ہنٹا وائرس کے ممکنہ کیسز پر عالمی تشویش میں اضافہ

06:37 PM, 8 May, 2026

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر 12 ممالک کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنٹا وائرس کے کیسز ایک کروز شپ سے منسلک سامنے آئے ہیں، جہاں سے کچھ مسافر علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی مختلف ممالک کی جانب روانہ ہو چکے تھے، جس کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اب تک 5 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد میں شدید سانس کی بیماری جیسی علامات رپورٹ کی گئی ہیں۔ متاثرہ ممالک میں ترکیہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ اور امریکا سمیت متعدد ریاستیں شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور متاثرہ مسافروں کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی رابطوں کو بھی ٹریک کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کیسز میں اضافہ ممکن ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ہنٹا وائرس ایک خطرناک وائرل انفیکشن ہے جو عام طور پر چوہوں اور دیگر چوہا نما جانوروں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس آلودہ ذرات کے سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

اس کی علامات میں تیز بخار، شدید تھکن، پٹھوں اور سر میں درد، متلی، کھانسی اور بعض کیسز میں سانس لینے میں دشواری شامل ہیں، جو بگڑنے کی صورت میں پھیپھڑوں کی شدید بیماری کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں، تاہم بروقت طبی توجہ سے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر میں صفائی کا خاص خیال، چوہوں سے بچاؤ اور آلودہ مقامات پر کام کے دوران حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
 

مزیدخبریں