نہایت اچھے پیرائے میں منظرکشی کی گئی ہے اور اْن کے حل کے حوالے سے گائیڈ لائن دی گئی ہے۔