فنکار لوگ

09:07 AM, 9 May, 2026

اگلے روز میں نے اپنی فیس بُک وال پر ایک وڈیو شیئر کی جس میں پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری ہمارے ایک سینئر فنکار عرفان کھوسٹ کو اُن کے بازو سے پکڑ کے اُنہیں سہارا دے کر اپنے دفتر سے شاید رخصت کر رہی ہیں، مجھے اُن کا یہ انداز بہت اچھا لگا، میں عظمیٰ بخاری کی سیاست کا زیادہ مداح نہیں ہوں، وہ روایتی سیاستدان ہیں جن کی یہ ”خوبی“ ہوتی ہے وہ جس جماعت میں ہوتے ہیں اُس کے سربراہان کی اندھا دُھند خوشامد کے تمام تقاضے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں، وہ جب پیپلز پارٹی میں تھیں نون لیگی راہنماو¿ں کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرماتی تھیں نون لیگ کا حوصلہ ہے اس کے باوجود نہ صرف پارٹی میں اُنہیں جگہ دی وزارت بھی دی، اپنی موجودہ پوزیشن کا حق ادا کرنے کی وہ پوری کوشش کرتی ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ایسی ایسی خوبیاں بیان فرماتی ہیں جنہیں سُن کر ممکن ہے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف یہ سوچتی ہوں میری ایسی خوبیوں کا عظمیٰ بخاری نے کہاں سے سراغ لگا لیا جو خود مجھے معلوم نہیں ہیں؟ البتہ یہ درست ہے جو محکمہ اُنہیں سونپا گیا ہے اُس کے ساتھ انصاف کی پوری کوشش وہ کرتی ہیں، انصاف کی ایسی ہی ایک کوشش سینئر فنکاروں کا ادب ہے جو ہمارے حکمران یا وزیر شذیر کم ہی کرتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے نامور گلوکار لالے عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے مجھ سے کہا وہ اپنے ایک ذاتی کام کے سلسلے میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں، میں نے جب عبدالعلیم خان سے بات کی اُنہوں نے فرمایا ”ہم خود اُن کی خدمت میں حاضر ہو جاتے ہیں“ پھر وہ دونوں میرے گھر آ گئے، لالے نے ابھی اپنی گزارش شروع کی تھی عبدالعلیم خان نے وہ سُنے بغیر ہی کہہ دیا آپ کا جو بھی حکم ہے ابھی اُس کی تعمیل ہو جائے گی اور ایسے ہی ہوا، عبدالعلیم خان کی کچھ خوبیوں کا میں پہلے ہی مداح تھا، اُن کے اس عمل سے میرے دل میں اُن کی قدر میں مزید اضافہ ہو گیا، لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی آج بھی اُن کی اس نیکی کا ذکر کرتے ہوئے اُنہیں ڈھیروں دعائیں دیتے ہیں، گو کہ ہمارے نامور فنکار سہیل احمد کسی ٹی وی شو میں ماضی کی اُس معروف گلوکارہ کا نام بتا چکے ہیں مگر میں اُن کا نام ظاہر کیے بغیر عرض کروں گا پچھلے دنوں وہ گلوکارہ سخت مالی پریشانیوں کا شکار تھیں، گھریلو حالات اس قدر خراب تھے وہ زندگی سے مکمل بیزار ہو چکی تھیں، ہمیں پتہ چلا نواز شریف اُن کے مداح ہیں، وہ آج بھی اُن کے گانے شوق سے سُنتے ہیں، میں نے کسی ذریعے سے نواز شریف تک اُن کے دُکھ پہنچائے، اُنہوں نے اپنے سٹاف کے ذریعے فوری طور پر اُن سے رابطہ کیا اور اُن کے سارے دُکھوں کا ازالہ کر دیا، اُنہیں سوا دو کروڑ روپے مالیت کا گھر بھی لے کر دیا، نواز شریف یا شریف فیملی کی سیاست سے آپ لاکھ اختلاف کریں، مگر اپنے فنکاروں اور قلم کاروں کے ساتھ اُن کی محبت کا یہ عالم ہے کسی فنکار (طارق عزیز) کو وہ قومی اسمبلی میں پہنچا دیتے ہیں، کسی ادیب کو سفیر بنا دیتے ہیں اور کسی کالم نویس کو مشیر اور سینیٹر بنا دیتے ہیں، دوسری طرف