اسلام آباد : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت خود کو جج، جیوری اور جلاد بنا کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بلاول نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کا حل ضروری ہے، اور اس مسئلے کا کوئی حل نہ ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ دو ہفتوں سے بھارتی جارحیت کو برداشت کر رہا ہے، اور بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ کوئی بھی شخص تب تک معصوم رہتا ہے جب تک کہ اسے گناہ گار ثابت نہ کیا جائے، اور بھارت کو الزام لگانے کے لیے ثبوت فراہم کرنے چاہیے اور کم از کم ایک مناسب ٹرائل کا عمل تو ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت پاکستان کی فوج کو نہیں، بلکہ عام شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بلاول نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے، اور کسی بھی آزاد ملک کا فرض ہوتا ہے کہ وہ جنگی حالات میں جوابی کارروائی کرے۔
آخر میں، بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنا کسی کے حق میں نہیں، اور یہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ انسانیت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے، جس کا اثر صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہ سکتا۔