وزیرِاعظم کی زیر صدارت 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے آگیا

01:23 PM, 8 Nov, 2025

اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِ قانون و انصاف نے کابینہ کی منظوری کے بعد میڈیا کو ترمیم کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔

ترمیم کے مطابق ملک میں سپریم کورٹ سے علیحدہ وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا۔ چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال اور ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال ہوگی۔ نئی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی تنازعات، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہوگا۔

عدالتی اختیارات میں تبدیلی کے تحت سپریم کورٹ کی کچھ آئینی اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گی اور ججز کی تقرری کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان ہوں گے۔

عسکری ڈھانچے میں بھی ترامیم کی گئی ہیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم، آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ اور فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے گا۔

وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری اور وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد بڑھانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ترمیم کے بعد بعض آرٹیکلز میں ترامیم اور کچھ آرٹیکلز کی حذف کی گئی ہے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیم کا مسودہ پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

مزیدخبریں