گزشتہ سے پیوستہ صدی میں عالم اسلام کا انحطاط شروع ہوا۔ سلجوقی و عباسی سلطنتوں کے خاتمے کے بعد مغلوں کی عظیم الشان سلطنت بھی ختم ہو گئی حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم (1914-17) نے عثمانی سلطنت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ یورپی اقوام نے نو آبادیاتی نظام کے تحت ایشیا و یورپ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کر لیا۔ عثمانی خلافت کے انہدام میں تمام یورپی اقوام نے مل جل کر حصہ لیا جب عثمانی حکمران عسکری طور پر شکست کھا گئے تو یورپی اقوام نے عثمانی مقبوضات کی اس طرح بندر بانٹ کی جیسے بہت سے شکاری، آپس میں شکار بانٹتے ہیں بہرحال برطانیہ عظمیٰ نے جرمنی و فرانس کے ساتھ مل کر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ مسلمانوں کی سیاسی برتری کا خاتمہ ہی نہیں کیا بلکہ اسلامی تہذیب وتمدن کی بھی بیخ کنی کا اہتمام کیا۔ افریقی اقوام کو تو انہوں نے اس طرح غلام بنایا کہ انہیں صرف کھیتوں میں بگار کے لئے مختص کیا۔ ان ممالک کی معدنی دولت پر قبضہ بھی کیا اور اسے اپنے کارخانوں میں استعمال کر کے دولت کے انبار لگانے کے لئے استعمال کیا، انہیں اصل مسئلہ مسلمانوں کے ساتھ تھا جو تہذیب و تمدنی طور پر بھی بدتر تھے۔ عسکری وقتی طور پر بھی انہیں طویل عرصے تک غلبہ حال رہا تھا بہرحال پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے ساتھ ہی مسلمانوں کا سیاسی اقتدار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ یورپی اقوام صلیبی جذبے کے ساتھ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سینہ سپر ہو گئیں۔ دوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران ہٹلر نے یورپی اقوام کا بھرکس نکال دیا۔ برطانیہ کی عظمت گہنا گئی۔ اس جنگ کے دوران امریکہ ایک متبادل عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔
1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے ذریعے ایک یہودی ریاست کے قیام کی منظوری دے دی حتیٰ کہ 1948ء میں صہیونیوں نے خود ہی ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ وہ دن اور آج 8 اکتوبر 2025ء کا دن، خطہ عرب اسرائیل جنگ میں جل رہا ہے۔ صہیونیوں نے صلیبیوں کے ساتھ مل کر 500ملین عربوں کو خاک کے برابر کر دیا ہے۔ اسرائیل دنیا کی واحد ریاست ہے جس کی جغرافیائی حدود ابھی تک غیر واضح ہیں کیونکہ وہ ہر دن اپنی سرحدیں پھیلاتا جا رہا ہے۔ 1947ء کے تقسیم کے پلان کو ہوا میں اڑا کر وہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے بڑی یکسوئی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ دنیا کے بسنے والے ایک کروڑ 40/50لاکھ یہودیوں کا مرکز نگاہ یروشلم اور اس میں تعمیر ہونے والا تیسرا ہیکل ہے۔ دنیا کا امیر ترین یہودی خاندان روتھ چائلڈ اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی صہیونی تحریک کا معاون تھا۔ 1917ء میں اعلان بالفور کے ساتھ ہی دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے لئے کروڑوں اربوں ڈالر اسی خاندان نے مہیا کئے۔ فلسطینیوں سے مہنگی زمین خرید کر یہودیوں کو دینے اور پھر انہیں وہاں بسانے کے لئے درکار سرمایہ روتھ چائلڈ نے ہی فراہم کیا تھا، اس کے بعد اسرائیل کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی رقوم فراہم کی گئیں اور اب تیسرے ٹیمپل کی تعمیر کے لئے بھی یہی خاندان مصروف عمل ہے۔