عمران خان ہے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے اُن کے لیے سب کچھ وقف کر دیا، اُن کے لیے ایسے ایسے گیت گائے جو اُن کی جیت کا سبب بنے مگر میری خواہش اور التجا کے باوجود میانوالی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ سے اُنہیں محروم رکھا حالانکہ وہ عائلہ ملک یا سمیرا ملک کے حلقے سے لڑنا بھی چاہتے تھے، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کو ذرا خاطر میں نہیں لائے، وہ آج بھی ڈٹ کے عمران خان کے ساتھ ہیں، اُن کی مشکلات پر اکثر آبدیدہ ہو جاتے ہیں، میں اکثر سوچتا ہوں دُنیا میں پاکستان کا نام ہمیشہ فنکاروں، شاعروں، ادیبوں، مصوروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں نے روشن کیا، سیاہ ست دانوں اور اُن کے آقاو¿ں نے تو زیادہ تر پاکستان کو بدنام ہی کیا مگر آپ دیکھ لیں ہمارے یہ سیاستدان کیسی عالیشان زندگیاں گزارتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہمارے فنکار کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں؟ جبکہ ہمارے ہمسایہ مُلک بھارت میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، اپنے مخالف پڑوسی مُلک کو بیشمار معاملات میں سبق سکھانا ضروری ہے مگر وہ اپنے فنکاروں کی جو قدر کرتا ہے کم از کم اس معاملے میں ہمیں اُس سے سیکھنے کی ضرورت ہے، فنکار سانجھے ہوتے ہیں، پچھلے دنوں جب آشا بھونسلے جی کی وفات پر کچھ ٹی وی چینلز نے اُن کی خدمات دکھائیں اس پر اُن ٹی وی چینلز کو پیمرا کی جانب سے نوٹس جاری کرنا کم ظرفی تھا، اللہ جانے ایسے اقدامات کر کے اپنے لیے جگ ہنسائی کا اہتمام ہم کیوں کرتے ہیں؟ مجھے یاد ہے ملکہ ترنم نورجہاں اور مہدی حسن کی وفات پر پورا ہندوستان سوگوار تھا، اس سوگواری میں اُن کا میڈیا بھی شامل تھا، لتا منگیشکر نورجہاں کے قدموں میں بیٹھتی تھیں، ہمارے گلوکار مہدی حسن کے بارے میں یہاں تک اُنہوں نے کہہ دیا تھا ”اُن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے“، ایسی کوئی بات ہماری کسی گلوکارہ نے اُن کے کسی گلوکار کے بارے میں کہی ہوتی اب تک غدار وطن ٹھہرا کر ہم اُسے موت کے گھات اُتار چکے ہوتے، ہم یاد رکھیں یا نہ رکھیں یہ حقیقت ہے وہ معاشرے دُنیا میں کبھی عزت نہیں پاتے جو اپنے فنکاروں اور دانشوروں کی عزت نہیں کرتے، ہندوستان سے ایک جنگ ہمیں اپنے اور اُن کے فنکاروں کو عزت دے کر بھی جیتنی ہے، ابھی حکومت پنجاب نے ایک ”فلم اتھارٹی“ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ کام اس سے پہلے کسی نے کرنا تو درکنار اس بارے سوچا بھی نہیں تھا، عظمیٰ بخاری آج کل اس سلسلے میں بیشمار سینئر فنکاروں سے مل رہی ہیں، اُنہیں عزت دے رہی ہیں، اُنہیں چاہیے وہ اس سلسلے میں کچھ جونیئر فنکاروں سے بھی ملیں جو ہمارے بعض سینئر فنکاروں سے زیادہ باصلاحیت ہیں، یہ ”فلم اتھارٹی“ اگر کچھ سیاہ سی لوگوں کی سیاہ کاریوں سے محفوظ رہ گئی، اسکا نظام صرف ثقافت سے وابستہ کچھ اہل لوگوں کے ہاتھ میں رہا مجھے یقین ہے پاکستانی ثقافت پر اس کے بڑے مثبت اثرات ہوں گے، سینما گھروں کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہو جائیں گی اور بے شمار معاملات میں ہمارے بے شمار فرسٹیٹیڈ لوگوں کو ایک ”تفریح“ زیادہ بچے پیدا کرنے کے علاوہ بھی مل جائے گی۔

مزیدخبریں