بنیان مرصوص کا ایک سال 

09:04 AM, 9 May, 2026

پاکستان کو اپنے ازلی دشمن پر فتح حاصل کئے ایک سال ہو گیا یا یہ کہہ لیں کہ ازلی دشمن کو شکست فاش دیئے ہوئے ایک سال ہو گیا ۔ دشمن کے تو آدھی درجن سے زیادہ جنگی جہاز جن میں رافیل جیسے جدید ترین جنگی طیارے بھی شامل تھے تباہ ہوئے ان طیاروں کی خبریں تو آج تک امریکہ کے صدر بین الاقوامی میڈیا کے سامنے دے رہے ہیں جبکہ 88اسرائیلی ڈرون تباہ کئے گئے اور پھر معاملہ یہاں پر ہی نہیں رکا تھا بلکہ پاکستان کی بہادر اور غیور افواج نے جب جوابی کارروائی شروع کی تو فقط پانچ گھنٹے لگے جی ہاں دشمن نے گھٹنے ٹیکنے میں صرف پانچ گھنٹے لگائے اور وہ بھی کس دشمن نے کہ جس نے تین دن تک اپنے میڈیا پر جھوٹ اور فیک نیوز کا طوفان بپا کئے رکھا تھا ۔ ان پانچ گھنٹوں میں پورے ہندوستان پر کیا کیا قیامتیں ٹوٹ پڑیں یہ ایک الگ داستان ہے اور دور حاضر میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ ہندوستان کی26 بڑی ملٹری ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا اور یہ تمام وہ ایئر بیسز تھیںکہ جن سے پاکستان میں کارروائی کی گئی تھی کہ جن میں اڑی ، پٹھان کوٹ ، ادھم پور ، آدم پور ، سورت گڑھ ، اونتی پورہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سب سے خطر ناک سمجھے جانے والے میزائل براہموس کے دو اڈوں نگروٹا اور بیاس کو بھی تباہ کیا گیا ۔ ان میں آدم پور کی بیس وہ تھی کہ جہاں پر ہندوستان کا مشہور زمانہ S-400ڈیفنس میزائل سسٹم موجود تھا جس کے متعلق ہندوستان کو بڑا مان تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی میزائل یا جنگی جہاز بری نیت سے اس کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا اور اگر ہو گا تو بچ کر نہیں جاسکے گا اور فوری مار گرایا جائے گا لیکن پاکستان کے شاہینوں نے جب اسے بھی تباہ کر دیا تو پھر اس کے بعد کہنے کو تو عجیب لگے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پانچ گھنٹے تک بلا خوف و خطر ہندوستان کی فضاﺅں پر حتیٰ کہ اس کے دار الحکومت دہلی پر بھی پاکستان کا کنٹرول تھا ۔ ان تمام اہداف کو فتح گائیڈڈ میزائل ون اور ٹو سے تباہ کیا گیا ۔ ہم نے اس فتح مبین کے بعد اپنی انہی تحریروں میں آرمی چیف عاصم منیر صاحب کے لئے فیلڈ مارشل کے اعزاز کا مطالبہ کیا تھا اور ہم بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے مطالبہ کو پذیرائی بخشتے ہوئے حکومت نے انھیں اس اعزاز سے نوازا ۔ 
جس طرح ہم نے کہا کہ دور حاضر میں اس طرح کی فتح کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ جس میں فقط پانچ گھنٹوں میں دشمن شکست کا اعتراف کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے اس لئے کہ آپ دیکھ لیں کہ روس جیسا طاقتور ملک اتنا وقت گذرنے کے باوجود بھی یوکرین کو جنگ بندی پر مجبور نہیں کر سکا اور ہماری اس بات کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ یوکرین کے پیچھے تو امریکہ سمیت بہت سی عالمی طاقتیں ہیں تو ہندوستان کے ساتھ بھی اسرائیل اور امریکہ تھے اور جب تک پاکستان نے جوابی کارروائی شروع کر کے ہندوستان کو دھول نہیں چٹوا دی اس وقت تک امریکہ نیوٹرل کا کردار ادا کر رہا تھا اور اسرائیلی ماہرین کے متعلق تو کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ پہلگام واقعہ کے وقت سے ہندوستان میں موجود تھے ۔ جب تک پاکستان نے جوابی کارروائی شروع نہیں کی تو اس وقت تک کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستان اس درجہ شاندار فتح حاصل کرے گا خود پاکستان میں کچھ ایسے بد بخت موجود تھے کہ جو اس جنگ کے انجام پر منفی تبصروں کے بعد سوالیہ نشان لگا رہے تھے لیکن خدائے بزرگ و برتر کی ذات نے لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان تمام بد خواہوں کی ناپاک خواہشات کے بر عکس پاکستان کو فتح مبین عطا کی ۔ اس کے علاوہ جو کھلے حقائق ہوتے ہیں ان سے تو انکارممکن ہی نہیں ۔ روس اور یوکرین کی مثال تو پرانی ہو گئی لیکن آپ غور تو کریں کہ ایران پر گذشتہ سال بھی جون 2025 میں اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے حملہ کیا اور متعدد ملکوں کی معاونت بھی اس میں شامل تھی لیکن پھر بھی وقت کی سپر پاور کو فتح حاصل نہیں ہو سکی اور اب تو ایران کے خلاف عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آدھی درجن سے زیادہ ممالک شامل ہیں لیکن فتح حاصل ہونا تو دور کی بات ہے الٹا پوری دنیا میں امریکہ کی شکست کے ڈھول بج رہے ہیں ۔ 
پاکستان نے تو کبھی اس کی چودھراہٹ کو قبول ہی نہیں کیا جبکہ حسینہ واجد کی حکومت کے بعد بنگلا دیش بھی اسے خطے کا چودھری تسلیم نہیں کرتا اور سری لنکا بھی پاکستانی موقف کا حامی ہے لیکن اب جس بری طرح پاکستان نے اسے شکست فاش دی ہے تو اس خطہ سے تو اس کی چودھراہٹ ختم ہوئی ہی ہے اس کے علاوہ دنیا بھر میں اور خاص طور پر عالم اسلام میں پاکستان کی عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں پاکستان کو ایک ثالث کی حیثیت سے پوری دنیا جس طرح خراج تحسین پیش کر رہی ہے اس طرح کی عزت بہت کم ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اندرون ملک بھی سیاسی استحکام کے حصول میں مدد ملی ہے اور قوی امید ہے کہ خدا نے چاہا تو اب پاکستان ہر میدان میں ترقی کی راہ پر گامزن نظر آئے گا ۔ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ جون 2025کی جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے تھے اور موجودہ جنگ میں تو تشکر پاکستان کے نغمے اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ یہ بھی ایک انوکھی مثال ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کے تین روزہ دورہ ایران کے دوران ایران نے ان کے لئے بھی ایک خوبصورت گیت دنیا کی نذر کیا۔ 

مزیدخبریں