موسم خزاں پر نہ لکھنا بد ذوقی ہو گی ۔کہا تو یہی جاتا ہے کہ خزاں کے آتے ہی پتے جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں ہر طرف ویرانی چھا جاتی ہے لیکن ان سب باتوں کے بر عکس ہمارے دل کا حال تو کچھ مختلف ہے۔درختوں کے پتے جھڑتے ہیں تو جھڑتے رہیں لیکن خزاں کے آتے ہی ہمارے دل کے آنگن میں تو شگوفے پھوٹنے لگ جاتے ہیں کلیاں چٹخنا شروع ہو جاتی ہیں اس لئے کہ کہاں وہ گرمیوں کا موسم اور اس پر جون ، جولائی اور اگست کی حبس اور پھر مزید ستم یہ کہ جان لیوا بجلی کے بل۔اس کے مقابلہ میں خزاں کا موسم آتے ہی پسینہ تو ڈر کے مارے کہیں کسی کونے کھدرے میں دبک کر بیٹھ جاتا ہے اور بدبو صاحبہ تو اس قابل بھی نہیں رہتی کہ کسی کو منہ ہی دکھا سکے۔آپ رات کو سونے کے لئے بستر پر لیٹیں چند لمحوںمیں ہی آپ پر سکون نیند کی میٹھی آغوش میں چلے جائیں گے اس کے بعد بجلی میڈم آتی ہے یا جاتی ہے آپ کی بلا سے ۔لیکن خزاں اور اس کے بعد سردی کے موسم کی خصوصیات صرف یہاں تک محدود نہیں ہیں ۔یہ تو ایسے شریف اور سلجھے ہوئے موسم ہیں کہ ان کی مثال ملنا مشکل ہے ۔
یہ تو ہم نے ان موسموں کی نسبت بیان کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان موسموں کی شرافت کا اگر ذکر کریں تو وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اور جہاں تک گرمی کے موسم کا تعلق ہے تو اس کا تو دور دور تک شرافت سے کوئی تعلق نہیں ہے اندازہ کریں کہ جیسے ہی گرمی کا موسم شروع ہوتا ہے تو شریف سے شریف انسان بھی گریبان چاک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور آستین بھی اوپر چڑھ جاتی ہیں اس حلیہ میں شریف آدمی بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی سے لڑ کر آ رہا ہے یا کسی کا سر پھاڑنے جا رہا ہے ۔اس کے بر عکس سردی
کے موسم میں شریف انسان تو شرافت کے جامہ میں رہتا ہی ہے لیکن پرلے درجہ کا بد معاش بھی چاک گریبان بند کر کے شرافت کے دائرے میں رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بہت ہی زیادہ شوخا ہو اور اکڑ فوں دکھائے تو پھر نمونیہ کا ایک ہلکا سا جھٹکا اس کو گریبان ہی نہیں بلکہ مزید گرم کپڑے پہنا کر سمجھا دیتا ہے کہ بھائی میاں تم بد معاش ہو گے تو گرمیوں کے موسم میں، سردیوں میں اس طرح کی بد معاشیاں نہیں چلیں گی ۔
اب تھوڑی دیر کے لئے گرمی اور سردی کے پھلوں کا جائزہ لیں ۔آم ویسے تو سب کا دل پسند پھل ہے اور اسے پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے اور شاید اسی لئے یہ سب سے بدتمیز پھل بھی مانا جاتا ہے ۔بڑے دل گردے کے لوگ ہوتے ہیں جو آم کو سر محفل کھانے کا خطرہ مول لیتے ہیں ۔آپ جتنی مرضی احتیاط کر لیں لیکن پھر بھی آم کھانے کے بعد آپ کو ہاتھ منہ دھونا پڑ جاتے ہیں یہی حال تربوز اور خر بوزے کا ہے اور رہی فالسہ اور جامن کی بات تو اس میں منہ ہاتھ تو دھونا پڑتے ہی ہیں اور کپڑوں پر داغ الگ لگتے ہیں ۔یہاں پر رکیں اور سوچیں کہ آپ نے کبھی کسی جگہ پر پڑھا ہو یا سنا ہو کسی کہانی میں ناول میں یا فلم اور کسی ڈرامہ میں کہ کوئی لڑکی اور لڑکا آپس میں بیٹھے ہوں اور رومانوی باتیں ہو رہی ہوں اور ان پھلوں کا کوئی ذکر یا ان میں سے کسی پھل کو کھا رہے ہوں اس کے بر عکس سردی کے جو پھل ہیں جنھیں عرف عام میں خشک میوہ جات بھی کہا جاتا ہے ان کی کیا بات ہے اور خاص طور پر ان کی شرافت کے تو کیا کہنے ۔انجیر ، مونگ پھلی، بادام، پستہ ، اخروٹ ، خشک خوبانی ، کاجو ۔یہ سب کے سب اپنے موسم کی طرح اس قدر شریف ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی بد تہذیبی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ہاتھ منہ دھونے کی نوبت تو دور کی بات ہے یہ بیچارے تو اتنے شریف ہیں کہ سیانے کہتے ہیں کہ ان کے کھانے کے بعد پانی بھی نہ پیئے ورنہ کھانسی لگ جائے گی۔اب تھوڑی دیر کے لئے تصور کریں کہ آپ گرمیوں میں آم کھا رہے ہیں اور وہ آپ کے ہاتھ سے پھسل کر آپ کے کپڑوں پر جا گرا ہے تو اس کپڑے کو دھوئے بغیر تو چارہ ہی نہیں لیکن سردیوں کے پھلوں میں کیسی شرافت ہے کہ اگر آپ سخت سردی کے موسم میں لحاف میں بیٹھے ہیں ۔درجہ حرارت منفی میں ہے اورکمرے میں ہیٹر یا انگیٹھی ہے اور آپ مونگ پھلی بادام یا کاجو وغیرہ کھا رہے ہیں ۔اب اگر ان میں سے کوئی میوہ آپ کے ہاتھ سے گر جاتا ہے تو اس میں بھلا گھبرانے کی کون سی بات ہے ہاتھ بڑھائیں اور اٹھائیں اور کھا لیں ۔یہ کوئی بدتمیز پھل تو نہیں ہیں کہ آپ کو بستر سے نکل کر غسل خانے تک جا کر ہاتھ دھونے پر مجبور کر دیں۔
دنیا موسم بہار کی دلدادہ ہے شاعروں نے اس پر کیا کیا شاعری نہیں کی لیکن معذرت بہار کا موسم آتے ہی ہمارے دل کے آنگن کے پھول جو کھلے ہوتے ہیں وہ بھی مرجھا جاتے ہیں اس لئے کہ بہار کے بعد عذاب جان گرمی کا موسم آتا ہے کہ جس میں مہربانوں کی مہربانی سے ابر رحمت بھی اب ابر زحمت بن جاتا ہے کہ ادھر پہلی بوند ابھی زمین و آسماں کے درمیان ہے اور ادھر شہر کے آدھے فیڈر ٹرپ کر کے داغ مفارقت دے جاتے ہیں اور پھر ہم ہیں اور شہر حبس ہے دوستوں والی صورت بن جاتی ہے تو قارئین ایسی بہار اور برسات کا کیا کریں کہ جو جان کا عذاب بن کر ہر روز امتحان لیں اور جان کو ہلکان کر دیں تو بھائی آپ کو بہار مبارک ہو ہمیں خزاں میں خوش رہنے دیں۔
راحت جاں میرا موسم خزاں
08:55 AM, 8 Nov, 2025