پولیس کے چند اعلیٰ افسران جن کی میں ہمیشہ دل سے عزت کرتا ہوں ان میں ایک ڈاکٹر طارق رستم چوہان بھی ہیں جو، اب ایڈیشنل آئی جی ہیں، ہمارا بہت پرانا تعلق ہے میرا خیال ہے یہ ان کی سروس کے ابتدائی دن تھے جب وہ اے ایس پی سٹی لاہور تھے، تھانہ ٹبی سٹی ان کے انڈر تھا، جس کے انڈر ہیرا منڈی کا علاقہ آتا ہے، ہمارے لاہور کے بے شمار تھانوں کے علاقے بدلے پر ہیرا منڈی آج بھی تھانہ ٹبی سٹی کا علاقہ ہے، ایک زمانے میں یہ بڑا کماو¿ تھانہ سمجھا جاتا تھا پولیس افسران ایس ایچ او ٹبی سٹی کو علاقے کے مطابق فوٹیکیں ڈالتے تھے، اب یہاں اتنی ویرانیاں ہیں اعلیٰ پولیس افسران ایس ایچ او ٹبی سٹی کو زیادہ سے زیادہ یہی فوٹیک ڈال سکتے ہیں پھجے کے سری پائے، کھدیں اور زبانیں وغیرہ بھجوا دو یا تاج محل یا لذت کدہ کا پوری حلوہ اور قیمے والے قتلمے بھجوا دو، پچھلے دنوں میں پھجے کے پائے کھانے گیا اچانک ایک بوڑھی عورت سے ملاقات ہو گئی، مجھے یاد آیا ایک بار میں دلدار پرویز بھٹی کے ساتھ اس کے گھر گیا تھا، یہ شاید 1994ءکی بات ہے، میں نے ا±سے نہیں پہچانا، اس نے مگر مجھے پہچان لیا، سلام دعا کے بعد میں نے اس سے کہا ”بی بی آپ کی بیٹیوں نے اتنا نام اور مال کمایا ہے آپ ابھی تک اسی علاقے میں رہتی ہیں، آپ بھی ڈی ایچ اے وغیرہ میں شفٹ ہو جائیں“، وہ کہنے لگی ”بٹ جی اللہ مینوں ایتھے عزت دی روٹی دے ریا اے میں اوس کنجر خانے ضرور جانا ایں؟“، اب میں خود ڈی ایچ اے شفٹ ہو رہا ہوں تو ا±س کی یہ بات س±ن کر ایک عجیب سا احساس شرمندگی مجھے ہو رہا ہے، خیر میں آپ کو ڈاکٹر طارق رستم چوہان کا بتا رہا تھا، وہ جب اے ایس پی سٹی تھے ہمارا ڈنر کا پلان بنا میں انہیں پک کرنے ان کے دفتر گیا جو تھانہ موچی گیٹ میں تھا، ا±نہوں نے بتایا محرم الحرام چل رہے ہیں ابھی اچانک ایس ایس پی صاحب کی کال آئی ہے ا±نہوں نے ایک میٹنگ کے لئے کہا ہے جس کے لئے ابھی مجھے تھانہ ٹبی سٹی جانا پڑے گا، تم بھی میرے ساتھ چلو، میٹنگ ب±ھگتا کے ہم ڈنر پر چلیں گے، ہم جب تھانہ ٹبی سٹی پہنچے ہیرا منڈی میں قیام پذیر بہت سے اہل تشیع وہاں موجود تھے، میٹنگ ختم ہوئی، ڈاکٹر طارق رستم چوہان واش روم میں گئے، ایک کاغذ میں نے میز پر دیکھا جس پر میٹنگ کے شرکاءکے دستخط تھے، چوتھے نمبر پر کسی نے ”مودا کنجر“ لکھا تھا، اس وقت تھانہ ٹبی سٹی کے ایس ایچ او آصف کمانڈو تھے، اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، بہت ہی ایماندار پولیس افسر تھے، بطور ڈی ایس پی اکثر پھٹیچر سے ایک سکوٹر پر میں انہیں گھومتے دیکھتا تھا، اندرون اچھرہ میں اڑھائی تین مرلے کا ان کا گھر تھا، آج بھی وہی ہے، میں نے ان سے پوچھا ”کمانڈو صاحب اس کاغذ پر چوتھے نمبر پر ایک دستخط کے طور پر کسی نے” م±ودا کنجر“ لکھا ہے“، وہ بولے ہاں یہ ہیرا منڈی کا ایک معروف سماجی کردار ہے، یہاں بسنے والے اکثر لوگ ا±سے ماما مودا کہتے ہیں، مگر وہ دستخط ہمیشہ یہی کرتا ہے، میں نے ا±ن سے کہا ”ابھی تو ہم کھانے پر جا رہے ہیں، کل میں آپ کے پاس آو¿ں گا آپ نے اس سے مجھے ملوانا ہے“، اگلے روز میں چلا گیا ا±نہوں نے پہلے سے اسے بلوایا ہوا تھا، میں نے ا±س سے پوچھا ”آپ دستخط میں مودا کنجر کیوں لکھتے ہیں؟ وہ بولے جب میں ہوں ہی کنجر تو میں یہ لفظ لکھنے اور کہلوانے میں کوئی عار کیوں محسوس کروں؟