آج نو مئی ہے اور کل دس مئی ہو گا۔ آگے پیچھے آنے والے یہ دونوں وطن عزیز کی سیاہ و سفید تاریخ میں بہت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ نو مئی سیاہ اور تاریک تاریخ کا نمائندہ ہے جبکہ دس مئی سفید اور روشن تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے۔ نومئی تو ایک ایسا دن ہے جسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن بھی کہا جائے تو کم ہے کہ اس کے ساتھ کچھ ایسے تکلیف دہ واقعات اور یادیں جڑی ہیں جنھیں کبھی وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ہمارا آج کا موضوع نو مئی کو رونما ہونے والے وہ واقعات نہیں جن کی وجہ سے اس دن کو قومی تاریخ کا سیاہ دن کیا جا رہا ہے بلکہ گزشتہ سال مئی کے پہلے ہفتے میں پاک بھارت جنگ کے حوالے سے عالمی برادری اور خاص طور پر عالم مغرب کا وہ رویہ ہے جسے نرم ترین لفظوں میں بھی دوغلا پن ہی کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال انھی دنوں میں وطن عزیز پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے تھے۔ بھارت کا جنگی بخار انتہا پر تھا۔ پاکستان پر پہلگام فالز فلیگ کا الزام لگا کر آپریشن سندور شروع کرنے کی تیاریاں جاری تھیں۔ بھارتی قیادت اچھل اچھل کر اور بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جواب میں پاکستان بھی مسلسل خبردار کیے جا رہا تھا کہ بھارت جو کر رہا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا لیکن اندھی طاقت کے نشے میں چور بھارت پاکستان کے انتباہ کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالے چلا جا رہا تھا کہ جیسے پاکستان کوئی چیز ہی نہ ہو۔ پاکستان نے اس دوران بھارت سے پہلگام واقعے کے ثبوت بھی مانگے اور تحقیقات کی پیش کش بھی کی جبکہ متعدد بار عالمی برادری کو بھی بھارت کو پاگل پن سے باز رکھنے کے لیے کہا لیکن بھارت نے پاکستان کی کسی بھی پیشکش یا مطالبے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور عالمی برادری نے حسب روایت اسی طرح کان لپیٹے رکھے جیسے وہ ہمیشہ کسی بھی عالمی تنازع پر کمزور فریق کے لیے لپیٹ لیتی ہے اور طاقتور فریق کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جب تک بھارت اپنی جنونیت کا مظاہرہ کرتا رہا، عالمی برادری نے یہی رویہ اپنائے رکھا۔
شاید عالمی برادری کا یہی خیال تھا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کچھ بھی نہیں کیونکہ بھارت کی عسکری قوت تو پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑی ہے جبکہ پاکستان ایک کمزور سا ملک ہے اور بھارت خدانخواستہ اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ پاکستان بھارت کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا حالانکہ پاکستان دنیا کو مسلسل آگاہ کرتا جا رہا تھا کہ ہم جوہری قوت ہیں اور ہمارا رد عمل بہت سخت ہوگا لیکن عالمی قوتیں اس بات کو بھی صرف ایک دھمکی ہی سمجھ رہی تھیں اور دونوں فریقوں کو معاملہ بات چیت سے حل کرنے پر زور دے رہی تھیں۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ معاملہ بات چیت سے سلجھانے کا مشورہ دینے کا مقصد اصل میں یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے آپ اپنی لڑائی خود لڑیں۔
آج بھی اگر کوئی پرانے اخبارات اور ویب سائٹس میں گزشتہ سال اپریل کے آخری اور مئی کے پہلے ہفتے کی خبریں تلاش کرے تو اسے امریکی صدر اور نائب صدر سمیت طاقتور مغربی ملکوں کے متعدد رہنماو¿ں کے ایسے بہت سے بیانات مل جائیں گے جن میں بھارت اور پاکستان کو اپنا معاملہ خود حل کرنے کی نصیحتیں کی جا رہی تھیں۔ عالمی رہنماو¿ں کے اس رویے سے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ دراصل اس تنازع میں بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ایک تو ان کی نظر میں بھارت پاکستان سے زیادہ طاقتور تھا اور وہ پاکستان سے جو بھی سلوک کرتا وہ ان رہنماو¿ں کے لیے قابل قبول تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بھارت کی بالادستی کی صورت میں انھیں اس خطے میں چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک حریف دستیاب تھا۔ اس لیے یہ رہنما غیرجانبدار ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے دراصل بھارت کا ساتھ دے رہے تھے۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ضروری ہو گیا تھا تاکہ بھارت کا دماغ ٹھکانے لانے کے ساتھ ساتھ غیرجانبداری کے پردے میں اس کی حمایت کرنے والوں کی بھی آنکھیں کھولی جا سکیں۔ چنانچہ جیسے ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا آغاز کیا اور رات کے اندھیرے میں پاکستان پر بڑا فضائی حملہ کیا تو پاکستان اس کا جواب دینے کے لیے پوری طرح مستعد تھا۔ پاک فضائیہ نے رافیل طیاروں سمیت اس کے کئی جنگی جہاز مار گرائے جن کی تعداد اس وقت فضائیہ کے ترجمان نے چھ بتائی تاہم فضائیہ ہی کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ تعداد چھ نہیں آٹھ تھی جن میں چار رافیل طیارے شامل تھے۔ یہ وہی رافیل تھے جن پر بھارت کو بڑا ناز تھا اور جن کی بھارت آمد پر اچھا خاصا جشن بھی منایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز پاکستان نے مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح ون میزائلوں کی مدد سے بھارت میں کئی عسکری تنصیبات کو تباہ کر ڈالا۔ بھارتی رافیل طیاروں کے گرنے اور فتح ون کے بھارت میں تباہی پھیلانے کی دیر تھی کہ عالمی برادری کو فورا ہوش آ گیا۔ وہی عالمی رہنما جو ایک دن پہلے تک اپنے معاملات بات چیت سے حل کرنے کے مشورے دے کر اپنی جان چھڑا رہے تھے، اب ایٹمی جنگ کے خطرے کی بو سونگھتے ہوئے اس معاملے کو ختم کرانے کے لیے بے تاب نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے تو جنگ بند کرا کر ہی دم لیا۔
پاکستان کی جانب سے اپنی طاقت اور مہارت کی ایک جھلک دکھانے کی دیر تھی کہ بھارت بھیگی بلی کی طرح چپ ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا اور پاکستان کو کمزور سمجھنے والے عالمی رہنما اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔ معرکہ حق کے بعد عالمی منظر نامے میں پاکستان اور بھارت کی حیثیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ بھارت جسے ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور سمجھا جا رہا تھا، اب وہ قطعی طور پر بے وقعت ہو چکا ہے اور شاید کبھی دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال نہ کر سکے۔ دوسری طرف پاکستان پوری دنیا کی آنکھوں کا تارا بن چکا ہے۔ یوں تو معرکہ حق کے بعد پاکستانی قیادت جہاں جہاں بھی گئی اس کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا تاہم پاکستان کی عالمی پذیرائی کی سب سے بڑی مثال امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے لوٹ کر واپس آئی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ معرکہ حق سے پہلے پاکستان اگر زمین پر تھا تو اس معرکے میں ملنے والی فتح مبین نے اسے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
معرکہ حق سے پہلے اور بعد
09:01 AM, 9 May, 2026