ملکوں کی تاریخ میں کارسیاست کے بے پناہ تجربات ہوتے رہے اپنے اپنے انداز سیاست سے سیاسی جماعتوں نے ملکی تاریخ پر اثرات مرتب کئے ....ان سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں سے عوامی مطابقت، موافقت اور مخالفت کے سبھی ادوار دیکھے گئے مگر یہ مطابقت وموافقت بھی قومی مفاد میں ہوتی تھی اور مخالفت بھی انفرادی سطح پرہی ہوتی تھی ....
بڑے بڑے سیاسی لیڈر ماضی میں بھی گزرے اور ہماری چشم دید گواہی میں طویل عرصہ تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہی رہیں یہ سچ ہے کہ ان کے اطراف جماعت اسلامی جمعیت الاعلمائے اسلام اور دیگر مذہبی وغیر مذہبی جماعتیں ملکی سیاست میں مصروف سیاست رہیں۔
بہت بہت بڑے سیاسی اختلاف اور ایک دوسرے کی پالیسیوں پر بے اندازہ تنقید ہوتی رہی بلکہ بعض مرتبہ تویہ تنقید تضحیک کی سرحدیں بھی عبور کرگئی لوگوں نے ٹی وی ٹاک شوز میں ایک دوسرے سے بدکلامی کی انتہابھی کی ذاتی حملے کئے مگر ایک داد بنتی ہے کہ ان مندرجہ بالا سیاسی جماعتوں نے ریاست مخالف کبھی کوئی بیان دیا اور نہ ہی وطن عزیز کے دشمنوں سے اظہار یکجہتی کیا پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ ن آپس اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملک دشمن فتنہ الخوارج کی بیخ کنی اور دہشت گردی کے خلاف سخت ترین عملی اقدامات ہی کی حامی رہیں کبھی ان ثابت شدہ دشمنوں سے مذاکرات کی بات نہیں کی جو بچوں کی گردنیں کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلتے ٹرینوں کی ٹرینیں الٹا دیتے پیپلزپارٹی نے تو خود بھی دہشت گردی کے ہاتھوں خاندان کا خاندان کھو دیامگر جب محترمہ بے نظیر کی میت سندھ نوڈیرو پہنچی تو وہاں سندھی لوگ بڑے رنج میں تھے اور مخالفت میں نعرے لگانے چاہتے تھے مگر آفرین ہے آصف علی زرداری نے ”پاکستان “ کھپے کا نعرہ لگاکر قومی مفاد کو شرانگیزی سے بچا لیا بفہہ میاں نوازشریف نے قیدوبند وجلاوطنی کی صعبتیں اٹھائیں والدہ اور بیوی کی علالت ورحلت میں پاس نہ ہوسکے مگر تمام تر تکلیفوں پر محض اشعار ہی پڑھے یہ نہیں کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو انتہائی نامساعد حالات میں پیسوں کی قسط روک دے یہ کارنامہ صرف اور صرف عمران خان نے کیا خط لکھ کر آئی ایم ایف کو پاکستان کو ڈیفالٹ کروانے کی پوری کوشش کی۔ اب خان صاحب کا ایجنڈا روز روشن کی طرح واضع ہوکر نظر آنا شروع ہوگیا تھا اگر وہ قومی منظر سے اور کچھ دن نہ ہٹتا تو پوری قوم اس کی کارسٹ اپروچ کے ہاتھوں تہہ وبالا ہوگئی ہوتی ۔
موصوف مینڈیٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے 2018ءکے دن دیہاڑے ڈکیتی شدہ دوسروں کا مینڈیٹ لے اڑنے پر کبھی شرمندہ نہیںہوئے۔ پاکستان کا ایک بازو الگ کرنے والی مجیب الرحمن کو ذہنی طورپر اپنا لیڈر مان کر چلنے والے اس ذہنی مریض نے ایک اور سانحہ کروا دینا تھا۔
یہ ماسٹر مائنڈ جہاں بنا تھا وہ اس کو صادق امین اور دوسرے تمام لیڈروں کو چور کہنے کا درس لے کر آیا تھا حالانکہ اس کے غیرملکی شوشل میڈیا اکاو¿نٹس چلانے والے کھلے ملک دشمن ایجنڈا بھی چلا رہے ہیں پاکستان کے قومی دنوں میں لوگ مناتے ہیں جھنڈے جلاتے ہیں بھارت کے ساتھ کھلی جنگ اور ایسی شاندار فتح جس پر اغیار کے ممالک بھی گواہی دیتے ہیں امریکی صدر بار بار تصدیق کرتا ہے سات سے آٹھ طیارے تباہ کرے گی مگریہ بدبخت اس ساری جنگ کو ہی نہیں مانتے جو ہم نے خود یہاں اپنے سروں پر چلتے ڈرونز اور اپنے جانبازوں کو رات رات بھر پروازیں دیکھ کر گزاری ہے اس میں یہ لوگ بھارتی پراپیگنڈہ کے ساتھ تھے جس کو خود بھارتی بھی ریجیکٹ کررہے تھے ....