“، مجھے ا±س سے مل کر بہت خوشی ہوئی، میں نے سوچا ایک ہم ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے ہمارے اندر کا کنجر ہمیشہ چھپا رہے، ایک یہ شخص ہے منافقت سے مکمل طور پر پاک، جو ہے وہی اپنے بارے میں لکھنا، سننا اور کہلوانا پسند کرتا ہے، کچھ عرصے بعد روزنامہ نوائے وقت کے تحت شائع ہونے والے فیملی میگزین کے لیے میرا انٹرویو تھا جو ایک بہت نفیس صحافی گل فرزانہ نے کیا تھا، دوران انٹرویو انہوں نے مجھ سے پوچھا ”دنیاوی لحاظ سے آپ کیا آئیڈیل کون ہے“، میں نے فوراً ”مودے کنجر“ کا نام لیا، وہ بڑی حیران ہوئی، کہنے لگی”ا±س میں ایسی کون سی خوبی ہے؟“، میں نے کہا ”وہ خوبی جو مجھ میں نہیں ہے، یعنی ا±س کا کردار منافقت سے پاک کردار جو میں چاہتا ہوں میرا بھی ہو“، پھر گ±ل فرزانہ کو میں نے یہ سارا واقعہ سنایا، وہ بھی بڑی متاثر ہوئی، یہ واقعہ گزشتہ روز مجھے اس لیے یاد آیا میرے بھتیجے احمد جاوید کے قاتلوں نے اپنی پے در پے ناکامیوں کے بعد آخری حربے کے طور پر میری کردار کشی کی ایک مہم صرف اس لیے شروع کر رکھی ہے میں مظلوم باپ کا ساتھ چھوڑ د±وں جو ظاہر ہے میں اپنی فطرت کے مطابق کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا، ایک بدکردار وی لاگر کے بارے میں مجھے کسی نے بتایا اس کا تعلق ہیرا منڈی سے ہے، بلکہ میرے اس ”خیر خواہ“ نے اس وی لاگر کا آئی ڈی کارڈ بھی مجھے واٹس ایپ کر دیا، جس پر ہیرا منڈی کے قریبی علاقے کا ایڈریس تھا، آئی ڈی کارڈ بھجوانے والے سے میں نے کہا ”یہ شخص ہیرا منڈی کا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہاں مقیم منافقت اور جھوٹ سے پاک کچھ بہت ہی اعلیٰ کرداروں سے میں بہت اچھی طرح واقف ہوں، ا±ن کا ایک رکھ رکھاو¿ ہے، وہ کنجر ہونے کے باوجود اس گھٹیا لیول پر نہیں ا±تر سکتے، بہت سال پہلے ہمارے د±ور کے ایک عزیز نے دوسری شادی ہیرا منڈی میں قیام پذیر ایک خاتون سے کی تھی، ا±س کی یہ دوسری بیوی اس کی پہلی بیوی سے زیادہ نیک اور وفادار نکلی، پہلی بیوی اسے چھوڑ کر امریکہ بھاگ گئی، یہ ہیرا منڈی والی ابھی تک اس کے ساتھ ہے جس نے اپنے دو بچوں کو قرآن پاک بھی حفظ کرایا ہے، ہمارے اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب بڑے اعلیٰ انسان ہیں، میرا ا±ن سے تعلق بہت پرانا ہے جب وہ اے سی چنیوٹ تھے، یہ ا±ن کی سروس کا آغاز تھا، بعد میں اعلیٰ عہدے پر پہنچ کر وہ مستعفی ہو گئے اور اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے بذریعہ ”اخوت“ وقف کر دی، انہیں اب اس دور کا عبدالستار ایدھی سمجھا جاتا ہے، چند برس قبل انہوں نے ہیرا منڈی میں قیام پذیر عورتوں اور خواجہ سراو¿ں پر بڑا کام کیا تھا، وہاں رہنے والی بے شمار عورتوں لڑکیوں اور خواجہ سراوں کو انہوں نے محنت اور حلال کی کمائی پر لگایا، انہیں بڑے عزت مندانہ روزگار فراہم کیے، ڈاکٹر امجد ثاقب سے میں نے کبھی پوچھا تو نہیں پر مجھے یقین ہے میں جب ا±ن سے پوچھوں گا عزت مندانہ روزگار ملنے کے بعد ان خواتین اور خواجہ سراو¿ں کا کردار اب کیسا ہے؟ وہ ا±ن کے کردار کی تعریف ہی کریں گے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے جھوٹ اور منافقت سے بھرپور کچھ لالچی کردار جو احمد جاوید کے قتل کے بعد مجھ پر عیاں ہوئے، ہیرا منڈی کے بے شمار کردار ا±ن سے ہزار درجے بہتر ہیں، جیسے ”م±ودے کنجر“ کی میں نے مثال دی۔
ہیرا منڈی کے شاندار کردار
09:06 AM, 8 Nov, 2025