اسرائیل نے عربوں کا اسلامی تشخص عرب نیشنل ازم کے فروغ کے ذریعے ختم کر دیا ہے۔ جنگ عظیم کے بعد عربوں کو 23 ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ان ٹکڑوں پر ایسے حکمران مسلط کر دیئے جو گوروں کے غلام تھے اور انہوں نے ترک خلافت کے خاتمے میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل کے عربوں کی عسکریت کا خاتمہ کر دیا۔ مصر، شام، عراق و دیگر اپنی پہچان کھو چکے ہیں۔ اخوان المسلمین کو ٹوڈی عرب حکمرانوں نے تہس نہس کر دیا ہے۔ اب نہ عربوں کی اسلامی پہچان باقی ہے نہ فکری طور پر ان میں مقابلہ کرنے کی سکت باقی ہے۔ عربوں میں اس وقت کوئی ایسی تنظیم موجود نہیں ہے جو صہیونی ریاست کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم و ستم سے روک سکے۔ اخوان المسلمین کی ہی باقیات ہے۔ حماس کے مجاہدین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل ناقابل شکست نہیں ہے۔ اس کا ہاتھ روکا جا سکتا ہے۔ اس سے ٹکرایا جا سکتا ہے۔ عربوں نے تو بڑی چھوٹی افواج اور جدید ترین آلات حرب و ضرب رکھنے کے باوجود اسرائیل کے ناپاک اور ناجائز وجود کے ساتھ رہنا قبول کر لیا ہے۔ 500 ملین سے زائد عرب 90 لاکھ سے بھی کم اسرائیلیوں سے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں، ان میں جرأت نہیں ہے کہ اپنے ہم مذہب فلسطینیوں کے قتل عام پر احتجاج کر سکیں۔ انہوں نے اپنے عوام کو دبا رکھا ہے۔ عرب حمران اسرائیل کے ساتھ باہم مل جل کر رہنے کا سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ اپنی حکومتوں کو بچانے کے لئے وہ امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے آزاد روی اپنانے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے کیا کہا تھا کہ آل سعود کی حکمرانی کا خاتمہ دو ہفتوں کی بات ہے، اس سے پہلے شاہ فیصل نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا تو امریکہ نے ان کے ساتھ کیا کیا، انہیں شہید کر دیا گیا۔ اب عرب حکمران اپنی بقا کے لئے مکمل طور پر امریکہ کے مرہون منت ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا فوجی ٹھکانہ قطر میں ہے یہاں 20 یا 25ہزار امریکی سپاہ بھی تعینات ہیں، بحری بیڑا بھی ہے، سیکڑوں جنگی جہاز بھی ہیں، جدید آلات بھی نصب ہیں، اس کے باوجود اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا۔ حماس قیادت کو مروانے کے لئے حملہ کیا۔ کہا جاتا
ہے کہ یہ حملہ امریکی آشیرباد کے ساتھ کیا گیا تھا۔ عرب حکمران کیا اس طرح بچ سکیں گے۔ گو تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہادر مصر میں آکر رک گئی تھی لیکن کیا یہ حسب ضرورت پھر شروع نہیں کی جا سکتی ہے؟ کیا امریکی پرچم تلے عرب حکمران اپنے عوام سے محفوظ ہیں؟ کیا عرب حکمران اسرائیل کے قہر و جبر سے بچ سکیں گے؟ اسرائیل اپنے عزائم کی راہ میں گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ملیامیٹ کرتا چلا آرہا ہے۔ صہیونی ریاست اسرائیل 1948ء میں اپنے قیام کے روز اول سے ہی پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ صہیونی قیادت گریٹر اسرائیل کے مجوزہ نقشے میں رنگ بھر رہی ہے، اس میں نشان زد ایک ایک انچ پر لشکرکشی کرتے ہوئے اسے ضم کر رہی ہے۔ غزہ اسی منصوبے کا حصہ ہے، اسے گریٹر اسرائیل کے نقشے کے مطابق صہیونی ریاست میں ضم کیا جانا طے ہے اور لگتا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ حماس گریٹر اسرائیل کے قیام کے راہ کی آخری چٹان ہے۔ جی ہاں آخر چٹان۔ جسے سب مل جل کر راستے سے ہٹانے میں مصروف ہیں لیکن حماس جو کچھ کررہی ہے جس طرح کر رہی ہے وہ عظیم اور ناقابل یقین ہے۔ تمام عربوں کی طرف سے وہ فرض کفایہ ادا کر رہی ہے، آخری چٹان ہے۔
حماس: گریٹر اسرائیل کی راہ میں آخری چٹان
09:16 AM, 8 Oct, 2025