آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی اجازت نہیں دی جائے گی: مارکو روبیو

05:42 PM, 8 May, 2026

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو توقع ہے ایران کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کی تجاویز سامنے آئیں گی، جن سے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر مذاکرات کا راستہ نکل سکتا ہے۔

بین الاقوامی معاملات پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ پوپ لیو کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کیوبا کو مزید امداد دینے کے لیے آمادہ ہے، لیکن کیوبا کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو فورسز کی تعیناتی سے متعلق آخری فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جبکہ نیٹو میں تبدیلیوں اور اصلاحات پر پہلے ہی کام جاری تھا۔

ایران سے متعلق گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کی جانب سے تجاویز پر جواب موصول ہونے کی امید ہے، تاہم ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے ایران ایسی تجاویز دے جو سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے آغاز میں مددگار ثابت ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ “آپریشن فریڈم” اور “آپریشن ایپک فیوری” مختلف نوعیت کے اقدامات ہیں، جبکہ جنگ بندی کی صورتحال میں بھی دفاع کا حق برقرار رہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی مفادات پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر تسلط قائم کرنے یا بحری گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکا نے مؤثر ردعمل دیا تھا اور آئندہ بھی کسی بھی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
 
 
 

مزیدخبریں