انسانی رشتوں کی تقسیم دوہی طرح کی جاسکتی ہے خون کے رشتے یاپھر انتخاب کے رشتے موصوف دونوں میں بری طرح ناکام اس لیے ہیں کہ قریبی دوستوں سے بھی کبھی نہ بنی جوان کے مددگار تھے اور خاندانی عدم استحکام تو ویسے ہی سب کے سامنے ہے۔
لوگوں کو ووٹر بنانے کی بجائے مذہبی حدتک فالوورزبنانے کی کوشش کی گئی اپنا پیغام عوام تک پہنچانا کارکنوں کا فریضہ اولین کردیا گیا گستاخ گفتگو اور ہمہ وقت شرانگیزی میں نے ان کے منہ سے کبھی کسی ایک انسان کیلئے کلمہ خیر نہیں سنا بس توڑ دوپھوڑ دو گورنر ہاو¿س کی دیواریں ہو یا وزیراعظم ہو صرف شکستگنی کے نعرے لوگوں کو سادگی کا درس دینے والے ٹیکس پیئر کا نعرہ لگانے والا ٹیکس پیئر کے پٹرول پر دواڑھائی بجے ہیلی کاپٹر پر دفتر آتا تھااس کے چاہنے والے اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ سندھ اور پنجاب میں لاءاینڈ آرڈر درست ہے۔
اور پنجاب میں تو ہمہ وقت ترقی بھی ہورہی ہے ایک صوبہ خبیر پختونخواہ بدقسمتی سے مسلسل پی ٹی آئی کے پاس ہے اس کو کیوں نہیں آئیڈیل بناکر دکھایا گیا ؟ٹوٹی ہوئی سڑکیں قبل مسیح جیسے حالات صرف ایجیٹشن ،رولا ، دھرنے اور جلوس عوام کی بدقسمتی دیکھئے صرف نعروں سے بہلایا جارہا پورے صوبے کا ایک ہی مقصد مقدر کردیا گیا ہے خان کو رہا کروانا نہ کوئی ترقی نہ کوئی اور کام علی امین گنڈہ پور جتنا شولگا سکتا تھا لگایا مگر اب اس سے بھی زیادہ بڑے خوشامدی کو لایا گیا ہے خان کی بدقسمتی یہ ہے کہ نہ وہ خود کسی پر اعتبار کرتا ہے اور نہ ہی کوئی اس پر اعتبار کرتا ہے۔
ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ موصوف کو سیاسی نہیں سارے کرپشن کیسز میں سزاہوئی ہےوہ القادر ہو فرح گوگی ہو یا ملک ریاض کیوں گواہی دینے نہیں آتی باقی لیڈروں کو سیاسی کیسز میں سزائیں اور مقدمے ہوئے اور چل رہے ہیں کچھ انجام کو پہنچے مگر وہ سب چور ہیں اور جن کو تشہ خانہ جیسی کھلی چوری پر مردود ٹھہرایا گیا معصوم ہے دوسروں کو ان پڑھ کہنے والے خان خود ایک نیم خواندہ تعویز دھاگے کرنے والی کے دام میں مزاروں پر سجدے کرتے پائے گئے شدید تواہم پرست بندہ مقام بندگی پر کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ زلف کی اسیری مومن کی حکمرانی کا خواب کیسے دیکھ سکتی ہے ....یہ عجیب منطق ہے کہ میں وزیراعظم تو پاکستان ہے میں نہیں تو اس کے وجود ہی کو اڑا دو اس کے قومی تشخص ہی کے پرخچے اڑادو.... ہمیں اپنا پرانا قائداعظم والا پاکستان ہی عزیز ہے ہمیں ایسا نیا پاکستان کا خواب نہیں چاہئے جو یہودی ایجنڈے پر ہو....
”تاریک شخصیت“قومی سیاست کا المیہ
09:11 AM, 8 Nov, 2025