انصاف تجھے کہاں ڈھونڈوں؟

09:18 AM, 8 Oct, 2025

حبیب جالب نے بھی کیا خوب کہا ہے 
یہ قتل گاہیں یہ عدل گاہیں انہیں بھلا کس طرح سراہیں
غلام عادل نہیں رہیں گے غلط سزائیں نہیں رہیں گی
جب انسانی معاشروں میں انصاف اُٹھ جائے تو معاشرے اپنی موت آپ مرجاتے ہیں ۔پاکستانی نظام حکومت اور نظام زندگی میں انصاف کی عدم دستیابی کے باعث چار کھونٹ گھٹن ہی گھٹن نظر آتی ہے۔ ناانصافی محض تھانوں اور عدالتوں تک محدود نہیں۔آج قانو ن و انصاف طاقتور ارباب اختیار کی گھر باندی بنے بیٹھاہے۔عوام کا قانونی ، معاشی اورادارہ جاتی استحصال اپنے عروج پر ہے۔نظام کی بوسیدگی کے باعث ہرشعبہ ہائے زندگی زبوں حالی کا شکار ہے۔ عدل و انصاف کی انحطاط پذیری میں پولیس اور عدلیہ کے کردار پر آج ایک بہت بڑا سوال نشان موجود ہے۔دنیا کی عدالتی درجہ بندی میں پاکستانی عدلیہ جس نچلے مقام پر کھڑی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔رہی پولیس تو حالیہ سرکاری و غیر سرکاری رپورٹس نشاندہی کر رہی ہیں کہ یہ محکمہ پاکستان کا کرپٹ ترین اور شُتر بے مہار محکمہ بن چکا ہے۔پنجاب پولیس اس دوڑ میں گزشتہ کئی دھائیوں سے صف اول میں نظر آتی ہے اور اس پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال اس کا سانس پہلے سے زیادہ پھولا نظر آتا ہے۔عدلیہ سے نا انصافی کا کھیل اس وقت شروع ہوجاتا ہے جب پولیس کی جانب سے ایک غلط ایف آئی آر کا اندراج ہوتا ہے اور پھر اس کے تحت غلط تفتیش اور حقائق سے برعکس چالان عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب سپریم کورٹ نے بے گناہ ہونے کے باوجود نا حق کئی سال جیل میں رہنے والے ملزم کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔سپریم کورٹ میں جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ملزم سجاد حسین کی درخواست پر سماعت کی جس میں ملزم کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ملزم سجاد حسین پر کلاشنکوف سے فائر کرکے ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا لیکن ملزم سے کلاشنکوف بھی برآمد نہیں ہوئی۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم سجاد حسین کو سزائے موت سنائی تھی۔دورانِ سماعت جسٹس منظور ملک نے پوچھا کہ یہ واقعہ کتنے گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ واقعہ 56 گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حیرت کی بات ہے مدعی تھانے گیا پھربھی بروقت رپورٹ درج نہیں ہوئی، اس بندے کا کیا قصور ہے کہ اس نے اتنی بڑی سزا کاٹ لی؟ بعد ازاں عدالت نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمے سے بری کردیا۔
یاد رہے کہ اس طر ح کا ایک کیس سابق چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ کی عدالت میں بھی پیش ہوا تھاجہاں راضی نامہ ہونے کے باوجودایک ملزم 27 سال تک جیل میں بند رہا ۔سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے 27 سال بعد قتل کے مقدمہ کا فیصلہ جاری کردیا۔قتل کے مجرم کا راضی نامے کی بنیاد پر رہائی کا حکم نامہ جاری کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر معذرت بھی کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلٹ بینچ نے مجرم محمد اکرم کی اپیل پر سماعت کی۔وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ مجرم اور مقتول کے ورثاء کے درمیان راضی نامہ ہو چکا ہے، مجرم دیگر سزائیں کاٹ چکا ہے، ضلع خانیوال کے رہائشی مجرم محمد اکرم کو قتل کیس میں 13 اپریل 1997ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔حکم نامہ کے مطابق مجرم اور ورثاء کے درمیان 2018ء میں راضی نامہ ہوا تاہم عدالت میں مناسب معاونت نہیں کی گئی، عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مجرم کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ کے مؤکل کو اتنے سال جیل میں گزارنا پڑے اس کے لئے معذرت چاہتا ہوں، کچھ فیصلوں میں راضی نامے کی بنیاد پر بریت کے حق میں جبکہ کچھ فیصلوں میں راضی نامے کی بنیاد پر ملزم کو بری کرنے کی مخالفت میں فیصلے موجود ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس معاملے پر کسی اور کیس میں اصول طے کریں گے۔اسی طرح کا ایک انوکھا کیس سندھ ہائیکور ٹ میں بھی سامنے آیا تھا جہاں رہائی کے باوجود فیصلہ 18سال تک زیر التوا رہا۔ سندھ ہائیکورٹ نے سزا کے خلاف اپیل پر 18 سال بعد فیصلہ سنا یا۔ ملزم شاہ محمد کی 2 سال سزا کے خلاف اپیل عدم پیروی پر مسترد کر دی گئی۔ ملزم کو چاکیواڑہ پولیس نے بارہ گرام ہیروئن رکھنے پر 2003 میں گرفتار کیا تھا۔ عدالت میں ملزم کے وکیل نے بیان دیا کہ شاہ محمد مسلسل غیر حاضر اور رابطے میں نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر ذمہ دارانہ رویئے کی وجہ سے اپیل کو مزید زیر التوا نہیں رکھا جا سکتا، اس طرح کی درخواستوں سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ جیل حکام کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ جیل حکام کے مطابق ملزم 22 اپریل 2006 کو سزا مکمل ہونے پر رہا ہو گیا تھا۔ایسے میں لاہور پولیس نے بھی اپنے ایک ایس ایچ او کی "بے راہ روی ــ"  پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا خوب منطق پیش کی۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ڈیفنس سی کا ایس ایچ او ایک معروف ٹک ٹاکر جس کا حال ہی میں پولیس نے" سافٹ وئیر "  بھی اپ ڈیٹ کیا ہے،کے ساتھ" شیشہ نوشی ـ " کی محفل میں مصروف عمل نظر آتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لاہور پولیس اس کے خلاف کوئی سخت تادیبی کارروائی کرتی، پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور موصوف کے ایس ایچ او لگنے سے پہلے کی ہے ۔ یعنی تمام تھانیداروں کو پیغام ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے ایس ایچ او لگنے سے پہلے تک کرلو  تب تک سب کچھ معاف ہے۔

مزیدخبریں